
جمعیۃ علمائے ہند / بشکریہ ٹوئٹر
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کی قانونی جدوجہد کے نتیجہ میں اکشر دھام مندر حملہ کے معاملہ میں وہ 3 افراد بھی باعزت بری ہو گئے جن کو بعد میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کے نام عبدالرشید سلیمان اجمیری، محمد فاروق محمد حنیف شیخ اور محمد یاسین عرف یاسین بٹ ہے۔ احمدآباد کی خصوصی پوٹا عدالت میں یہ مقدمہ چلا اورسماعت کے بعد پوٹا عدالت کے خصوصی جج ہیمانگ آر راؤل نے یہ تبصرہ کرتے ہوئے انہیں باعزت رہا کر دیا کہ اس سے پہلے سپریم کورٹ بھی سزا یافتہ ملزمین کو ناکافافی ثبوت کی بنیاد پر بے قصور قرار دیتے ہوئے رہا کرچکی ہے۔ فاضل جج نے یہ بھی کہا کہ اس حقیقت کو مد نظر رکھتے ہوئے موجودہ تینوں ملزمین کے خلاف لگائے گئے الزام کے ضمن میں سپریم کورٹ کے ذریعہ تسلیم کئے گئے شواہد کے علاوہ ریکارڈ پر کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی، اس لئے ان تینوں ملزمین کو بھی رہا کیا جاتا ہے۔ ان 3 لوگوں میں سے 2 عبدالرشید سلیمان اجمیری اور محمد فاروق محمد حنیف شیخ احمد آباد کے رہنے والے ہیں۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ اکشر دھام مندر پر حملہ کا واقعہ جب پیش آیا تو یہ دونوں سعودی عرب کے شہر ریاض میں بسلسلہ روزگار مقیم تھے، مگر انہیں بھی ملزم قرار دے کر فرار اعلان کر دیا گیا تھا۔ چنانچہ 2019 میں جب یہ لوگ سعودی عرب سے لوٹے تو کرائم برانچ نے انہیں گرفتار کر کے جیل بھیج دیا تھا۔ ان کے دیگر 2 بھائیوں آدم سلیمان اجمیری اور سلیم حنیف شیخ کو بھی اس دہشت گردانہ معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا، جنہیں بعد میں سپریم کورٹ نے باعزت بری کر دیا تھا۔ انہی کی درخواست پر جمعیۃ علماء ہند نے اس معاملہ میں بھی قانونی امداد فراہم کی۔
Published: undefined
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے پوٹا عدالت کے حالیہ فیصلہ کا استقبال کرتے ہوئے اسے انصاف کی جیت قرار دیا۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ یہ بات انتہائی قابل اطمینان ہے کہ اس معاملہ میں پوٹا عدالت نے سپریم کورٹ کے فیصلہ کو بطور نظیر اپنے سامنے رکھا اور اس طرح بے گناہوں کی رہائی ممکن ہو پائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بے گناہ تھے کیونکہ اکشردھام مندر پر جب حملہ ہوا تو یہ لوگ وہاں موجود نہیں تھے، مگر اس کے باوجود انہیں ملزم بنا دیا گیا۔ انہوں نے اس بات پر سخت افسوس کا اظہار کیا کہ بے گناہ ہوتے ہوئے بھی ان لوگوں کو انصاف کے حصول میں 6 سال لگ گئے۔ اس سے ہمارے قانونی نظام کی خامیاں اجاگر ہو جاتی ہیں۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ آج کے حالات میں ایک مخصوص فرقہ کے لئے انصاف کا حصول ناممکن نہیں تو محال ضرور ہے، اور اس کوشش میں بے گناہ افراد کی زندگیوں کے بیش قیمتی دن جیل کی سیاہ کوٹھری کی نذر ہو جاتے ہیں، مگر اس کے لئے کسی کی جواب دہی طے نہیں کی جاتی۔ اس لئے جو لوگ ایسا کرتے ہیں ان کے حوصلے مزید بلند ہو جاتے ہیں۔
Published: undefined
مولانا مدنی نے اخیر میں کہا کہ ہماری نظر میں یہ انصاف اس وقت تک ادھورا ہے جب تک جوابدہی طے نہیں کی جائے گی، بے گناہوں کی زندگیاں تباہ کرنے والوں کو سزا نہیں دی جائے گی اور اس افسوسناک سلسلے کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ قانون کی آڑ میں اسی طرح بے گناہوں کی زندگیوں سے کھلواڑ ہوتا رہے گا، بے قصور مسلمانوں کی زندگیوں سے کھلواڑ کرنے والے افسران کے خلاف اور ان کے چہروں سے نقاب اٹھانے کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے سپریم کورٹ میں رہا ہونے والے ملزمین کی جانب سے ہرجانہ اور خاطی افسران کے خلاف قانونی کاروائی کے لئے بھی اپیل دائر کی گئی تھی، جس پر مختلف مراحل میں بحث ہوئی اور حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والے وکیل نے یہ کہا کہ اس طرح تو ہر رہا ہونے والا ہرجانہ اور پولیس پر کارروائی کا مطالبہ کرے گا، جس سے پولیس کا مورل ڈاؤن ہوگا۔ وکیل نے اس اپیل کو خارج کرنے کا مطالبہ کیا تھا جس پر جمعیۃ علماء ہند کے سینئر ایڈووکیٹ کے. ٹی. ایس. تلسی نے بحث کرتے ہوئے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ قانون ہی میں ہرجانہ اور خاطی افسران کی سرزنش کی بات کہی گئی ہے۔ بہر حال سپریم کورٹ کے آرڈر پر ہرجانہ کا معاملہ نچلی عدالت میں چل رہا ہے، اس فیصلہ سے انصاف کی امید بڑھی ہے۔ انشاء اللہ ہرجانہ کا فیصلہ بے گناہ مظلومین کے حق میں جلد آئے گا۔
Published: undefined
واضح رہے کہ 2002 میں گجرات کے گاندھی نگر واقع اکشر دھام مندر پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں مندر کے زائرین اور پولیس اہلکاروں کی اموات ہوئی تھیں۔ حملہ کے قریب ایک سال بعد تفتیشی ایجنسی کرائم برانچ کے ڈائریکٹر جنرل بنجارا و دیگر افسران نے اچانک 30 اگست 2003 کو مفتی عبد القیوم، آدم سلیمان اجمیری، سلیم حنیف شیخ، مولانا عبداللہ، چاند خان اور الطاف حسین ملک کو گرفتار کر کے اس معاملہ کے حل کر لینے کا دعویٰ کیا تھا۔ 2007 میں پوٹا عدالت نے اکشردھام مندر پر حملہ کے الزام میں گرفتار کئے گئے لوگوں میں سے 3 مفتی عبد القیوم، آدم سلیمان اجمیری اور چاند خان کو پھانسی کی سزا دی تھی جبکہ سلیم حنیف شیخ کو عمرقید، مولانا عبداللہ میاں کو 10 برس اور الطاف ملک کو 5 برس قید کی سزا سنائی تھی۔ 2010 میں گجرات ہائی کورٹ نے بھی پوٹا عدالت کے فیصلہ کو برقرار رکھا تھا۔
Published: undefined
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیۃ علماء ہند کی قانونی امداد کمیٹی نے اس فیصلہ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا اور سپریم کورٹ نے ناکافی ثبوت کی بنیاد پر 2014 میں تمام ملزمین کو باعزت بری کرنے کے ساتھ ساتھ گجرات پولیس اور تفتیشی ایجنسیوں کی اس بات کے لئے سخت سرزنش کی تھی کہ انہوں نے درست طریقہ سے معاملہ کی تفتیش نہیں کی اور اس میں بے گناہوں کو پھنسا کر اپنی فرض شناسی ظاہر کر دی تھی، سپریم کورٹ سے باعزت رہائی کے بعد پوٹا کورٹ سے ملزم مفتی عبد القیوم نے اپنی بے گناہی کے دستاویز کے طور پر ایک کتاب ’11 سال سلاخوں کے پیچھے‘ لکھی ہے جس کا رسم اجراء صدر محترم کے ہاتھوں ہوا تھا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined