بالی ووڈ کے تاریخ ساز مزاحیہ اداکار محمود: ٹافی بیچنے والے لڑکے سے 'کنگ آف کامیڈی' بننے تک کا سفر
بالی ووڈ کے عظیم مزاحیہ اداکار محمود کو ایک وقت اداکاری کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا، مگر اپنی بے مثال محنت اور صلاحیت کے بل پر وہ ہندی سنیما کے 'کنگ آف کامیڈی' بن کر امر ہو گئے

بالی ووڈ کی تاریخ میں اگر چند ایسے فنکاروں کے نام لیے جائیں جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری سے نسلوں کو محظوظ کیا، تو محمود کا نام سرِفہرست نظر آتا ہے۔ وہ صرف ایک مزاحیہ اداکار نہیں تھے بلکہ ایک ایسے ہمہ جہت فنکار تھے جنہوں نے اداکاری، فلم سازی، ہدایت کاری اور گلوکاری کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ 23 جولائی 2004 کو دنیا سے رخصت ہونے والے محمود آج بھی اپنی لازوال اداکاری کے سبب شائقین کے دلوں میں زندہ ہیں۔
محمود کی زندگی اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ کامیابی صرف صلاحیت کی مرہونِ منت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے غیر معمولی محنت، صبر اور مستقل مزاجی بھی درکار ہوتی ہے۔ ایک وقت ایسا بھی تھا جب فلمی دنیا کے بڑے ناموں نے انہیں صاف لفظوں میں کہہ دیا تھا کہ وہ کبھی اداکار نہیں بن سکتے، لیکن قسمت نے ان کے لیے کچھ اور ہی لکھ رکھا تھا۔
29 ستمبر 1933 کو ممبئی میں پیدا ہونے والے محمود علی کے والد ممتاز علی بامبے ٹاکیز سے وابستہ تھے، لیکن خاندانی پس منظر کے باوجود معاشی مشکلات نے بچپن ہی سے محمود کو زندگی کی سختیوں سے روشناس کر دیا۔ گھر کا خرچ چلانے کے لیے وہ ملاڈ اور ورار کے درمیان چلنے والی لوکل ٹرینوں میں ٹافیاں فروخت کیا کرتے تھے۔ بچپن سے ہی انہیں اداکاری کا شوق تھا اور وہ پردۂ سیمیں پر اپنی شناخت قائم کرنے کا خواب دیکھتے تھے۔
انہیں پہلی مرتبہ 1943 میں فلم ’قسمت‘ میں اداکار اشوک کمار کے بچپن کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا، لیکن یہ شروعات کسی کامیاب فلمی سفر کی ضمانت نہ بن سکی۔ اداکاری کے خواب کو زندہ رکھنے کے لیے انہوں نے ڈرائیونگ سیکھی اور فلمی شخصیات کے یہاں ڈرائیور کے طور پر کام کرنا شروع کر دیا تاکہ روزانہ اسٹوڈیوز تک رسائی حاصل ہو سکے۔
موسیقاروں اور فلم سازوں کے یہاں ڈرائیور کی ملازمت کرتے ہوئے وہ اداکاری کے مواقع کی تلاش میں رہے۔ ان کی زندگی نے اس وقت نیا موڑ لیا جب فلم "نادان" کی شوٹنگ کے دوران ایک جونیئر آرٹسٹ کئی بار ری ٹیک کے باوجود اپنا مکالمہ ادا نہ کر سکا۔ ہدایت کار نے وہ مکالمہ محمود کو ادا کرنے کے لیے دیا، جسے انہوں نے ایک ہی ٹیک میں مکمل کر دیا۔ اس کام کے عوض انہیں 300 روپے ملے، جو اس زمانے میں ان کی ماہانہ تنخواہ سے کئی گنا زیادہ تھے۔ یہی لمحہ ان کے لیے ایک نئے سفر کا نقطۂ آغاز ثابت ہوا۔
فلمی دنیا میں جگہ بنانے کی جدوجہد آسان نہیں تھی۔ اے وی ایم اسٹوڈیو کے اسکرین ٹیسٹ میں انہیں مسترد کر دیا گیا اور یہ رائے دی گئی کہ وہ نہ تو اداکاری کر سکتے ہیں اور نہ ہی کبھی اداکار بن پائیں گے۔ معروف ہدایت کار کمال امروہی نے بھی انہیں مشورہ دیا کہ اداکاری چھوڑ کر کوئی کاروبار کر لیں۔
شاید کوئی اور ہوتا تو مایوس ہو کر اپنے خواب کو دفن کر دیتا، لیکن محمود نے ان الفاظ کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ اپنی طاقت بنا لیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی صلاحیت کے بل پر ہی کامیابی حاصل کریں گے۔ ان کی محنت رنگ لائی اور فلم ’چھوٹی بہن‘ نے انہیں بطور اداکار ایک نئی شناخت عطا کی۔ بعد ازاں فلم ’سسرال‘ نے انہیں کامیڈین کے طور پر شہرت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ شوبھا کھوٹے کے ساتھ ان کی جوڑی ناظرین میں بے حد مقبول ہوئی۔
محمود نے صرف اداکاری ہی نہیں کی بلکہ فلم ’چھوٹے نواب‘ کے ذریعے آر ڈی برمن کو بطور موسیقار متعارف کرانے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ انہوں نے اپنے کرداروں میں تنوع پیدا کرتے ہوئے مزاح کے ساتھ منفی اور منفرد کردار بھی نبھائے۔ 1968 میں ریلیز ہونے والی فلم ’پڑوسن‘ میں ان کی اداکاری آج بھی ہندی سنیما کی بہترین مزاحیہ پرفارمنسز میں شمار کی جاتی ہے۔ ’ایک چتر نار‘ جیسے گیت نے انہیں ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔
اپنے تقریباً پچاس سالہ فلمی سفر میں محمود نے لگ بھگ 300 فلموں میں کام کیا اور تین مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ اپنے نام کیے۔ ان کی کامیابی کا راز صرف ان کا مزاحیہ انداز نہیں تھا بلکہ وہ جذبہ بھی تھا جس نے انہیں ہر ناکامی کے بعد مزید مضبوط بنایا۔
23 جولائی 2004 کو محمود اس دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ان کی زندگی آج بھی یہ سبق دیتی ہے کہ اگر انسان اپنے خواب پر یقین رکھے تو وہ ان تمام آوازوں کو غلط ثابت کر سکتا ہے جو اسے ناکام قرار دیتی ہیں۔ بالی ووڈ کے "کنگ آف کامیڈی" محمود اسی عزم، محنت اور فن کے سبب ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
(ان پٹ: یو این آئی)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
