غزہ میں شدید سردی جان لیوا بن گئی، موسمِ سرما کے آغاز سے 15 سے زائد اموات

بارشوں اور تیز ہواؤں نے ان ہزاروں بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جو کمزور خیموں میں مقیم ہیں اور سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

یو این آئی

غزہ پٹی میں موسمِ سرما کی شدت اور مناسب پناہ و حرارتی سہولیات کی عدم دستیابی نے انسانی بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، جہاں سردی کے باعث بچوں اور بزرگوں سمیت درجنوں لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ فلسطینی طبی ذرائع نے اتوار کے روز بتایا کہ موسمِ سرما کے آغاز کے بعد سے غزہ پٹی میں شدید سردی اور خراب موسم کے باعث اموات کی تعداد 15 سے تجاوز کر گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر بچے اور بزرگ شامل ہیں، جو نامساعد حالات میں خیموں اور عارضی پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں۔

طبی حکام کے مطابق تازہ ترین واقعہ وسطی غزہ کے شہر دیر البلح میں پیش آیا، جہاں شدید سردی کے باعث ایک شیر خوار بچی دم توڑ گئی۔ اسی طرح دو ماہ کے بچے محمد وسام ابو ہربید کی بھی اتوار کی علی الصبح غزہ شہر میں سردی کے باعث موت واقع ہوئی۔ یہ واقعات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب طبی اور امدادی ادارے پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ ہیٹنگ کے مناسب وسائل کی کمی اور مسلسل خراب موسم ہلاکتوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔


جمعہ کی صبح سے غزہ پٹی شدید موسمی ڈپریشن کی زد میں ہے، جس کے باعث موسلا دھار بارشیں اور تیز ہوائیں چل رہی ہیں۔ اس صورتحال نے ان ہزاروں بے گھر افراد کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے جو کمزور خیموں میں مقیم ہیں اور سخت موسمی حالات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔

ذرائع کے مطابق، تیز ہواؤں نے متعدد مقامات پر نازحین کے خیمے اکھاڑ دیے، جس سے انسانی حالات مزید ابتر ہو گئے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کے مطابق امدادی وسائل کی قلت کے باعث متاثرہ خاندان شدید مشکلات سے دوچار ہیں، جبکہ فوری امداد نہ ملنے کی صورت میں جانی نقصان میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔