سیاسی

پنجاب: ’بدلاؤ‘ کے نام پر ڈیجیٹل ’بدلہ‘... ہرجیشور پال سنگھ

عآپ نے پنجاب کو ’بدلاؤ‘ کا خواب دکھایا، لیکن اقتدار میں آتے ہی وہی استحصالی ہتھکنڈے اپنا لیے۔ کاپی رائٹ اسٹرائک، نصف شب کو پولیس چھاپے اور ایف آئی آر کے ذریعہ ڈیجیٹل صحافیوں کا گلا گھونٹا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

’’دہلی میں ’گودی میڈیا‘ کی بات کرتے ہیں۔ لیکن پریس کی آزادی کے معاملے میں پنجاب کی صورت حال دہلی سے بھی بدتر ہے۔ دہلی میں ’گودی میڈیا‘ ہے، تو وہاں ’کیجری میڈیا‘... آواز اٹھائیں گے، تو گلا گھونٹ دیا جائے گا۔‘‘ یہ بات بھٹنڈہ کے ڈیجیٹل صحافی جس گریوال نے ’دی رپورٹرز کلیکٹیو‘ سے کہی۔ پارٹی کے کاپی رائٹ دعووں کے بعد 14 لاکھ فالوورز والا گریوال کا فیس بک پیج بند ہو گیا۔ ڈیجیٹل رائٹ ایکٹیوسٹ اور ’میڈیا نامہ‘ کے ایڈیٹر نکھل پاہوا نے ’کلیکٹیو‘ کو بتایا کہ ’’میری نظر میں ایسی کوئی مثال نہیں جب کسی سیاسی پارٹی نے پریس سنسرشپ کے لیے کاپی رائٹ کو ہتھیار بنایا ہو۔‘‘

جبر کا ایک اور خوفناک معاملہ 18 اگست 2026 کو سامنے آیا۔ بھٹنڈہ کے صحافی رتن دیپ سنگھ دھالیوال کے گھر 6 اضلاع کی پولیس نے حملہ بول دیا کیونکہ انہوں نے ایک ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ آئندہ انتخابات میں ’عآپ‘ کے قریب 32 اراکین اسمبلی کا ٹکٹ کاٹا جا سکتا ہے۔ کئی اراکین اسمبلی نے پہلے سے تیار شدہ مسودے میں پولیس شکایات درج کرائیں، جن میں الزام لگایا گیا کہ اس ویڈیو سے ’جھوٹی، من گھڑت اور گمراہ کن‘ معلومات پھیل رہی ہیں، جس سے امن و امان میں خلل پڑ سکتا ہے۔

2022 میں جب بھگونت مان نے بھگت سنگھ کے گاؤں کھٹکر کلاں میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا، تب پارٹی نے پنجاب کو ایک لبھاؤنے لفظ ’بدلاؤ‘ فروخت کیا تھا۔ اس کا مطلب تھا اس اشرافیائی ’درباری‘ سیاست کا خاتمہ، اس خوف اور احسان کی ثقافت کا خاتمہ جس میں نصف صدی تک اقتدار باری باری اکالی دل اور کانگریس کے پاس جاتا رہا۔ اس ’بدلاؤ‘ کے ساڑھے چار سال بعد، پنجاب کے صحافی (وہ ڈیجیٹل سپاہی جنہوں نے کسان تحریک کے دوران ’عآپ‘ کے اقتدار مخالف پیغام کو ہر ڈھانی اور ڈیرے تک پہنچایا تھا) اب دیکھ رہے ہیں کہ دربار وہی ہے، بس اس نے وردی والے دربان بدل دیے ہیں۔

یہ اچانک نہیں ہوا۔ یہ ’عآپ‘ کے بنیادی کردار کا حصہ ہے۔ ’انڈیا اگینسٹ کرپشن‘ کے اخلاقی اسٹیج سے پیدا ہونے والی ایک پارٹی، جو خود کو ضمیر کی نگہبان بتاتی ہے، لیکن اقتدار میں آتے ہی بیانیے پر قبضہ کرنے کی اسی بھوک سے حکومت کرتی ہے جس کی وہ دہلی میں برائی کرتی ہے۔ جب اروند کیجریوال کا اپنا انسٹاگرام ہینڈل کچھ عرصے کے لیے ممنوع ہوا، تو انہوں نے 7 اگست 2026 کو ’ایکس‘ پر شکایت کی کہ مودی حکومت نے ’جین-زی‘ کے احتجاج کے دوران سوشل میڈیا صارفین کی آواز دبائی۔ بات سچ بھی ہوگی۔ لیکن دہلی سے بمشکل 200 کلومیٹر شمال میں، پنجاب میں ’عآپ‘ کا نظام اس وقت تک آزاد پنجابی صحافیوں کی کم از کم 48 ویڈیوز اور پوسٹس پر کاپی رائٹ کا دعویٰ ٹھوک چکا تھا، جن میں اسمبلی کے اندر کی تصاویر اور یہاں تک کہ خود بھگونت مان کے پرانے ٹوئٹس بھی تھے، صرف اس لیے کہ فیس بک انہیں ہٹا دے۔ دہلی میں کیجریوال جس سنسرشپ پر سینہ پیٹتے ہیں، چنڈی گڑھ میں کھلے عام وہی کرتے ہیں۔

ڈیجیٹل رائٹ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں پریس پر جبر کی تاریخ میں کاپی رائٹ اسٹرائیک ایک نیا ہتھیار ہے۔ ’لوک آواز ٹی وی‘ کے فرید کوٹ کے رہنے والے منندر جیت سنگھ سدھو کو بیس اسٹرائیکس کا سامنا کرنا پڑا۔ بھٹنڈہ میں کسانوں پر پولیس کی کارروائی کی رپورٹنگ کے بعد ان کا پیج آئی ٹی ایکٹ کے تحت ہٹا دیا گیا۔ بعد میں مکتسر ضلع میں منشیات کے کاروبار پر ان کی تحقیقاتی رپورٹنگ کو لے کر ان پر خودکشی کے لیے اکسانے کی ایف آئی آر درج کر دی گئی۔ دھالیوال کے پیج پر 19 اسٹرائیکس کی گئیں اور آخرکار 3.24 لاکھ فالوورز والا ان کا پیج غائب ہو گیا۔ وجہ سری اکال تخت صاحب کی وہ پریس ریلیز شیئر کرنا بنی جس پر ’عآپ‘ کا کوئی دعویٰ بنتا ہی نہیں۔

پولیس ایف آئی آر اب حکومت کا پہلا ہتھیار بن چکی ہے۔ آر ٹی آئی ایکٹیوسٹ مانک گوئل کو وزیر اعلیٰ کے ہیلی کاپٹر کے استعمال کی معلومات دینے سے انکار کر دیا گیا، اور جب انہوں نے عوامی طور پر اس پر سوال اٹھائے، تو انہیں اور 2 صحافیوں (منندر جیت سدھو اور منٹو گوروسریا) کو ’گمراہ کن معلومات‘ پھیلانے کے الزام میں پولیس کیس میں نامزد کر دیا گیا۔ پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ کو مداخلت کر کے تحقیقات پر روک لگانی پڑی۔

گوئل کے مطابق ’’آر ٹی آئی قانون تقریباً دم توڑ چکا ہے۔ عوامی اطلاعات کے افسر اور اپیل افسر کھلے عام معلومات دینے سے انکار کرتے ہیں۔ ہزاروں اپیلیں زیر التوا ہیں۔ ریاستی اطلاعاتی کمیشن نصف صلاحیت پر چل رہا ہے اور معاملات کا فیصلہ کرنے میں 2 سال تک کا وقت لگ رہا ہے۔‘‘

جبر کے خطرے کے اشارے 2023 میں ہی مل گئے تھے، جب ریاستی حکومت امرت پال سنگھ کو گرفتار کر رہی تھی۔ صحافیوں، ایک کناڈائی شاعر اور ایک موجودہ رکن پارلیمنٹ سمیت 100 سے زیادہ ٹوئٹر اکاؤنٹس کو ’عآپ‘ کی درخواست پر پورے ہندوستان میں بلاک کر دیا گیا تھا۔ 2.7 کروڑ پنجابیوں کے لیے انٹرنیٹ اور ایس ایم ایس خدمات بند کر دی گئی تھیں۔ جو حکومت آج مرکزی حکومت کی نگرانی کی پالیسی کی مذمت کرتی ہے، اس نے اپنے آنگن میں بالکل ویسا ہی کھیل کھیلا۔

سیاسی تجزیہ کاروں اور لیڈران کو بھی نہیں بخشا گیا ہے۔ نوجوت سدھو کے سابق مشیر اور بعد میں ’عآپ‘ کے بے باک ناقد بننے والے مالویندر سنگھ مالی کو ستمبر 2024 میں ایک فیس بک پوسٹ کے معاملے میں آئی ٹی ایکٹ کے تحت ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا اور عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔ بکرم مجیٹھیا، جو مسلسل حکومت کو کٹہرے میں کھڑا کرتے ہیں، پہلے ہی 2 بار جیل جا چکے ہیں... حال ہی میں 540 کروڑ روپے کے منی لانڈرنگ معاملے میں۔ سکھ پال کھیرا، جو ایک اور سخت ناقد ہیں اور پارٹی تبدیل کرنے سے پہلے کبھی ’عآپ‘ ہی کے اپوزیشن لیڈر تھے، انہیں سیاسی طور پر بے آرام ہوتے ہی ایک دہائی پرانے منشیات کے معاملے میں گرفتار کر لیا گیا۔ دونوں معاملات کے میرٹ چاہے جو بھی ہوں اور ان پر فیصلہ پنجاب کی عدالتیں ہی کریں گی، لیکن کارروائی کا وقت اپنی کہانی خود بیان کرتا ہے۔

روایتی پریس کو قابو کرنے کے سب سے پرانے ہتھیار کا استعمال کیا گیا، یعنی پیسہ۔ ’پنجاب کیسری‘ کے مدیران نے گورنر کو خط لکھ کر الزام لگایا کہ کیجریوال کی دہلی رہائش سے متعلق ایک تنقیدی مضمون شائع کرنے کے چند ہی دنوں کے اندر ان کے سرکاری اشتہارات بند کر دیے گئے۔ ’اجیت‘ کے چیف ایڈیٹر برجندر سنگھ ہمدرد کو ویجیلنس بیورو نے طلب کیا، اور ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی تقسیم کرنے والی گاڑیوں کو روک کر تلاشی لی گئی، جس سے پوری ریاست میں اخبار کی ترسیل متاثر ہوئی۔ سینئر صحافی شیو اندر سنگھ کے مطابق ’’پنجاب میں عآپ کا رویہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا مرکز میں بی جے پی کا۔‘‘

وہ ’عآپ‘ کے میڈیا بجٹ میں بھاری اضافے (گزشتہ حکومتوں کے مقابلے میں تقریباً 10 گنا) کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کا استعمال میڈیا کی آواز دبانے اور ان کے سامنے سرنگوں ہونے والے نیوز آؤٹ لیٹس کو انعام دینے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ ویب سائٹس اور نیوز آؤٹ لیٹس کو حکومت حامی مواد تیار کرنے کے لیے پیسے دیے جا رہے ہیں۔ یہاں تک کہ عآپ کی اپنی دہلی سے راجیہ سبھا رکن پارلیمنٹ سواتی مالیوال نے بھی پارٹی قیادت کے ساتھ اپنے تنازعہ کے دوران غیر معمولی وضاحت کے ساتھ اس طریقۂ کار کا انکشاف کیا۔ انھوں نے بتایا کہ موافق کوریج سے بڑا اشتہاری بجٹ ملتا ہے، تنقیدی کوریج سے اشتہارات کاٹ دیے جاتے ہیں، اور سوال اٹھانے والے صحافیوں کو پولیس کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

یہ وہی ہے جو کوٹلیہ کے ’سام، دام، دنڈ، بھید‘ کے اسمارٹ فون نسل کی پارٹی کے ذریعہ استعمال کیے جانے پر دکھائی دیتا ہے۔ ’سام‘ یعنی سرکاری اشتہارات کی بارش سے فرمانبردار چینلوں کو قابو میں رکھنا، ’دام‘ یعنی مدیران کو خاموشی سے ہٹوا کر اور ایکریڈیٹیشن منسوخ کروا کر خاموشی خریدنا، ’دنڈ‘ یعنی ایف آئی آر، کاپی رائٹ اسٹرائک، آئی ٹی ایکٹ کا نوٹس اور آدھی رات کو پولیس کا چھاپہ، ’بھید‘ یعنی صحافیوں کے درمیان پھوٹ ڈالنے کا باریک کام۔ ’عآپ‘ کے میڈیا انچارج بلتیج پنوں نے نشانہ بنائے گئے فیس بک صحافیوں کو ’مناسب ڈگری یا اہلیت‘ نہ رکھنے والے لوگ قرار دے کر مسترد کر دیا... یہ پرانا نوکرشاہی طریقہ ہے کہ کس کو پریس مانا جائے اور کس کو نہیں۔

اس کا نتیجہ خود سنسرشپ یا اس کے خلاف انوکھے مزاحمت کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ ’پنجاب انسائیڈ ٹی وی‘ کے پرمیت سنگھ بڈوالی اب ہر ویڈیو میں بھگونت مان کا چہرہ سیاہ کر دیتے ہیں، یا اس کی جگہ اے آئی اسکیچ لگا دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان اخبارات کی بازگشت ہے جو ایمرجنسی کے دوران احتجاج کے طور پر اپنے اداریاتی کالم خالی چھوڑ دیا کرتے تھے۔

کیا کیجریوال بھول گئے ہیں کہ پنجاب کی ڈیجیٹل پریس کی پیدائش کسان تحریک کی کوکھ سے ہوئی تھی، جب قومی میڈیا سے مایوس ہو کر کسانوں نے دہلی کی سرحد پر ٹریکٹر ٹرالیوں اور ڈھابوں سے اپنے یوٹیوب نیوز روم قائم کیے تھے؟ المیہ یہ نہیں ہے کہ پنجاب کو تبدیلی کا وعدہ کر کے سنسرشپ تھما دی گئی۔ المیہ یہ ہے کہ آواز دبانے والی یہ وہی پارٹی ہے جس نے اپنی پوری ساکھ کبھی اپنی آواز دبائے جانے کی دُہائی دے کر بنائی تھی۔

(مضمون نگار ہرجیشور پال سنگھ ایس جی جی ایس کالج، چنڈی گڑھ میں تاریخ کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔