کیا ہم قربانی کی اصل روح سے واقف ہیں اور کیا بکرا قربان کرنا ضروری ہے؟

لفظ قربانی کو جانور کے ذبح کرنے سے یوں منسلک کر دیا گیا ہے کہ اس کے اصل معنی اور اس سے جُڑے جذبے کی اہمیت کم ہو گئی ہے۔ عید پر لاتعداد جانور قربان کیے جاتے ہیں۔ کیا ہم قربانی کی اصل روح سے واقف ہیں؟

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا

ڈی. ڈبلیو

کشور مصطفیٰ کا تبصرہ

مسلم معاشروں میں اکثریت سال میں دو عیدیں بڑے جوش و خروش سے مناتی ہے۔ چھوٹی عید جسے ماہ رمضان کے اختتام پر منائی جاتی ہے اور بڑی عید جسے ذی الحج کے مہینے میں لاتعداد جانوروں کی قربانی کے ساتھ منائی جاتی ہے۔

تعجب کی بات یہ ہے کہ مغربی دنیا میں مسلمانوں کے ہاں بقرعید کے موقع پر جانوروں کی قربانی کو کافی حد تک دقیانوسی اخلاق و اقدار سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ اس بارے میں تاریخی حقائق کی لاعلمی ہے۔

جانوروں کو قربان کرنے کا رواج قبل از اسلام عرب دنیا میں پایا جاتا تھا۔ یہودیت میں کسی مادی فائدے یا کسی چیز کے حصول کی خواہش کی تکمیل اور خدا کو راضی کرنے کے لیے جانور کی قربانی دینے کا رواج پایا جاتا تھا۔ عیسائیت تک میں خون سے دی گئی قربانی کی اہمیت بہت زیادہ رہی ہے۔ دیگر قدیمی ادیان میں بھی یہ تصور پایا جاتا تھا کہ خُدا کے غضب سے بچنے کے لیے قربانی دی جائے جس میں خون بہانا ضروری سمجھا جاتا تھا۔

اسلام میں تصور قربانی

'غضبناک خُدا‘ کو خوش کرنے کا تصور اسلام میں اس سے قبل کے ادیان کے برعکس نہیں پایا جاتا۔ اس کے بجائے اسلام میں اپنی ذات اور خواہشات کو مکمل طور پر خدا کے تابع کرکے اُس کی قربت حاصل کرنا عقیدے کی اصل روح ہے۔

ہر انسان اپنے گناہوں کا ذمہ دار ہے اور اس کے گناہوں کی معافی کسی جاندار کا خون بہا کر حاصل نہیں کی جا سکتی۔ نہ ہی اس سلسلے میں قرآن میں کوئی آیت پائی جاتی ہے۔ اسلام میں قربانی کا مفہوم اپنی انا اور ذاتی یا انفرادی خواہشات کو خُدا کے تابع کر دینا ہے۔ قرآن میں جن آیات میں جانوروں کی قربانی کا ذکر آتا ہے اُن آیات کو اُن کے نزول کے وقت، حالات اور مقام کے پس منظر میں دیکھا جانا چاہیے۔

مسلمان جانوروں کی قربانی کر کے خدا کی نعمتوں اور رزق کا شکرانہ ادا کرتے ہیں جس میں دیگر انسانوں کا حصہ شامل ہونا چاہیے۔ یہ جذبہ ہر انسان میں ہونا چاہیے کہ پیدا کرنے والے نے جن نعمتوں سے نوازا ہے اُن پر دیگر انسانوں کا بھی حق ہے اور دین کی روح سے اپنے مال اور اپنی عزیز چیزوں کو ایسے افراد کے ساتھ بانٹنا فرض ہے، جو ان نعمتوں سے محروم ہوں۔ جنہیں مستحقین کہا جاتا ہے۔

قربانی میری نگاہ میں

ہر سال جب میں کروڑوں مسلمانوں کو جانوروں کی قربانی دیتے دیکھتی ہوں تومتعدد سوالات بار بار مجھے جھنجھوڑتے ہیں ۔ کیا سال میں ایک بار اپنے مال میں سے جانور خرید کر اور اُس کا خون بہا کر ہم خدا کی قربت حاصل کر لیں گے؟ کیا گوشت تقسیم کرنے سے مستحقین کی ضروریات پوری ہو جائیں گی؟ کیا جانور کی قربانی ہمارے نفس، ہماری خواہشات ہماری کسر نفسی کے تقاضوں کو پورا کرتی ہے؟

اس سال بھی لگ بھگ دو ملین مسلمان اپنے دینی فریضے، یعنی حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں جمع ہوئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قریب دو ملین جانوروں کی قربانی محض سعودی عرب میں ہوگی۔ قربانی کا گوشت زمین میں دفنا دیا جائے گا کیونکہ اتنی مقدار میں اس گوشت کی کسی دوسرے ملک تک ترسیل ممکن ہی نہیں۔ اس کا مطلب ہوا کہ یہ گوشت مستحقین تک نہیں پہنچ سکتا۔

اُدھر بقر عید کے موقع پر غیرعرب مسلم دنیا میں دیکھ لیجیے، جس طرح جانوروں کا کاروبار اور ان کی قربانی کا کاروبار گرم ہوتا ہے وہ نا تو قربانی کے تصور کے عین مطابق ہے نا ہی اُن مستحقین کی اصل ضروریات پورا کرتا ہے، جن کے گھروں میں غربت کے سبب بیماریوں اور افلاس کے سوا کچھ موجود نہیں ہوتا۔

کیا قربانی کا گوشت دنیا کے ان لاکھوں کروڑوں نہتے مسلمانوں کی عمر بھر کی محرومیوں، بھوک و افلاس، جہالت اور غربت کا حل ہے جن کی زندگیوں میں اندھیرے کے سوا کچھ نہیں۔ کیا یمن، شام، لیبیا، افریقی ممالک کے بحران زدہ علاقوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے والوں کے لیے دنیا کے دوسرے سب سے بڑے مذہب 'اسلام‘ سے تعلق رکھنے والوں کی جانوروں کی یوں قربانی کسی کام کی ہے؟

کیا ایک دن گوشت تقسیم کر کے ہم اپنے رزق اور اپنے مال میں اُن لوگوں کو شریک کر سکتے ہیں جن کے ہاں مریضوں کے علاج کے لیے پیسے نہیں اور بچوں کا پیٹ پالنے اور اُنہیں پینے کا صاف پانی تک فراہم کرنے کے ذرائع موجود نہیں؟ کیا ہم ہزاروں روپے کے بکرے یا دیگر جانور کو اس لیے قربان کر رہے ہیں کہ ہمیں اپنے مال میں سے مستحقین کا حق ان تک پہنچانا ہے یا یہ معاشرتی نمود و نمائش کا حصہ ہے۔

اگر قربانی کا حق ادا کرنا ہے تو سال کے ایک دن نہیں ہر روز ہمیں اپنی کمائی میں سے اپنی حیثیت کے مطابق کسی مستحق کی کسی ضرورت کو پورا کرنا چاہیے۔ پاکستان جیسے معاشرے میں جہاں پینے کے صاف پانی اور صحت عامہ کی سہولیات عام لوگوں کے لیے موجود نہیں، جہاں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے شہریوں کو بھی اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے ساتھ اپنی اولادوں کو بنیادی تعلیم تک فراہم کرنے میں بے حد دشواریوں کا سامنا ہے، جہاں لڑکیوں کی شادی اور بیمار اور ضعیف والدین کا علاج معالجہ خاندانوں پر بوجھ بنا ہوا ہے، وہاں جانور کی قربانی کر کے یہ سمجھ لینا کہ ہم نے قربانی کا حق ادا کردیا، یہ سوچ میرے فہم سے باہر ہے۔

Published: 10 Aug 2019, 9:10 PM