بھاگلپور: گنگا ندی میں کشتی پلٹنے کے سبب 6 مزدور لاپتہ
ابتدائی رپورٹ کے مطابق کشتی پر 18 مزدور سوار تھے۔ تیز بہاؤ کے درمیان کشتی کا توازن بگڑ گیا اور وہ ندی کے بیچوں بیچ پلٹ گئی۔ 12 مزدور تیر کر ندی کے کنارے پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ دیگر 6 لاپتہ ہو گئے

بہار کے بھاگلپور میں بدھ کو گنگا ندی میں سیلاب سے بچاؤ اور کٹاؤ کی روک تھام پر مامور مزدوروں کو لے جا رہی ایک کشتی پلٹ گئی، جس کے نتیجے میں 6 مزدور لاپتہ ہو گئے۔ یہ واقعہ بھاگلپور کے نوگچھیا پولیس ضلع کے کھریک بلاک کے تحت راگھوپور پنچایت علاقے میں پیش آیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ کشتی کا استعمال ایک ٹھیکیدار کر رہا تھا، جو کازیکوریا-راگھوپور زمینداری پشتے کی حفاظت کا کام کر رہا تھا۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ندی کے مرکزی دھارے کا اس پشتے پر زبردست دباؤ پڑ رہا تھا۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق کشتی پر 18 مزدور سوار تھے۔ تیز بہاؤ کے درمیان کشتی کا توازن بگڑ گیا اور وہ ندی کے بیچوں بیچ پلٹ گئی۔ 12 مزدور تیر کر ندی کے کنارے پہنچنے میں کامیاب رہے، جبکہ دیگر 6 لاپتہ ہو گئے۔ واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر سامنے آنے کے بعد علاقے میں افراتفری مچ گئی۔
حادثے کی اطلاع ملنے کے بعد مقامی انتظامیہ اور پولیس، موٹر بوٹ اور لائف جیکٹ سے لیس ایس ڈی آر ایف کی ٹیم کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچے۔ تجربہ کار غوطہ خوروں سمیت امدادی ٹیمیں لاپتہ مزدوروں کی تلاش میں ندی میں سرچ آپریشن کر رہی ہیں۔ مقامی غوطہ خور اور دیہاتی بھی افسران کی مدد کر رہے ہیں۔ اس بات کا خدشہ ہے کہ لاپتہ مزدوروں میں سے کچھ پلٹی ہوئی کشتی کے نیچے پھنسے ہو سکتے ہیں۔ اعلیٰ انتظامی اور پولیس افسران جائے وقوعہ سے ہی امدادی کارروائی کی نگرانی کر رہے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ کشتی مزدوروں اور تعمیراتی سامان کو لے جا رہی تھی۔ یہ سامان کٹاؤ کی روک تھام کے کام کے لیے تھا، جو راگھوپور کو سیلاب اور پشتے کو نقصان سے بچانے کے لیے کیا جا رہا تھا۔ راگھوپور بہار کے وزیر توانائی شیلیش کمار عرف بولو منڈل کا آبائی گاؤں بھی ہے۔ یہ کام محکمہ آبی وسائل کی ہدایت پر ٹھیکیدار راج کمار سنگھ کروا رہے تھے۔ کشتی پر سوار افراد میں گھوگھا، اسماعیل پور اور پربتّا جیسے علاقوں کے مزدور شامل تھے۔ انتظامیہ لاپتہ افراد اور ہلاکتوں کی صحیح تعداد کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ گنگا کے تیز بہاؤ کے درمیان امدادی کارروائی جاری ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
