سعودی عرب: بیرون ملک سے آمد و رفت پر پابندی میں مزید ایک ہفتے کی توسیع

سعودی عرب نے 12 دسمبر کو کورونا کی ایک نئی شکل سامنے آنے کے بعد فضائی، بری اور بحری راستوں سے مملکت میں داخلے پر ایک ہفتے کے لیے پابندی عاید کر دی تھی۔ اب اس میں مزید ایک ہفتہ کی توسیع کردی گئی ہے۔

تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
تصویر بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ
user

قومی آوازبیورو

دبئی: سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کے ایک ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے کورونا وبا کی ایک نئی شکل سامنے آنے کے بعد بیرون ملک سے آمد و رفت پر پابندی میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔ ہنگامی نوعیت کی پروازوں کے سوا باقی تمام فضائی سروس، بری اور بحری گزرگاہیں بھی بند رہیں‌ گی۔

خیال رہے کہ سعودی وزارت داخلہ نے 12 دسمبر کو کورونا کی ایک نئی شکل سامنے آنے کے بعد فضائی، بری اور بحری راستوں سے مملکت میں داخلے پر ایک ہفتے کے لیے پابندی عاید کر دی تھی۔ سعودی عرب کی سرکاری نیوز ایجنسی 'ایس پی اے' کے مطابق وزارت داخلہ نے بتایا تھا کہ فضائی سروس میں عارضی پابندی میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ وزارت صحت نے متعدد ممالک میں کورونا وائرس (کوویڈ 19) کی نئی شکل کے پھیلاؤ کے بارے بعد احتیاطی تدابیر کے طور پر عارضی طور پر سفری پابندی کی سفارش کی ہے۔ جب تک اس وائرس کی نوعیت کے بارے میں طبی معلومات واضح نہیں ہو جاتیں، شہریوں کی صحت عامہ کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات تحت درج ذیل اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مسافروں کے لیے تمام بین الاقوامی پروازوں کو ایک ہفتے کے لیے معطل کر دیا گیا ہے، تاہم ہنگامی نوعیت کی پروازیں جاری رہیں ‌گی۔ عارضی فضائی پابندی کی مدت میں توسیع کی جاسکتی ہے۔ سعودی عرب میں موجود تمام غیرملکی جہازوں کو پرواز کی اجازت ہے۔ زمینی اور سمندری بندرگاہوں کے ذریعے حکومت نے سمندری اور بری گزرگاہوں کو بھی ایک ہفتے کے لیے سیل کر دیا ہے اور اس میں مزید توسیع کی جاسکتی ہے۔

اگر کوئی شخص یورپ یا کسی بھی دوسرے متاثرہ ملک سے مملکت میں آیا ہے تو اسے کم سے کم دو ہفتوں کے لیے اپنی قیام گاہ پر تنہائی میں رہنا ہو گا۔ اس دوران ہر پانچ دن بعد اسے اپنا طبی معائنہ کرانا ہوگا۔ اگر کوئی شخص وبا سےمتاثرہ ملک سے گزشتہ 3 ماہ کے دوران سعودی عرب پہنچا ہے تو اسے اپنا کووڈ- 19 کا ٹیسٹ کرانا ہو گا۔

(بشکریہ العربیہ ڈاٹ نیٹ)

قومی آواز اب ٹیلیگرام پر پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔


next