عرب ممالک

ایرانی تیل کی برآمدات نہیں تو خلیج فارس سے کسی کا تیل نہیں گزرے گا: حسن روحانی

ایرانی صدر حسن ر وحانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے لیے دباؤ بڑھایا تو پھر ان کا ملک خلیج فارس کے راستے کسی کا بھی تیل سپلائی نہیں ہونے دے گا۔

تصویر سوشل میڈیا

قومی آوازبیورو

ایران نے امریکہ کے ذریعہ پابندی عائد کرنے کے بعد پہلی مرتبہ امریکہ کو سخت دھمکی دی ہے ۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر امریکہ نے ایرانی تیل کی برآمدات روکنے کے لئے دباؤ بڑھایا تو پھر وہ خلیج فارس کے راستے کسی کا بھی تیل سپلائی نہیں ہونے دیں گے۔ امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ امریکی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ ایران کے میزائل پروگرام اور علاقائی اثر و رسوخ پر کنٹرول کے لیے ایرانی تیل کی برآمدات صفر پر لانا چاہتے ہیں۔

صدر حسن روحانی نے ایران کے شمالی شہر شاہرود کے دورے میں ٹیلی وژن پر دکھائی جانے والی ایک تقریر میں کہا کہ امریکہ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہم اپنا تیل فروخت کر رہے ہیں اورآئندہ بھی جاری رکھیں گے ، ان میں یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ ہمارے تیل کی برآمدات روک سکیں اور اگر جس دن انہوں نے ایرانی تیل کی برآمد روکنے کی کوشش کی تو پھر خلیج فارس کے راستے کسی کا تیل بھی نہیں گزرے گا۔

اس سے پہلے ماہ جولائی میں ایران کے پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر اسماعیل کوثری نے کہا تھا کہ اگر امریکہ نے ایرانی تیل کی فروخت پر پابندی لگائی تو تہران آبنائے ہرمز کے راستے تیل کی ترسیلات روک سکتا ہے۔

واضح رہے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے مئی میں ایران کے جوہری پروگرام پر کثیر ملکی جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کر لی تھی جس کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ امریکہ دوسرے ممالک سے ایران کے معاشی رشتے توڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ ایران کبھی بھی کسی پر سو فیصد بھروسہ نہیں کرتا ، چاہے دوسرے ممالک سے اس کے کتنے ہی اچھے تعلقات کیوں نہ ہوں۔