جانی واکر: بس کنڈکٹر سے بالی ووڈ کے بے مثال مزاحیہ اداکار بننے تک کا سفر

بس کنڈکٹر کی ملازمت سے فلمی دنیا کے عظیم مزاحیہ اداکار بننے والے جانی واکر نے اپنی منفرد اداکاری، لازوال گیتوں اور 300 سے زائد فلموں کے ذریعے بالی ووڈ کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے اپنا نام ثبت کر دیا

<div class="paragraphs"><p>جانی واکر / سوشل میڈیا</p></div>
i

بالی ووڈ کی تاریخ میں جب بھی مزاحیہ اداکاری کا ذکر ہوتا ہے تو جانی واکر کا نام احترام اور محبت کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اپنی بے ساختہ اداکاری، منفرد اندازِ گفتگو اور شاندار مزاحیہ کرداروں کے ذریعے انہوں نے کئی دہائیوں تک ناظرین کو محظوظ کیا۔ 29 جولائی 2003 کو دنیا سے رخصت ہونے والے جانی واکر آج بھی ہندوستانی سنیما کے عظیم ترین مزاحیہ اداکاروں میں شمار کیے جاتے ہیں۔

جانی واکر کا اصل نام بدرالدین جمال الدین قاضی تھا۔ وہ 11 نومبر 1926 کو مدھیہ پردیش کے شہر اندور میں ایک متوسط مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے انہیں اداکاری کا شوق تھا، مگر حالات ایسے تھے کہ خوابوں کی تعبیر کے لیے پہلے روزگار کی تلاش ضروری تھی۔ 1942 میں ان کا خاندان ممبئی منتقل ہوا، جہاں والد کے ایک دوست، جو پولیس افسر تھے، کی سفارش پر انہیں بس کنڈکٹر کی ملازمت مل گئی۔

یہ ملازمت ان کے لیے محض روزی کمانے کا ذریعہ نہیں بلکہ فلمی دنیا تک پہنچنے کا ایک راستہ بھی ثابت ہوئی۔ وہ اپنے دلچسپ انداز میں مسافروں کو آوازیں دیتے، مزاح کرتے اور سب کو ہنسا دیتے تھے۔ ان کی یہی خوش مزاجی بعد میں ان کی شناخت بن گئی۔ اسی دوران ان کی ملاقات فلمی دنیا سے وابستہ شخصیات این اے انصاری اور رفیق سے ہوئی، جنہوں نے انہیں فلموں میں قسمت آزمانے کی ترغیب دی۔

کئی ماہ کی جدوجہد کے بعد جانی واکر کو فلم ’آخری پیمانہ‘ میں ایک مختصر کردار ملا، جس کے لیے انہیں 80 روپے معاوضہ ملا، جبکہ بس کنڈکٹر کی ماہانہ تنخواہ صرف 26 روپے تھی۔ یہی وہ لمحہ تھا جب انہیں یقین ہوگیا کہ ان کی اصل منزل فلمی دنیا ہے۔


ان کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ اس وقت آیا جب معروف اداکار بلراج ساہنی ان کی بس میں سفر کر رہے تھے۔ جانی واکر کی حاضر جوابی اور مزاحیہ انداز سے متاثر ہو کر بلراج ساہنی نے انہیں ہدایت کار گرو دت سے ملنے کا مشورہ دیا۔ گرو دت اس وقت فلم ’بازی‘ بنا رہے تھے۔ انہوں نے جانی واکر کی صلاحیت کو فوراً پہچان لیا اور فلم میں کردار دے دیا۔ 1951 میں ریلیز ہونے والی اس فلم نے انہیں راتوں رات ایک منفرد مزاحیہ اداکار کے طور پر شہرت دلائی۔

اس کے بعد جانی واکر گرو دت کے پسندیدہ فنکار بن گئے اور ’آر پار‘، ’مسٹر اینڈ مسز 55‘، ’پیاسا‘، ’چودھویں کا چاند‘ اور ’کاغذ کے پھول‘ جیسی کلاسک فلموں میں اپنی یادگار اداکاری سے ناظرین کے دل جیت لیے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ فلم ’ٹیکسی ڈرائیور‘ میں ان کے کردار کا نام ’مستانہ‘ تھا اور دوستوں نے یہی نام اختیار کرنے کا مشورہ دیا، مگر انہوں نے اس دور کی مشہور اسکاچ برانڈ ’جانی واکر‘ سے متاثر ہو کر یہی نام اپنا لیا، جو بعد میں ان کی مستقل شناخت بن گیا۔

جانی واکر نے صرف مزاحیہ کردار ہی نہیں نبھائے بلکہ ان پر فلمائے گئے گیت بھی بے حد مقبول ہوئے۔ ’اے دل ہے مشکل جینا یہاں، ذرا ہٹ کے ذرا بچ کے، یہ ہے ممبئی میری جاں‘، ’سر جو تیرا چکرائے‘، ’جانے کہاں میرا جگر گیا جی‘، ’میں بمبئی کا بابو‘، ’جنگل میں مور ناچا‘ اور ’میرا یار بنا ہے دولہا‘ جیسے نغمے آج بھی موسیقی کے شائقین کی یادوں کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بیشتر گیت محمد رفیع کی آواز میں ریکارڈ کیے گئے، جنہوں نے جانی واکر کے پردۂ سیمیں کے تاثر کو مزید نکھارا۔


انہوں نے تقریباً ایک درجن فلموں میں بطور ہیرو بھی کام کیا۔ فلم ’پیسہ ہی پیسہ‘ ان کی پہلی فلم تھی جس میں انہوں نے تین مختلف کردار ادا کیے، جبکہ 1967 میں ان کے نام سے فلم ’جانی واکر‘ بھی بنائی گئی۔ 1958 کی شہرۂ آفاق فلم ’مدھومتی‘ میں ان کی اداکاری کو بے حد سراہا گیا اور انہیں بہترین معاون اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ ملا۔ بعد ازاں 1968 میں فلم ’شکار‘ کے لیے بھی انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

ستر کی دہائی میں انہوں نے فلموں میں کام کم کر دیا کیونکہ ان کے مطابق فلمی کامیڈی کا معیار متاثر ہو رہا تھا۔ تاہم رشی کیش مکھرجی کی فلم ’آنند‘ میں ان کا مختصر مگر اثر انگیز کردار آج بھی یاد کیا جاتا ہے، جہاں انہوں نے راجیش کھنہ کے ساتھ ایک ایسا جذباتی منظر پیش کیا جو ناظرین کو ہنساتے ہنساتے سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔

جانی واکر کی شادی اداکارہ شکیلہ کی بہن نور جہاں سے ہوئی، جن سے ان کے چھ بچے ہوئے۔ 1986 میں انہوں نے اپنے بیٹے کو متعارف کرانے کے لیے فلم ’پہنچے ہوئے لوگ‘ بنائی، لیکن یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی۔ اس کے بعد انہوں نے فلموں سے تقریباً کنارہ کشی اختیار کر لی، البتہ گلزار اور کمل حسن کے اصرار پر 1998 میں فلم ’چاچی 420‘ میں مختصر کردار ادا کیا، جسے ناظرین نے خوب سراہا۔

پانچ دہائیوں پر محیط اپنے شاندار فلمی سفر میں جانی واکر نے 300 سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔ ان کا مخصوص انداز، معصوم مزاح اور دلکش اسکرین موجودگی انہیں دیگر مزاحیہ اداکاروں سے ممتاز کرتی ہے۔ 29 جولائی 2003 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کی فلمیں، مکالمے اور گیت آج بھی ثابت کرتے ہیں کہ حقیقی فنکار کبھی اپنے مداحوں کے دلوں سے رخصت نہیں ہوتے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔