بیادِ مجروح سلطان پوری... چراغ دل کا جلاؤ بہت اندھیرا ہے

ساتویں دہائی کے آخرتک مجروح کے کئی ہم عصرفلمی نغمہ نگار دنیا سے وداع ہو چکے تھے۔ فلموں کا رجحان بھی تیزی سے بدلتا جا رہا تھا۔ ایسے دورمیں مجروح کو جب بھی موقع دیا گیا انھوں نے اپنی قلم کا لوہامنوایا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

اقبال رضوی

سال 1994 میں ان کی عمر 75 سال ہو گئی تھی۔ اس میں سے 50 سال فلمی نغمہ لکھنے میں گزر گئے۔ انھوں نے تقریباً 700 فلموں میں 3000 سے زیادہ نغمے لکھے اور پھر اس شاعر کو 1994 میں فلموں کے سب سے بڑے اعزاز ’دادا صاحب پھالکے‘ سے نوازا گیا۔ اس شاعر کا نام تھا مجروح سلطان پوری۔ ’دادا صاحب پھالکے‘ پانے والے وہ فلموں کے پہلے نغمہ نگار تھے۔ اس کے بعد بھی ان کی قلم نہیں ٹھہری، بلکہ آخری وقت تک وہ گیت لکھتے رہے۔

’غم دیے مستقل کتنا نازک تھا دل یہ نہ جانا‘ اور ’جب دل ہی ٹوٹ گیا تو جی کے کیا کریں گے‘ (شاہجہاں، 1945) سے لے کر ’آج میں اوپر، آسماں نیچے‘ (خاموشی- دی میوزیکل) تک نغموں کے جتنے رنگ مجروح سلطان پوری نے بکھیرے اتنے تو کئی نغمہ نگار مل کر بھی نہیں بکھیر سکے۔

یکم اکتوبر 1919 کو پیدا ہوئے اسرارالحسن خاں نے شاعری کے لیے اپنا نام مجروح رکھ لیا اور وہ اتر پردیش کے سلطان پور کے رہنے والے تھے، اس لیے مجروح سلطان پوری کے نام سے شہرت پائی۔ آزادی ملنے سے دو سال قبل وہ ایک مشاعرے میں حصہ لینے بمبئی گئے تھے اور تب اس وقت کے مشہور فلم ساز کاردار نے انھیں اپنی فلم ’شاہجہاں‘ کے لیے نغمہ لکھنے کا موقع دیا۔ اس فلم میں نغمہ نگار نوشاد کی موسیقاری میں مجروح نے 7 نغمے لکھے۔ ان میں سہگل کے ذریعہ گائے گئے دو نغمے ’غم دیے مستقل...‘ اور ’جب دل ہی ٹوٹ گیا...‘ تو وقت اور دور کی حدود کو پار کرتے ہوئے تقریباً 73 سال بعد آج بھی پسند کیے جاتے ہیں۔

پہلی فلم کے بعد مجروح کو پیچھے دیکھنے کی فرصت ہی نہیں ملی۔ مجروح سے پہلے ہندی فلموں میں نغمہ نگار کی شکل میں آرزو لکھنوی، کیدار شرما اور ڈی این مادھوک کی شہرت تھی۔ مجروح نے ان تینوں کے نغموں سے بہت کچھ سیکھا۔ انھوں نے یہ سیکھا کہ فلمی نغموں میں جتنی اہمیت لفظوں کی ہوتی ہے اس سے زیادہ اہمیت آواز کی ہوتی ہے۔ اور فلمی نغمے ایسی زبان میں ہی مقبول ہو سکتے ہیں جو عام لوگوں کے درمیان بولی جاتی ہیں۔

فلم در فلم الگ الگ موسیقاروں کی الگ الگ نسلوں کے ساتھ مجروح کا انداز بدلا بھی اور نکھرا بھی۔ وہ بڑی سے بڑی اور گہری سے گہری بات تک عام زبان میں لکھنے میں ماہر ہو گئے۔ ان کے لکھے ہٹ نغموں کی فہرست سازی کرنا مشکل کام ہے۔ وہ تنہا ایسے نغمہ نگار تھے جنھوں نے گیت، قوالی، بھجن، مجرا، کیبرے اور غزل سب لکھا۔ مجروح نے گیت کے اندر سوال و جواب لکھنے کی شروعات کی۔ اس کے علاوہ ان کے گیتوں کا مکھڑا بہت پرکشش ہوتا تھا۔ مثلاً ’تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے‘، ’چراغ دل کا جلاؤ بہت اندھیرا ہے‘، ’شامِ غم کی قسم کی قسم آج تنہا ہیں ہم‘۔

فلمی دنیا میں مجروح کی کامیابی کا سفر آسان نہیں رہا۔ وہ لیفٹ نظریہ کے پاسدار تھے اور اس کے سبب انھیں کافی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ انھیں دو سال جیل میں بھی گزارنے پڑے۔ مجروح کے طویل فلمی سفر میں ان کا ساتھ کئی موسیقاروں کے ساتھ رہا، لیکن سچن دیو برمن کے ساتھ انھوں نے کئی ہٹ نغمے دیے۔ ’پیئنگ گیسٹ‘، ’نو دو گیارہ‘، ’سجاتا‘، ’کالا پانی‘، ’بات ایک رات کی‘، ’تین دیویاں‘، ’جویل تھیف‘ اور ’ابھیمان‘ جیسی فلموں کے ذریعہ مجروح اور ایس ڈی برمن کی جوڑی نے فلمی موسیقی کو بہت خوشحال کیا۔

اور پھر جب ایس ڈی برمن کے موسیقار بیٹے راہل دیو برمن نے مجروح پر بھروسہ کیا تو فلمی نغموں کی جھولی میں ایک سے ایک نگینے جڑتے چلے گئے۔ ’پیا تو اَب تو آ جا‘، ’دلبر دِل سے پیارے دلبر‘، ’او میرے سونا رے سونا‘، ’چرا لیا ہے تم نے جو دل کو‘، ’آ جا پیا توہے پیار دوں‘، ’میری بھیگی بھیگی سی پلکوں پہ رہ گئے جیسے میرے سپنے بکھر کے‘ اور ’تم بن جاؤں کہاں‘ جیسے نغمے اس کی مثال ہیں۔

ساتویں دہائی کے آخر تک مجروح کے کئی ہم عصر فلمی نغمہ نگار دنیا سے یا پھر فلمی دنیا سے وداع لے چکے تھے۔ فلموں کا رجحان بھی تیزی سے بدلتا جا رہا تھا۔ ایسے دور میں مجروح کو جب بھی موقع دیا گیا انھوں نے اپنی قلم کا لوہا منوایا۔ ’کیا یہی پیار ہے، ہاں یہی پیار ہے‘، ’کیا ہوا اِک بات پر جو برسوں کا یارانہ گیا‘ اور ’ایسے نہ مجھے تم دیکھو سینے سے لگا لوں گا‘ جیسے نغمے لکھ کر مجروح نے ثابت کر دیا کہ وہ ہر دور کے نوجوان دلوں کے جذبات کو ظاہر کرنے میں ماہر تھے۔

نصف صدی تک اپنے نغموں سے ہندی فلموں کو خوشحال کرنے اور ہندوستانی فلم کی ترقی میں شاندار کردار نبھانے کے لیے 1994 میں انھیں ’دادا صاحب پھالکے‘ اعزاز سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز حاصل کرنے والے وہ پہلے نغمہ نگار تھے۔ 24 مئی 2000 کو ممبئی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ لیکن ان کے لکھے نغمے فلمی تاریخ کا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں۔