مغربی بنگال کے گورنر بنے آر این روی، کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے دلایا حلف

کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوئے پال نے آر این روی کو گورنر کے عہدے کا حلف دلایا۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور اسمبلی اسپیکر بمان بنرجی بھی موجود رہے۔

<div class="paragraphs"><p>مغربی بنگال کے نومنتخب گورنر آر این روی (ویڈیو گریب)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

تمل ناڈو کے سابق گورنر آر این روی اب مغربی بنگال کے گورنر بن گئے ہیں۔ کلکتہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سجوئے پال نے انہیں گورنر کے عہدے کا حلف دلایا۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور اسمبلی اسپیکر بمان بنرجی بھی موجود رہے۔ آر این روی کی تقرری سی وی آنند بوس کے اچانک استعفیٰ کے بعد ہوئی، جنہوں نے گزشتہ 5 مارچ کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

آر این روی کو ایسے وقت پر بنگال کا گورنر بنایا گیا ہے، جب بنگال کی سیاست میں سیاسی ہلچل جاری ہے۔ آئندہ چند دنوں میں الیکشن کمیشن ریاست میں انتخاب کی تاریخوں کا اعلان کرنے والا ہے۔ آر این روی نے سابق گورنر سی وی آنند بوس کی جگہ لی ہے، جنہوں نے حال ہی میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے حال ہی میں کئی گورنروں کا رد و بدل کیا ہے، جس کے تحت آر این روی کو تمل ناڈو سے مغربی بنگال بھیجا گیا ہے۔


واضح رہے کہ آر این روی کا انتظامی اور سیکورٹی معاملات کا وسیع تجربہ ہے۔ وہ 1976 بیچ کے انڈین پولیس سروس (آئی پی ایس) افسر رہے ہیں اور کئی اہم انٹیلی جنس اور سیکورٹی ایجنسیوں میں ذمہ داریاں نبھا چکے ہیں۔ انہوں نے قومی سلامتی کے امور میں بھی اہم کردار ادا کیا اور کچھ عرصے کے لیے ہندوستان کے ڈپٹی نیشنل سیکورٹی ایڈوائزر بھی رہے۔

بنگال کے گورنر بننے سے قبل آر این روی ناگالینڈ اور میگھالیہ کے گورنر بھی رہ چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے شمال مشرقی ہندوستان میں ناگا امن مذاکرات میں مرکزی حکومت کے نمائندے کے طور پر اہم کردار ادا کیا تھا۔ ان کے انتظامی تجربے کو دیکھتے ہوئے انہیں ایک سخت اور فیصلہ کن افسر مانا جاتا ہے۔ تاہم ان کی تقرری کے حوالے سے ریاست کی سیاست میں ردعمل بھی سامنے آئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی اور ٹی ایم سی نے اس فیصلے پر سوال اٹھائے ہیں اور اسے مرکزی حکومت کا سیاسی قدم قرار دیا ہے۔


ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے وقت میں گورنر اور ریاستی حکومت کے درمیان تال میل ریاست کی سیاست اور انتظامیہ کے لیے اہم رہے گا۔ آنے والے انتخاب اور سیاسی ماحول کے درمیان آر این روی کا کردار مغربی بنگال کی سیاست میں انتہائی اہم تصور کیا جا رہا ہے۔