
مولانا محمود مدنی
تصویر: پریس ریلیز
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر مدنی ہال میں منعقدہ صوبائی نظمائے اصلاحِ معاشرہ اور معاونین کے چار روزہ تربیتی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا ہے کہ ملت کو درپیش چیلنجوں کا مستقل اور پائیدار حل صرف بیرونی مسائل یا سیاسی حالات پر توجہ دینے میں نہیں بلکہ معاشرے کی اندرونی مضبوطی، خاندانی نظام کے استحکام، دینی تربیت اور نئی نسل کی دینی وابستگی کو فروغ دینے میں پوشیدہ ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اصلاحِ معاشرہ کے کام کو انفرادی کوششوں تک محدود رکھنے کے بجائے اسے ایک منظم تحریک اور مشن کی صورت میں آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
مولانا مدنی نے کہا کہ معاشرے کی مضبوطی کا آغاز خاندان سے ہوتا ہے۔ اگر خاندان مستحکم ہوگا تو معاشرہ مضبوط ہوگا اور جب معاشرہ مضبوط ہوگا تو پوری ملت استحکام حاصل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کے تحت گھروں اور محلوں میں ایسا دینی ماحول پیدا کیا جانا چاہیے جہاں بچوں کی ابتدائی دینی تعلیم اور تربیت کا سلسلہ مضبوط ہو۔ انہوں نے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک وقت تھا جب مائیں، دادی اور نانیاں گھروں میں بچوں کو قرآن کریم اور قاعدہ پڑھایا کرتی تھیں، جس کے نتیجے میں دینی ماحول قدرتی طور پر پروان چڑھتا تھا۔ موجودہ دور کے تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے اسی روایت کو نئے انداز میں زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند نے کہا کہ اصلاحِ معاشرہ کے وسیع پروگرام میں خاندانی اصلاح کو بنیادی ترجیح حاصل ہونی چاہیے۔ انہوں نے ورکشاپ میں فیملی کونسلنگ کے موضوع پر مولانا مفتی اشفاق قاضی کی پیش کردہ پریزنٹیشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کو حکمت، بصیرت اور صبر کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت علماء اور ائمہ میں ہونی چاہیے۔ ہر بستی اور علاقے میں ایسے تربیت یافتہ اور مخلص افراد کی موجودگی ضروری ہے جو ٹوٹتے ہوئے خاندانوں کو سنبھال سکیں اور زوجین کی مؤثر رہنمائی کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ خاندان کو ٹوٹنے سے بچانا دراصل صرف ایک گھر کو بچانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کو بچانا ہے۔ اگر اختلافات کے شکار میاں بیوی کے درمیان مصالحت کرا دی جائے تو یہ یقیناً ایک بڑی سماجی خدمت ہے، لیکن اگر اس کے ساتھ نئی نسل کو دینی کمزوری، بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط سے محفوظ رکھنے کا مقصد بھی شامل ہوجائے تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ کام ملت کی وحدت اور دینی شناخت کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔
مولانا مدنی نے اصلاحِ معاشرہ کے طریقۂ کار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی بڑا اور دیرپا کام وقتی سرگرمیوں کے ذریعے کامیاب نہیں ہوسکتا۔ اس کے لیے منظم منصوبہ بندی، واضح ترجیحات، تربیت یافتہ کارکنان، مسلسل رابطہ اور مستقل مزاجی کے ساتھ جدوجہد ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی شخص اخلاص کے ساتھ کسی دینی اور سماجی مقصد کو اپنا مشن بنا لیتا ہے اور پوری سنجیدگی کے ساتھ اس کے لیے محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کامیابی کے ایسے راستے کھول دیتا ہے جن کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایسے مواقع پر مخلص ساتھی اور معاونین بھی خود بخود میسر آجاتے ہیں جو اس مشن کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔
انہوں نے صوبائی نظمائے اصلاحِ معاشرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس کام کو پوری سنجیدگی اور جذبے کے ساتھ شروع کریں۔ اگر اخلاص اور مستقل مزاجی کے ساتھ میدان میں اترا جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوگی اور اصلاحِ معاشرہ کا قافلہ خود بخود مضبوط ہوتا چلا جائے گا۔
واضح رہے کہ یہ چار روزہ تربیتی ورکشاپ 24 اگست سے جاری ہے۔ ورکشاپ میں معروف موٹیویشنل اسپیکر مولانا ساجد فلاحی، فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے ڈائریکٹر مولانا مفتی اشفاق قاضی، ناظم تنظیم جمعیۃ علماء ہند (جنوب) مولانا محمد عمر بنگلوری اور ناظم تحفظ سنت صوبہ کرناٹک مولانا مفتی زاہد عیسیٰ قاسمی نے مختلف موضوعات پر مفید اور اہم پریزنٹیشنز پیش کیں۔ اس کے علاوہ نائب صدر جمعیۃ علماء ہند اور استاذ دارالعلوم دیوبند مولانا سلمان بجنوری اور ناظم عمومی جمعیۃ علماء ہند مولانا حکیم الدین نے بھی کلیدی خطابات کیے۔ شعبۂ اصلاحِ معاشرہ کے ذمہ داران مولانا محمد معظم عارفی اور مولانا عبدالعلی کے مطابق تربیتی پروگرام 27 اگست کو اختتام پذیر ہوگا، جس میں جمعیۃ علماء ہند کی 20 ریاستی یونٹوں کے 55 نظمائے اصلاحِ معاشرہ اور معاونین شریک ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔