سماج

کیا برطانیہ اور نازیوں کے درمیان مراسم تھے؟

ایک نئی کتاب میں ماضی میں نازیوں اور برطانیہ کے درمیان تعلقات پر روشنی ڈالی گئی ہے، یہ کتاب یہ بھی واضح کرتی ہے کہ آج کی جمہوریت بھی کس قدر خطرات کا شکار ہے۔

کیا برطانیہ اور نازیوں کے درمیان مراسم تھے؟
کیا برطانیہ اور نازیوں کے درمیان مراسم تھے؟ 

کوئی بھی شخص جو برطانیہ کی 1930 کی دہائی کی انتہائی دائیں بازو اور فاشسٹ تحریکوں پر غور کرتا ہے، اسے یونٹی مٹ فورڈ اور اوسولڈ موزلی کے نام ضرور دکھائی دیتے ہیں۔

Published: undefined

ہٹلر کی گرل فرینڈ کے حوالے سے مشہور یونٹی مٹ فورڈ کی شخصیت کو ڈیوڈ پریس جونز نے 1977 میں شائع ہونے والی اپنی ایک کتاب "یونٹی مٹ فورڈ، این انکوائری ان ٹو ہر لائف اینڈ فرائولیٹی آف ایول" یا ڈیوڈ لائچفیلڈ کی سن 2014 میں چھپنے والی کتاب، "ہٹلرز ویلکرائی، دا انسینسرڈ بائیوگرافی آف یونٹی مٹ فورڈ" میں بحث کی گئی ہے۔

Published: undefined

اوسولڈ موزلی سن 1932 سے 1940 تک برطانوی یونین آف فاشسٹس نامی تحریک کا سربراہ تھا اور اس کی تحریک بھی کئی کتابوں میں زیربحث رہی ہے، جس میں دو ہزار پانچ میں شائع ہونے والی کتاب "ہراہ فار دا بلیک شرٹس"، دو ہزار بیس میں شائع ہونے والی گراہم میکلِن کی کتاب، "ناکام رہنما، برطانوی انتہائی دائیں بازو کی تاریخ"، اور رچرڈ تھرلو کی کتاب، "برطانیہ میں فاشزم، اوسولڈ موزلی سے نیشنل فرنٹ کی بلیک شرٹس تک" شامل ہیں۔

Published: undefined

امریکی یونیوسٹی "ییل" کی لیکچرار لورین ینگ کی تازہ کتاب، "ہٹلرز گرل، دی برٹش آریسٹوکریسی اینڈ تھرڈ رائش آن دا ایو آف سیکنڈ ورلڈ وار" لکھی ہے۔ اس کتاب میں بہت سا ایسا مواد بھی استعمال کیا گیا ہے جو پہلے استعمال نہیں ہوا۔

Published: undefined

اس کتاب میں دائیں بازو کے برطانوی رہنماؤں اور نازی جرمنی کے درمیان تعلقات کے علاوہ آج کی برطانوی جمہوریت کو دائیں بازو کی جانب سے لاحق خطرات پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔ ینگ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ آج بھی انیس سو تیس کی دہائی کی طرز پر جمہوریتیں کئی طرح کے چینجلز کا سامنا کر رہی ہیں۔

Published: undefined

ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے ینگ کا کہنا تھا، "ہمیں دوسری عالمی جنگ، ہٹلر اور نازیوں سے متعلق اطلاعات کے ڈھیر کا سامنا ہے۔ مگر یہ کتاب یہ بتاتی ہے کہ آج جمہوریت کو 1930 کی طرز کے کیسے مسائل لاحق ہیں۔"

Published: undefined

اس کتاب کی مصنفہ لندن اسکول آف اکنامکس میں پڑھا چکی ہیں جب کہ کئی بین الاقوامی فورمز بہ شمول اقوام متحدہ سیاسی مشیر کے بہ طور خدمات انجام دے چکی ہیں۔

Published: undefined

انیس سو تیس کی دہائی کا برطانیہ

اس کتاب میں پہلی عالمی جنگ کے بعد جرمنی میں مالیاتی اور سماجی خلا جیسے تاریخی پس منظر پر بحث کی گئی ہے،جو ہٹلر کے عروج کی وجہ بنا۔ اس کے بعد ینگ بیس کی دہائی میں برطانوی اشرافیہ کے فاشزم کی جانب جھکاؤ پر روشنی ڈالتی ہیں۔ اس کتاب کے مطابق اس وقت کی برطانوی اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد اٹلی گئے تاکہ وہ فاشسٹوں کی تحریکوں کو دیکھ سکیں۔

Published: undefined

اس کتاب میں یہ بھی درج ہے کہ کئی اہم برطانوی شخصیات نے نازیوں کے اذیتی مراکز کے دوروں کی خواہش بھی ظاہر کی تھی۔ کتاب میں ملکہ الزبیتھ دوئم کی انیس سو تیتیس کی اس ویڈیو کا بھی ذکر ہے، جب ان کی عمر فقط سات برس تھی، اور وہ اپنی والدہ کے ہمراہ اس ویڈیو میں نازی سلیوٹ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یہ بات اہم ہے کہ برطانوی ٹیبلوئیڈ میں شائع ہونے والی اس خبر پر شاہی خاندان کی جانب سے شدید برہمی ظاہر کی گئی تھی۔

Published: undefined

اس کتاب میں ینگ یہ دلیل بھی دیتی ہیں کہ جمہوریت کو "پیدائشی حق" سمجھ کر برتنے کی بجائے اس کی قدر اور حفاظت کرنا ہو گی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined