ظہران ممدانی، تصویر سوشل میڈیا
ظہران ممدانی نے امریکہ کے سب سے بڑے اور اہم شہر نیویارک کے میئر عہدہ کا حلف مین ہٹن کے ایک بند پڑے سب وے میں لیا۔ سب وے میں اس لیے کہ وہ مزدوروں اور حاشیے پر پڑے لوگوں کے تئیں اپنی وابستگی ظاہر کر سکیں۔ قابل ذکر ہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے ایسے لوگوں کی خدمت کا وعدہ کیا تھا۔ اس طرح ممدانی نے خود کو ایک جمہوری سوشلسٹ کے طور پر پیش کیا۔ انہیں امریکی سیاست کی معروف شخصیت اور جمہوری سوشلزم کے علمبردار ڈیموکریٹ سینیٹر برنی سینڈرز نے حلف دلایا۔ حلف برداری کے وقت برنی سینڈرز کے پہلو میں ترقی پسند کانگریس وومن الیگزینڈریا کورٹیز بھی کھڑی تھیں۔
Published: undefined
ممدانی کی تاریخی حلف برداری کی تقریب اور ممدانی کے انتخاب کے امریکی سیاست پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں ہندوستانی میڈیا میں شاید ہی کوئی کوریج ہوئی۔ 34 سالہ اس رہنما نے ایلیٹ، امیر اور ارب پتیوں کے گڑھ، امریکی یہودیوں کے گڑھ کی ذمہ داری سنبھال کر کئی پرانی تصورات کو توڑ دیا۔
Published: undefined
تاہم، ہندوستان میں ممدانی اب بھی ’نظربند‘ ہی ہیں۔ حکومت نے اپنے میڈیا ہینڈلز پر انہیں نظر انداز کیا، حالانکہ انہوں نے 2 مرتبہ کے ڈیموکریٹ گورنر اینڈریو کومو کو 50 فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے شاندار شکست دی۔ 10 لاکھ سے زیادہ نیویارک کے باشندوں نے، جو مختلف ذات، مذہب، نسل اور معاشی پس منظر سے تعلق رکھتے تھے اور جن میں اکثریت تارکین وطن کی تھی، ممدانی کو ووٹ دیا۔ ان کی جیت نے پوری دنیا میں ہلچل مچا دی۔ یہ صرف ان کا اپنا ملک ہندوستان ہی تھا جس نے اپنے 34 سالہ بیٹے کی اس بے مثال کامیابی پر اسے سلام نہیں کیا۔
Published: undefined
ممدانی کے نام ایسی کئی کامیابیاں درج ہیں جنہیں حاصل کرنے والے وہ پہلے شخص ہیں، مثلاً افریقی نژاد پہلے امریکی جن کے آبا و اجداد ایشیائی تھے، پہلے مسلم اور نیو یارک کے سب سے کم عمر میئر۔ ’سلام بمبئی‘، ’مانسون ویڈنگ‘ اور ’نیم سیک‘ جیسی فلموں کے لیے مشہور عالمی سطح پر تعریف بٹورنے والی فلم ساز میرا نائر اور کولمبیا یونیورسٹی میں پروفیسر ایمیریٹس اور مابعد نوآبادیاتی دور کے ممتاز ماہر محمود ممدانی (9/11 کے فوراً بعد شائع ہونے والی ’گڈ مسلم بیڈ مسلم‘، جو کئی ہفتوں تک نیویارک ٹائمز کی بیسٹ سیلر رہی، کے معروف مصنف) کے بیٹے ظہران نے کبھی بھی ایلیٹ وراثت میں پیدا ہونے کو اپنا نصب العین نہیں سمجھا۔
Published: undefined
اس کے برعکس وہ تارکین وطن کے حق میں کھڑے رہے۔ نیویارک میں 150 سے زائد ممالک کے لوگ رہتے ہیں۔ سیکولر اور آزاد خیال ممدانی ہر نیویارک باشندہ کی مشکلات کے تئیں فکرمند رہے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی میں نیتن یاہو کے کردار پر کھل کر بولنے کے باوجود انہوں نے یہودی مخالف ہونے کے الزامات سے خود کو فوراً الگ کر لیا۔ امریکہ کے سب سے بڑے اسرائیل نواز لابنگ گروپ امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی (ایپیک) اور نیو یارک جیوش فاؤنڈیشن نے کومو کے لیے حمایت جمع کرنے میں سرگرم کردار ادا کیا تھا۔ تاہم، نتائج میں یہودی ووٹوں کی برابر تقسیم دیکھنے میں آئی۔ نوجوان نسل نے ممدانی کا ساتھ دیا جبکہ بزرگ، ہسیدک اور امیر یہودیوں نے بڑی تعداد میں کوؤمو کے حق میں ووٹ دیا۔
Published: undefined
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی ممدانی پر سخت تنقید، وفاقی فنڈ روک دینے کی دھمکیوں اور ڈیموکریٹ حریف کوؤمو کی کھلے عام حمایت کرنے کے باوجود بھی ممدانی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ ممدانی کو مارکسوادی اور غدار کہہ کر ٹرمپ نے ان کا سیاسی کیریئر شروع ہونے سے پہلے ہی ختم کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، نیویارک کے میئر نے وائٹ ہاؤس میں ایک شائستہ ملاقات کے لیے جا کر ٹرمپ کو بھی اپنا مؤقف نرم کرنے پر مجبور کر دیا۔ اس ملاقات کے دوران ممدانی نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا بنیادی مقصد نیویارک کے تمام باشندوں کے لیے رہنا سہنا سستا بنانا ہے، نیز مفت ٹرانسپورٹ، چائلڈ کیئر، سستے مکانات اور سرکاری راشن کی دکانیں فراہم کرنا ہے، جیسا کہ انہوں نے اپنی انتخابی مہم میں وعدہ کیا تھا۔ ٹرمپ نے انہیں ضروری مدد کا یقین دلایا۔ اس واقعے نے دائیں بازو اور بائیں بازو دونوں نظریات میں منقسم سیاستدانوں کی باہمی متضاد تصویریں پیش کیں۔ پہلا تنگ نظر، انتقامی جذبہ رکھنے والا اور غیر متوقع، تو دوسرا غلط کے خلاف ڈٹ جانے والا، پُرعزم اور بے خوف۔
Published: undefined
جنوبی امریکہ میں موجودہ ہلچل کے دوران جب ٹرمپ نے تمام عالمی قوانین کو توڑتے ہوئے ایک آزاد ملک وینزویلا کے منتخب صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کیا، تو امریکی نظام واقعی منہدم ہو گیا۔ میڈیا بیشتر اور خطرناک حد تک خاموش رہا اور کانگریس و سپریم کورٹ بھی اقتدار کے اس کھلے غلط استعمال کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہے تھے۔ ممدانی نے اس بے شرمانہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’جنگ کا اعلان‘ قرار دیا۔
Published: undefined
اپنے بے باک خیالات (جن میں نریندر مودی کو کھل کر فاشسٹ کہنا بھی شامل ہے) کے لیے مشہور ظہران ممدانی نے خود کو عام لوگوں کی حامی نظریاتی صف میں کھڑا دکھایا ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ بھی اسی طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے انہوں نے اسرائیلی وزیر اعظم کو خبردار کیا کہ وہ کبھی بھی نیو یارک میں قدم نہ رکھیں، کیونکہ وہ ہزاروں بے سہارا فلسطینی خواتین، بچوں، بزرگوں اور بیماروں کے قتلِ عام کے ذریعے ’انسانیت کے خلاف جرائم‘ کے الزام میں انہیں گرفتار کروا دیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے فلسطینیوں کے اپنی زمین پر رہنے کے حق کی بھی حمایت کی۔ ممدانی کے والد گجرات کے کَچھ علاقے کے مسلمان ہیں جبکہ والدہ ہندو پنجابی ہیں۔ ظہران کی شادی ایک شامی مسلمان سے ہوئی اور ان کے واضح آزاد خیال نظریات میں شہری ثقافت کی جھلک ملتی ہے۔ اس کے باوجود انہوں نے ایک تاریخی قدیم قرآن پر ہاتھ رکھ کر میئر کے عہدے کا حلف اٹھا کر اپنی مسلم وراثت کو قبول کیا۔ انتخابی مہم کے دوران انہوں نے نیو یارک کے تمام 5 علاقوں میں بڑی تعداد میں مسلمانوں سے ملاقات کی اور ان کا تقریباً متفقہ ووٹ حاصل کیا۔
Published: undefined
ان کی نظریاتی باتوں پر غور کریں تو ظہران ممدانی ایک آزاد خیال سوشلسٹ محاذ کی جانب مائل نظر آتے ہیں اور مجموعی طور پر گزشتہ ایک دہائی کے دوران جمہوری ہندوستان کو ایک آمرانہ جمہوری ملک میں تبدیل کیے جانے کا علاج بھی اسی سوچ میں ممکن دکھائی دیتا ہے۔ عدم تشدد پر مبنی آزادی کی جدوجہد کی بنیاد پر قائم اپنی سیکولر اور جمہوری شناخت کے ساتھ ہندوستان کو ایسے وقت میں ممدانی جیسے شخص کی ضرورت ہے جب دنیا طاقتور اور باہم متصادم نظریاتی گروہوں کے درمیان پھنسی ہوئی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ ممدانی نے نہرو کے مشہور ’ٹرسٹ وِتھ ڈیسٹنی‘ خطاب کو حوالہ بنایا، جب وہ کسی بھی کارپوریٹ یا سیاسی مدد کے بغیر، صرف عوامی حمایت کے بل بوتے پر اپنے تمام مخالفین کو اکیلے ہی شکست دے کر امریکیوں کی نئی نسل کے سب سے کم عمر رہنما کے طور پر ابھرے۔
Published: undefined
اپنی مشہور کتاب ’دی آئیڈیا آف انڈیا‘ میں معروف سیاسی دانشور سنیل کھلنانی لکھتے ہیں کہ ’’جدید ہندوستانی سیاست اپنی شناخت کے لیے قوم پرست ہیروز کا استعمال کرتی ہے اور اپنی عملی جدوجہد میں یہ قوم پرست دنیا اور اس کے کردار سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔ پرانے دلائل اور کشمکش آج کی نسل کے نئے معانی اور خواہشات کے ساتھ دوبارہ دہرائے جا رہے ہیں۔ امبیڈکر کو ایک بار پھر گاندھی کے خلاف اور پٹیل کو نہرو کے خلاف کھڑا کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ یہ کشمکش ہمیں تقسیم کرتی ہیں، لیکن یہ خود ایک مشترکہ تاریخ، ایک مشترکہ ہندوستانی ماضی کی موجودگی کی گواہی دیتی ہیں… یہ کشمکش 1947 کے بعد سے ہندوستان کی تاریخ کی شناخت بنی ہوئی ہیں۔ اور ہندوستان کیا ہے، اس بارے میں مختلف خیالات کو مسلسل ساتھ لے کر چلنے کی اپنی صلاحیت میں، یہ تاریخ خود ہندوستانی تصور کو ظاہر کرتی ہے۔‘‘
Published: undefined
ہندوستان کی طاقت اس کے تہذیبی تنوع، ’وسودیو کٹمبکم‘ کی اس کی صدیوں پرانی روایت میں ہے، اور ایک ہی رنگ میں رنگنے کی کوئی بھی کوشش حقیقی ہندوستانی تصویر کو زندہ نہیں رکھ سکتی۔ ظہران ممدانی کے خیالات (کثرت پسند، آزاد خیال اور بیش قیمت) نئے ہندوستان کی روح سے ہم آہنگ ہیں اور انہیں ایک ایسے رہنما کے طور پر ممتاز کرتے ہیں جسے سنبھال کر رکھنا چاہیے۔
(مضمون نگار ڈاکٹر ملئے مشرا سابق سفارت کار ہیں، یہ ان کے ذاتی خیالات ہیں۔ سنڈیکیٹ: دی بلین پریس)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined