سعودی عرب: سرکاری استغاثہ کے اختیارات میں اضافہ، نیا نظام جاری

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر شیخ سعود المعجب نے اس حوالے سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزيز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا
user

قومی آوازبیورو

سعودی عرب میں پیر کے روز سرکاری استغاثہ (پبلک پراسیکیوشن) کا نیا نظام جاری ہو گیا ہے۔ اسی طرح فوجداری اقدامات اور بڑے جرائم کے تعین کے تحت حراست میں لیے جانے کی ذمہ داری سے متعلق نظام کے آرٹیکل 112 میں بھی ترمیم کی گئی ہے۔ اس کے نتیجے میں سرکاری استغاثہ خود مختار طور پر حراست میں لینے کا عمل مکمل کر سکے گی۔ اس سے قبل وزارت داخلہ کی مداخلت کے بغیر ایسا ممکن نہیں تھا۔

سعودی عرب کے پبلک پراسیکیوٹر شیخ سعود المعجب نے اس حوالے سے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزيز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا۔ المعجب کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں کابینہ کا فیصلہ عدالتی نظام کے لیے ایک بڑی پیش رفت ہے جس کے ذریعے عدلیہ اپنی ذمہ داریاں مکمل آزادی اور غیر جانب دارانہ طریقے سے ادا کرنے میں کامیاب ہو گی۔

المعجب کے مطابق نئے نظام کے اجرا کا مقصد سرکاری استغاثہ کے اختیارات کو مضبوط بنانا اور اس کے میکانزم کے قواعد و ضوابط کو راسخ بنانا ہے۔ یہ امر فوجداری انصاف کے تقاضوں کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ المعجب نے بتایا کہ کابینہ کا مذکورہ فیصلہ سعودی عرب کے ویژن (2030) پروگرام کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد شہریوں اور غیر ملکی مقیمین کے واسطے انصاف کو یقینی بنانا ہے۔