اپنی صلاحیت سے بین الاقوامی شناخت قائم کرنے والی اداکارہ سچترا سین... یوم وفات پر خاص

سچترا سین نے ہندی فلم انڈسٹری میں قدم 1955 میں رکھا اور پہلی ہی فلم میں انھوں نے شہنشاہِ جذبات کے ساتھ کام کیا۔ یہ فلم تھی مشہور زمانہ ’دیوداس‘ جس میں انھوں نے پارو کا کردار ادا کیا تھا۔

سچترا سین
سچترا سین
user

یو این آئی

ممبئی: ہندوستانی سنیما میں سچترا سین کو ایک ایسی اداکارہ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جنہوں نے بنگلہ فلموں میں قابل تعریف اداکاری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی خاص شناخت قائم کی۔ سچتراسین کا اصل نام روما داس گپتا تھا اور ان کی پیدائش 06اپریل 1931کو پونا ( بنگلہ دیش )میں ہوئی تھی۔ان کے والد کرونوم داس گپتا ایک اسکول ہیڈ ماسٹر تھے۔سچتراسین نے ابتدائی تعلیم پونا سے حاصل کی تھی۔1947میں ان کی شادی بنگال کے مشہور صنعت کار آدی ناتھ سین کے بیٹے دیبا ناتھ سین سے ہوئی۔1952میں سچترا سین نے اداکارہ بننے کے لئے فلم انڈسٹری میں قدم رکھا اور بنگلہ فلم’’شیش کوتھا‘‘میں کام کیا۔حالانکہ فلم ریلیز نہیں ہوسکی۔

1952میں ریلیز بنگلہ فلم’’سارے چتر‘‘بطور اداکارہ ان کی پہلی فلم تھی۔اس فلم میں انہوں نے اتم کمار کے ساتھ پہلی بار کام کیا۔نرمل ڈے کی ہدایت میں بنی یہ فلم مکمل طورپر مزاحیہ عنصر لئے ہوئے تھی۔بہترین اداکاری اور اچھی مزاحیہ اسکرپٹ پر مبنی یہ فلم سپر ہٹ ثابت ہوئی۔اس کے بعد اس جوڑی نے کئی فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔ ان میں ہرانو سر اور سپتوپدی قابل ذکر فلمیں ہیں۔ 1957میں اجے کا رکی ہدایت میں بنی فلم ہرانو سر 1942میں ریلیز انگریزی فلم رینڈم ہارویسٹ کی کہانی پر مبنی تھی۔

سال 1955 میں سچترا سین نے ہندی فلم انڈسٹری میں بھی قدم رکھا۔ انہیں شرت چندر کے مشہور بنگلہ ناول ’’دیوداس ‘‘ پر مبنی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ ومل رائے کی ہدایت میں بنی اس فلم میں انہیں شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ فلم میں انہوں نے ’پارو‘ کے اپنے کردار سے شائقین کا دل جیت لیا۔ سال 1957 میں سچترا سین کو دو اور ہندی فلموں ’مسافر اور چمپاکلی میں کام کرنے کا موقع ملا۔ر شی کیش مکھرجی کی ہدایت میں بنی فلم مسافر میں انہیں دوسری بار دلیپ کمار کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا جبکہ فلم چمپاکلی میں انہوں نے بھارت بھوشن کے ساتھ کام کیا لیکن دونوں ہی فلمیں باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئیں۔

سال 1959 میں ریلیز بنگلہ فلم ’دیپ جولے جائے‘ میں سچترا سین کی اداکاری کے نئے طول و عرض ناظرین کو دیکھنے کو ملے۔ اس میں انہوں نے رادھا نامی نرس کا کردار ادا کیا، جو پاگل مریضوں کا علاج کرتے کرتے خود ہی بیمار ہو جاتی ہے۔ اپنے دکھ درد کو سچترا سین نے آنکھوں اور چہرے سے اس طرح پیش کیاجیسے وہ اداکاری نہ کرکے حقیقی زندگی جی رہی ہوں۔ 1969 میں اس فلم کا ہندی ریمیک فلم ’خاموشی‘ بھی بنائی گئی جس میں ان کے کردار کو وحیدہ رحمان نے سلور سکرین پر پیش کیا۔

سال 1960 میں آئی فلم ’بمبئی کا بابو‘ ان کے فلمی کیریئر کی دوسری سپر ہٹ ہندی فلم ثابت ہوئی۔ راج کھوسلا کی ہدایت میں بنی اس فلم میں انہیں دیو آنند کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا۔ اس جوڑی کو ناظرین نے کافی پسند کیا۔ 1963 میں فلم ’اتر پھالگنی‘ سچترا سین کی ایک اور اہم فلم ثابت ہوئی۔اسیت سین کی ہدایت میں بنی اس فلم میں انہوں نے ماں اور بیٹی کا ڈبل کردار نبھایا۔ اس میں انہوں نے ایک طوائف پننا بائی کا کردار ادا کیا جس نے اپنی وکیل بیٹی سپرنا کو صاف ستھرے ماحول میں پرورش کرنے کا عہد لیا ہے۔ اس فلم میں پننا بائی کی موت کا منظر ناظرین آج بھی نہیں بھول پائے ہیں۔

1963 میں سچترا سین کی ایک اور سپرہٹ فلم ’سات پاکے باندھا‘آئی ۔ اس فلم میں اپنی سنجیدہ اداکاری سے انہوں نے ناظرین کا دل جیت لیا اور اس فلم کے لئے ماسکوفلم فیسٹیول میں سرفہرست فلم اداکارہ کے ایوارڈسے نوازا گیا یہ فلمی دنیا کی تاریخ میں پہلا موقع تھا جب کسی ہندستانی اداکارہ کو غیر ممالک میں ایوارڈ ملا تھا۔ اس فلم کی کہانی پر 1974 میں فلم کورا کاغذ بنائی گئی تھی۔ 1975 میں گلزارکی ہدایت والی سپرہٹ فلم ’آندھی‘ آئی جس میں انہوں نے سنجیوکمار کے ساتھ کام کیا تھا اس فلم میں انہوں نے ایک سیاسی لیڈر کا کردار ادا کیا تھا ۔ اس فلم کا نغمہ ’تیرے بنا زندگی سے شکوہ تو نہیں‘ اور تم آگئے ہو نور آگیا‘ سدابہار نغموں کی فہرست میں شامل ہیں۔ سچترا سین نے 1978 میں بنگلہ فلم ’پرونوئے پاش‘ کے بعد فلم انڈسٹری چھوڑ دی اور رام کرشن مشن کی رکن بن گیئں اور سماجی کاموں میں مصروف ہوگیئں۔ 1972 میں انہیں پدم شری ایوارڈسے نوازا گیا۔ اپنی اداکاری سے شائقین کے درمیان خاص شناخت بنانے والی سچتراسین 17 جنوری 2014 کو اس دنیا سے رخصت ہوگیئں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔