
دو دن پہلے اتر پردیش کے ضلع اوریہ میں ایک دردناک سڑک حادثہ ہوا تھا جس میں گھر واپس جاتے ہوئے 24 مزدور ہلاک ہوئے تھے اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ ان مزدوروں کا تعلق بہار، جھارکنڈ اور مغربی بنگال سے تھا۔ اتر پردیش کی انتظامیہ نے ہلاک ہوئے مزدوروں کی لاشوں کو ان کے گھر بھیجنے کا انتظام کیا تھا۔ یہ تو تکلیف دہ بات ہے ہی کہ اگر حکومت زندہ رہتے ہوئے ان مزدوروں کی گھر واپسی کا انتظام کر دیتی تو ان غریب مزدوروں کی جان بچ جاتی، لیکن اس سے بھی زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے انسانیت کی تمام حدیں پار کرتے ہوئے زخمی مزدوروں کو ان ٹرکوں میں واپس پھیجا، جن میں انہوں نے لاشوں کو بھیجا تھا۔ جھارکھنڈ کے وزیر اعلی ہیمنت سورین نے جب اس تعلق سے ٹوئٹ کیا تو پھر اے بی پی نیوز چینل نے بھی اس کی خبر دکھائی۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلی دنیش شرما نے اس معاملہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملہ کی جانچ کروائیں گے۔
سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم نے حکومت کے بیس لاکھ کوڑ روپے کے اقتصادی پیکج کو غریبوں کے لئے ایک دھوکا قرار دیا ہے۔ ویڈیو کے ذریعہ صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے چدمبرم نے موجودہ حکومت کو موقع پرست قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ موجودہ اقتصادی پیکج سماج کے مرعات یافتہ طبقہ کو مزید فائدہ پہنچانے کے لئے استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا موجودہ حالات میں مقننہ اور اس سے جڑی کمیٹیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے فیصلے لئے جا رہے ہیں۔ چدمبرم نے کہا کہ موجودہ پیکج میں ایک فیصد سے بھی کم غریب کورونا متاثرین کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا موجودہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہر شعبہ میں ایف ڈی آئی یعنی بیرون سرمایہ کاری کو پوری طرح کھول دیا گیا ہے اور پبلک سیکٹر انڈرٹیکنگ کو بھی نجکاری کی جانب ڈھکیلا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا بیرونی سرمایہ کاری سے ہم خود کفیل ہوں گے۔
کرناٹک، دہلی سمیت کئی ریاستوں نے لاک ڈاؤن 4 سے متعلق جاری مرکز کی گائڈ لائنس کا نفاذ کرتے ہوئے بہت ساری چھوٹ دے دی ہیں۔ نئے نرم ضوابط کے بعد سڑکوں پر بھیڑ لوٹ آئی ہے اور کئی مقامات پر تو سماجی دوری یعنی سوشل ڈسٹینسنگ کی دھجیاں اڑتی ہوئی نظر آئی ہیں۔ ادھر مہاجر مزدوروں کے تعلق سے بد نظمی بدسطور جاری ہے۔ احمد آباد، غازی آباد اور میرٹھ میں گھر جانے کے لئے مزدوروں کی بھاری بھیڑ امنڈ پڑی اور سوشل ڈسٹینسنگ کی پوری طرح دھجیاں اڑتی نظر آئیں۔
قومی شہریت ترمیمی قانون یعنی سی اے اے کے خلاف مظاہرے کے دوران دسمبر میں ہونے والے تشدد کے الزام میں پولیس نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے ایک طالب علم 24 سالہ آصف اقبال تنہا کو گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے ایک اہلکار نے اتوار کو بتایا کہ جامعہ علاقے میں 15 دسمبر کو مظاہرہ کے دوران ہونے والے تشدد کے الزام میں کرائم برانچ کی ٹیم نے آصف کو گرفتار کیا ہے۔ آصف کو ساکیت کورٹ میں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کے سامنے پیش کیا گیا جہاں سے انہیں 31 مئی تک عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے دوران اس گرفتاری پر کئی سماجی تنظیموں نے اسے دہلی پولیس کا غیر انسانی فعل قرار دیا ہے۔
قومی آواز کے قارئین و ناظرین سے ضروری گزارش، لاک ڈاؤن کے ضوابط کی پابندی ضرور کریں۔ شکریہ
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: 18 May 2020, 8:11 PM IST