
گرافکس قومی آواز
قومی آواز کے پروگرام ’میری بات‘ کی آٹھویں قسط میں سید خرم رضا نے ملک کے تعلیمی نظام میں بڑھتی ہوئی تجارتی سوچ، طلبہ کے احتجاج اور معیاری تعلیم تک مساوی رسائی کے مسئلے پر تفصیلی تجزیہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اس کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے، لیکن جب تعلیم کو خدمت کے بجائے منافع بخش کاروبار بنا دیا جائے تو اس کے منفی اثرات پورے معاشرے پر مرتب ہوتے ہیں۔
پروگرام میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں کے معیار، اعلیٰ تعلیم میں محدود نشستوں، بڑھتی ہوئی فیس، قومی داخلہ امتحانات اور بیرونِ ملک تعلیم حاصل کرنے والے ہندوستانی طلبہ کے بڑھتے ہوئے رجحان پر بھی گفتگو کی گئی۔ سید خرم رضا نے کہا کہ معیاری تعلیم صرف مالی وسائل رکھنے والے طبقے تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ ہر باصلاحیت طالب علم کو یکساں مواقع میسر آنے چاہئیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو تعلیم کو اخراجات کے بجائے قومی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھنا ہوگا۔ ان کے مطابق تعلیم کا مقصد صرف ملازمت حاصل کرنا نہیں بلکہ باشعور شہری، کامیاب محقق اور ایک مضبوط معاشرے کی تشکیل بھی ہے، جس کے لیے سرکاری تعلیمی اداروں کو مزید مضبوط بنانے اور تحقیق و اختراع کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔