سعودی خواتین کے لیے خوشخبری، مرد سرپرست کی اجازت کے بغیر کر سکیں گی دنیا کی سیر

سعودی میڈیا کے مطابق اب ملک میں نئے قانون کے تحت 21 سال کی عمر کے بعد خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے مرد سرپرست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

یو این آئی

ریاض: سعودی خواتین اب مرد سرپرستوں کی اجازت کے بغیر دنیا کی سیر کر سکتی ہیں اور انہیں اپنے نابالغ بچوں کا سرپرست بننے کا حق بھی حاصل ہو گیا ہے۔ مقامی میڈیا نے جمعہ کے روز یہ اطلاع دی۔

روزنامہ ’عکاظ ‘ کے مطابق ’’ملک میں نئے قانون کے تحت 21 سال کی عمر کے بعد خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے مرد سرپرست سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اس سے قبل بالغ خواتین کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے والد، بھائی یا شوہر سے اجازت لینی پڑتی تھی‘‘۔ خواتین پر اس طرح کی پابندی کی دیگر ممالک میں سخت تنقید ہو رہی تھی۔ اخبار کے مطابق حالیہ قانون کے بعد خواتین، مردوں کی طرح اپنے بچے کی سرپرست ہونگی اور اب وہ اپنے نوزائیدہ بچوں کی پیدائش پر انتظامیہ کے متعلقہ دفتر میں رجسٹر کرا سکتی ہیں۔

سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے خواتین کے حقوق سمیت انسانی حقوق کی حالت تشویش ناک تھی۔ لیکن سال 2015 میں کنگ سلمان بن عبدالعزیز السعود کے اقتدار میں آنے کے بعد اس صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔ انہوں نے اپنے بیٹے محمد بن سلمان السعود کو اپنا جانشین قرار دیا۔ کراؤن پرنس نے انسانی حقوق کی صورت حال بہتر بنانے، بدعنوانی پر قدغن لگانے اور خواتین پر سے پابندی ہٹانے کی سمت میں کئی اہم قدم اٹھائے ہیں۔ کراؤن پرنس کے اصلاحی اقدامات کے تحت خواتین کو فوج میں بھرتی ہونے، گاڑی چلانے اور کھیلوں کے پروگراموں میں شامل هونے کا حق مل گیا ہے۔

Published: 2 Aug 2019, 12:10 PM