بلند شہر کی شیکھا کا آئی اے ایس بننے کا دعویٰ فرضی ثابت، جشن کے بعد اعتراف- ‘غلطی ہو گئی’

شیکھا کا کہنا ہے کہا کہ ’مجھ سے غلطی ہو گئی۔ وہ دوسری شیکھا ہیں جن کا انتخاب ہوا ہے۔ ان کا نام بھی شیکھا ہے اور میرا بھی۔ میں نے رزلٹ کی پی ڈی ایف میں صرف نام چیک کیا تھا اور یہی مجھ سے غلطی ہو گئی۔‘

یو پی ایس سی
i
user

قومی آواز بیورو

یو پی ایس سی سول سروس امتحان کے نتائج کے اعلان کے بعد یکساں نام ہونے کی وجہ سے ایسا کنفیوژن پیدا ہو گیا کہ خوشی کا ماحول غم میں تبدیل ہو گیا۔ دراصل بلند شہر کی شیکھا نے فہرست میں صرف نام دیکھ کر جشن منانا شروع کر دیا تھا۔ پھر اچانک شیکھا اور اس کے اہل خانہ کا خواب چکنا چور ہو گیا، جب پتہ چلا کہ اس نے رزلٹ دیکھنے میں غلطی کر دی تھی۔ جلدبازی میں شیکھا نے صرف اپنا نام دیکھا تھا لیکن رول نمبر چیک کرنا بھول گئی تھی، جو اس کا نہیں تھا۔ اصل میں جو شیکھا آئی اے ایس بنی وہ ہریانہ کی رہنے والی تھی۔

واضح رہے کہ 113 ویں رینک پر جس اصل شیکھا کا نام آیا ہے وہ بنیادی طور پور دہلی کی رہنے والی ہے۔ فی الحال وہ ہریانہ میں بی ڈی او یعنی بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ بلند شہر کی شیکھا کے اہل خانہ نے روہتک (ہریانہ) کی شیکھا کو فون کر افسوس کا اظہار کیا۔ یہی نہیں بلند شہر کی شیکھا نے میڈیا کے سامنے آ کر بھی سچ قبول کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اصل میں روہتک کی شیکھا نے 113ویں رینک حاصل کی ہے۔ نام کو لے کر کنفیوژن ہو گیا تھا کیونکہ ہم دونوں کے نام ایک جیسے ہیں۔


نیوز ایجنسی ’اے  این آئی‘ سے بات کرتے ہوئے شیکھا نے کہا کہ ’’مجھ سے غلطی ہو گئی۔ وہ دوسری شیکھا ہیں جن کا انتخاب ہوا ہے۔ ان کا نام بھی شیکھا ہے اور میرا بھی۔ میں نے رزلٹ کی پی ڈی ایف میں صرف نام ہی چیک کیا تھا اور یہی مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے  نام کے ساتھ رول نمبر بھی چیک کرنا چاہیے تھا۔‘‘

شیکھا کے والد پریم چند نے بتایا کہ ’’اس نے فہرست میں اپنا نام دیکھتے ہی ہمیں بتا دیا کہ اس کا آئی اے ایس میں انتخاب ہو گیا ہے۔ ہمیں یہ نہیں معلوم کے دوسری شیکھا کون ہے، جس کا اصل میں انتخاب ہوا تھا، میری بیٹی کا نہیں۔ ہم اس وقت گھر پر بھی نہیں تھے، اپنی اہلیہ کا آپریشن کرا رہے تھے۔ خوشی کے مارے شیکھا جذباتی ہو گئی، اس نے مکمل معلومات نہیں دیکھی صرف اپنا نام دیکھا۔ اس سے غلطی ہو گئی۔‘‘