سون ندی آبی تقسیم پر بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان معاہدہ طے پایا، سورین-سمراٹ نے ایم او یو پر کیا دستخط

جھارکھنڈ کی جانب سے مسلسل سون ندی کے پانی میں جائز حصہ داری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ جھارکھنڈ حکومت کا کہنا تھا کہ سون ندی کا منبع اور ایک بڑا کیچمنٹ ایریا ان کی ریاست کے علاقے میں آتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/samrat4bjp">@samrat4bjp</a></p></div>
i

بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان سون ندی کے پانی کی تقسیم کو لے کر چلا آ رہا دہائیوں پرانا تنازعہ آخرکار آج حل ہو گیا۔ پیر کے روز نئی دہلی میں ایک میٹنگ کے دوران دونوں ریاستوں کے درمیان مفاہمت نامہ (میمورینڈم آف انڈراسٹینڈنگ) پر دستخط کیے گئے۔ سون ندی آبی تنازعہ کے مستقل حل کے تحت مجموعی طور پر 7.75 ملین ایکڑ فٹ پانی کی تقسیم دونوں ریاستوں کے درمیان طے کی گئی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی صدارت میں ہوئی اس میٹنگ میں بہار کے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری اور جھارکھنڈ کے وزیر اعلیٰ ہیمنت سورین بھی موجود تھے۔ 1973 میں ہوئے بان ساگر معاہدے کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب بہار اور جھارکھنڈ کے درمیان سون ندی کے پانی میں حصہ داری پوری طرح واضح ہوئی ہے۔ 2000 میں بہار سے الگ ہو کر نئی ریاست کے طور پر جھارکھنڈ کی تشکیل کے بعد سے ہی پانی کی تقسیم کا یہ معاملہ اٹکا ہوا تھا۔


جھارکھنڈ کی جانب سے مسلسل سون ندی کے پانی میں جائز حصہ داری کا مطالبہ کیا جا رہا تھا۔ جھارکھنڈ حکومت کا کہنا تھا کہ سون ندی کا منبع اور ایک بڑا کیچمنٹ ایریا ان کی ریاست کے علاقے میں آتا ہے۔ دوسری طرف بہار حکومت 1973 کے بان ساگر معاہدے کو بنیاد بنا کر پورے 7.75 ملین ایکڑ فٹ پانی پر اپنا دعویٰ کر رہی تھی۔ بہار کے ساتھ اس تنازعہ اور جھارکھنڈ سے این او سی نہ ملنے کے سبب اندرپوری آبی ذخیرے کا منصوبہ گزشتہ تقریباً 53 سال سے اٹکا ہوا تھا۔ لیکن اب دونوں ریاستوں کے درمیان اتفاق رائے بننے اور میمورینڈم آف انڈراسٹینڈنگ پر دستخط ہونے کے بعد اس منصوبے کی تعمیر کا راستہ بھی صاف ہو گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔