کھیل

ہندستان میں فیفا انڈر 17 خاتون ورلڈ کپ کی تیاریوں پر تبادلہ خیال

23 جون کو خواتین ورلڈ کپ کی نئی تاریخ کے اجراء کے بعد ٹورنامنٹ کی تیاری کے لئے مہاراشٹر میں یہ پہلا اہم اجلاس ہے۔ انڈر 17 خاتون ورلڈ کپ 2021 میں 17 فروری سے 7 مارچ تک ہندستان میں ہوگا۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

ممبئی: فیفا انڈر 17 خاتون ورلڈ کپ کے مقامی آرگنائزنگ کمیٹی کی ویڈیو کانفرنس مہاراشٹر کے کھیلوں کے وزیر سنیل کیدار، ویسٹرن انڈیا فٹ بال ایسوسی ایشن کے نائب صدر اور ریاستی سیاحت اور ماحولیات کے وزیر آدتیہ ٹھاکرے نے ٹورنامنٹ کی تیاریوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا۔ 23 جون کو خواتین ورلڈ کپ کی نئی تاریخ کے اجراء کے بعد ٹورنامنٹ کی تیاری کے لئے مہاراشٹر میں یہ پہلا اہم اجلاس ہے۔ انڈر 17 خاتون ورلڈ کپ 2021 میں 17 فروری سے 7 مارچ تک ہندستان میں ہوگا۔

Published: undefined

اس ٹورنامنٹ کا انعقاد رواں سال نومبر میں ہونا تھا لیکن کورونا کی وجہ سے اسے اگلے سال ملتوی کردیا گیا۔ احمد آباد، بھوبنیشور، گوہاٹی، کولکتہ اور نوی ممبئی ٹورنامنٹ کے پانچ میزبان شہر ہیں اور 16 ٹیموں کے 32 میچوں کی میزبانی کریں گے۔ افتتاحی میچ گوہاٹی میں 17 فروری کو کھیلا جائے گا جبکہ فائنل 7 مارچ کو نوی ممبئی میں ہوگا۔

Published: undefined

سنیل کیدار نے کہا کہ تیاریوں کے سلسلے میں پچھلے سال ہونے والی پیشرفت کے بارے میں جان کر میں بہت خوش ہوں۔ اس ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنا مہاراشٹرا کے لئے بہت اعزاز کی بات ہے۔ کھیل وقت کی ضرورت ہے۔ مہاراشٹر کے محکمہ کھیل نے ٹورنامنٹ کو کامیاب بنانے کے لئے مکمل تعاون اور مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ اس اجلاس سے ورلڈ کپ کی ضروریات کو مزید اچھی طرح سے سمجھنے میں مدد ملے گی۔

Published: undefined

آدتیہ ٹھاکرے نے کہا کہ ہمیں انڈر 17 خاتون ورلڈ کپ کی میزبانی پر فخر ہے۔ نوی ممبئی نے 2017 میں کامیابی کے ساتھ ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا۔ پچھلے کچھ مہینوں میں کورونا وائرس (کووڈ ۔19) وبا کی وجہ سے مشکل تھا لیکن ہم جانتے ہیں کہ صورتحال میں بہتری آئے گی۔ کھیل مشکلات پر قابو پانے کا ایک بہت اچھا طریقہ ہے۔ آنے والے مہینوں میں ہم کھیلوں میں خواتین کی ترقی اور فٹ بال میں ان کی شرکت کو فروغ دینے کے لئے پروگرام شروع کریں گے۔ مہاراشٹر ملک میں خواتین کے پہلے فٹ بال ورلڈ کپ ایونٹ کو کامیاب بنانے کے لئے سخت محنت کرے گا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined