امریش پوری نے ’موگیمبو‘ کے مشکل ترین کردار کو بخوبی نبھایا

اپنے زمانے کے مشہور ویلن کے این سنگھ امریش پوری کے آئیڈیل تھے۔ انہیں سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے آپ کو ویلن کے روپ میں ڈھالا اور وہ اس قدر کامیاب ہوئے کہ فلم انڈسٹری میں ویلن کو اہم مقام دیا جانے لگا

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

یو این آئی

22 جون یوم پیدائش پر خاص

ممبئی: بحیثیت ویلن فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے جومقام حاصل کیا وہ ان کی بہترین اداکاری اور سخت محنت کا نتیجہ تھا۔ پردۂ سیمیں کے وہ واحد ویلن تھے جن کے انتقال پر روزناموں نے صفحۂ اول پر خبر چھاپی اداریئے لکھے۔ اسٹیج سے اپنی اداکاری کا سفر شروع کرنے والے امریش پوری نے اپنی ایسی امیج بنائی کہ فلم میں ان کی موجودگی ناظرین کو سنیما ہال تک کھینچ لے جاتی تھی۔ بلندآواز، پرکشش شخصیت اور مکالموں کی بہترین انداز میں ادائیگی، چہرے کی سختی اور آنکھوں کے خوف کے سبب وہ ایک عرصہ تک بالی ووڈ میں بطور کھلنائک بے تاج بادشاہ بنے رہے۔

’’مُوگیمبو خوش ہوا‘‘۔۔۔۔۔ یہ الفاظ آج بھی لوگوں کے ذہن میں گونج رہے ہیں۔ فلم انڈسٹری میں امریش پوری نے موگیمبو کے مشکل ترین کردار کو جس خوبی سے نبھایا، وہ ان کی بہترین اداکاری، بلند قامت، بھاری بھرکم شخصیت، پاٹ دار آواز کی دین تھا۔ بغیرامریش پوری مسٹر انڈیا کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے اندر فن کارانہ صلاحیتیں کوٹ کوٹ کربھری ہوئی تھیں۔ جو رول بھی انہیں ملا، اپنی لاجواب اور بہترین اداکاری کے ذریعہ انہوں نے اسے امر بنا دیا۔

امریش پوری نے اپنے کیرئیرکا آغاز اسٹیج سے کیا۔ کئی برسوں تک وہ اس سے جڑے رہے۔ اس کے بعد انہیں فلموں میں کام کرنے کا موقع ملا۔ آہستہ آہستہ انہوں نے اپنی فن کارانہ صلاحیتوں سے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ ابتدا میں مختصر سا رول ادا کرنے والے اس شخص کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں ہوگا کہ وہ ایک دن شہرت کی بلندیوں کو چھولے گا اور ایک منجھے ہوئے اداکار کی شکل میں اپنی شناخت کرائے گا۔

انبالہ میں 22جون 1922 کو پیدا ہوئے امریش پوری کیریکٹر آرٹسٹ چمن پوری اور ویلن مدن پوری کے سب سے چھوٹے بھائی تھے۔ کالج کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے فلموں کا رخ کیا۔ لیکن بطور ہیرو مسترد کر دیئے جانے کے بعد وہ فطری طور پر بہت مایوس ہوئے۔ بادل نخواستہ انہوں نے اپنی معاشی ضرورتوں کی تکمیل کے لیے وزارت محنت میں ملازمت اختیار کرلی۔ لیکن ان کا دل اداکاری کی طرف ہی مائل رہا۔ آخر کار انہوں نے ایک دن ملازمت چھوڑ دی اور اسٹیج اداکاری کی طرف متوجہ ہوگئے۔ اسی دوران ان کی ملاقات ستیہ دیو دوبے سے ہوئی۔ اس ملاقات نے امریش پوری کی دنیا ہی بدل دی۔ ستیہ دیو دوبے بہترین ہدایت کار تھے۔ انہوں نے امریش پوری کی اداکاری کو دیکھ کر ان کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو بھانپ لیا۔ ڈرامہ، اندھا یگ، میں امریش پوری کی اداکاری سے متاثر ہوکر انہوں نے تقریباً 50 ڈراموں میں انہیں کام دیا اور ان کے اندر چھپی ہوئی فن کارانہ صلاحیتوں کواجاگر کیا۔ بقول ستیہ دیو دوبے: ،،امریش جی کے بارے میں کیا کہوں۔ بس اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہ ایک عمدہ ترین اداکار تھے،،۔

اپنے زمانے کے مشہور ویلن کے این سنگھ امریش پوری کے آئیڈیل تھے۔ انہیں سے متاثر ہوکر انہوں نے اپنے آپ کو ویلن کے روپ میں ڈھالا اور وہ اس میں اس قدر کامیاب ہوئے کہ فلم انڈسٹری میں ویلن کو اہم مقام اور رتبہ دیا جانے لگا۔ بقول گلشن گروور: ،،فلم انڈسٹری میں کھلنائک کو اہم مقام دلانے میں امریش پوری کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔ پہلے کھلنائک سیٹ پر ہی پنکھے کی ہوا کھاتے تھے۔ لیکن امریش پوری نے کھلنائکوں کے لیے وینٹی وین کی شروعات کی۔ آج انہیں کی بدولت فلمی دنیا وینٹی وین میں آرام کر پا رہے ہیں،،۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پران کے بعد فلم انڈسٹری ویلن کے تعلق سے ایک غیریقینی صورت حال سے دوچار تھی۔ ایک خلا سا محسوس کیا جا رہا تھا۔ اس وقت کوئی ویلن ایسا نہیں آرہا تھا جو پران کی کمی کو پر کرے۔ امریش پوری کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ انہوں نے نہ صرف اس کمی کو پورا کیا بلکہ جدید کھلنائکوں کے لیے باعث تقلید بھی بنے۔ امریش پوری کی خاص بات یہ تھی کہ وہ کسی بھی رول کو ادا کرتے وقت اس میں پوری طرح رچ بس جاتے تھے۔ کئی دفعہ ان کے لیے کردار خصوصی طور پر تیار کیے جاتے تھے اور اس میں اپنی پوری فن کارانہ صلاحیتوں کو انڈیل دیتے تھے۔ کسی بھی کردار کو ادا کرنے سے قبل وہ بڑے انہماک کے ساتھ اسے سمجھتے تھے اور نہ صرف پوری ایمان داری سے اس پر محنت کرتے تھے بلکہ اس رول میں رچ بس جاتے تھے۔ اگر وہ خطرناک ڈان کا کردار نبھاتے تھے تولگتا تھا کہ اس سے خطرناک ڈان ہوہی نہیں سکتا اور اگر وہ ایک ایمان دارپولیس افسر بنے تو ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ان سے زیادہ ایمان دار پولیس افسر کوئی ہوہی نہیں سکتا۔ ان کو کسی بھی رول کو ادا کرنے کا ملکہ حاصل تھا

ویلن کے کردار میں وہ بہت مقبول ہوئے اور شہرت ان کے قدم چومنے لگی۔ یہاں تک کہ وہ ایک فلم کے لیے ڈیڑھ کروڑ روپے تک معاوضہ لیتے تھے۔ انہوں نے ایمان دھرم، آکروش، غدر، دامنی، دیو، جانی دشمن، دوستانہ، کلیگ، شکتی، دھرم ستیہ، گاندھی، مسٹر انڈیا، شہنشاہ، وراثت، تری دیو، عجوبہ، سوداگر، مجھے کچھ کہنا ہے، دل والے دلہنیا لے جائیں گے، چائنا گیٹ، گردش، پردیس، چاچی 420، لال بادشاہ، کوئلہ، رام لکھن، گھائل، آج کا ارجن، میری جنگ، کرن ارجن، جھوٹ بولے کوا کاٹے، تال، ہلچل سمیت تقریباً دو سوفلموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھائے۔ حال ہی میں ریلیز ہوئی فلم کسنا میں بھی انہوں نے بہترین اداکاری کی لیکن افسوس کہ ان کی یہ آخری فلم ثابت ہوئی اور وہ اس فلم کا دیدار نہ کرسکے۔

پردے پر برائیوں کی ساری حدود توڑنے والا نیز غریبوں اور مظلوموں پرظلم کے پہاڑ توڑنے والا یہ شخص اپنی ذاتی زندگی میں انتہائی نیک انسان تھا۔ اکثروہ سماجی سرگرمیوں میں متحرک رہتے تھے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلم انڈسٹری سے جڑے لوگوں کی شادی کی خوشی ہو یا موت کا غم، امریش پوری شریک ہونے والوں میں پہلے شخص ہوتے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ زیادہ ترفلموں میں انہوں نے منفی رول ادا کیے۔ جہاں کچھ فلموں میں انہوں نے حساس اور جذباتی اداکاری کی، وہیں انہوں نے ،،چاچی 420،، اور،،مسکراہٹ،، میں مزاحیہ اداکاری کرکے ناظرین سے داد و تحسین وصول کی۔

12؍جنوری کو جب ان کا جسد خاکی جوہو کے وردان بنگلہ میں رکھا ہوا تھا تو پاس ہی نصیرالدین شاہ اور اوم پوری جیسے بڑے اداکار اس طرح کھڑے تھے جیسے وہ یتیم ہوگئے ہوں۔ یقیناً امریش پوری کا اس دارفانی سے کوچ کرجانا فلم انڈسٹری کے لیے ناقابل تلافی نقصان ہے۔ آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں، لیکن امید کی جاسکتی ہے کہ انہوں نے اپنی اداکاری کے ذریعے جو ان مٹ نقوش چھوڑے ہیں، نئے اداکار ان سے ضرور مستفید ہوں گے اور ان کی ایک ایک حرکات و سکنات جدید اداکاروں کے لیے مشعل راہ ہوگی۔