’ہندوستانی غریب ہو سکتے ہیں، انھیں بکاؤ سمجھنے کی غلطی نہ کریں‘

جب آپ جیسے رسوخ دار شخص عیسائی طبقہ، غیر ملکی فنڈنگ اور غریبی پر تبصرہ کرتے ہیں تو کروڑوں لوگ سنتے ہیں۔ ایسے میں غیر ذمہ دارانہ بیان سماجی تعصب کو توڑنے کی جگہ انھیں مزید گہرا کر دیتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ہریش سالوے، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

اے جے فلپ

محترم ہریش سالوے جی!

میں عموماً ٹی وی انٹرویو نہیں دیکھتا۔ لیکن ریپبلک ٹی وی پر ارنب گوسوامی کو دیا گیا آپ کا انٹرویو دیکھنے کے لیے مجھے اس مختصر ویڈیو کلپ نے مجبور کیا، جو میرے ایک دوست نے بھیجا تھا۔ اس میں آپ کی کچھ باتیں سن کر مجھے گہرا دھچکا لگا اور میں نے اپنی برداشت کی آزمائش کرتے ہوئے یوٹیوب پر وہ پورا انٹرویو دیکھا۔

اسے دیکھتے ہوئے مجھے 1990 کی دہائی میں ’جین ٹی وی‘ کے ساتھ آپ کے والد این کے پی سالوے کے انٹرویو کی یاد آ گئی۔ تب ارنب گوسوامی شاید ’جیسوئٹ پادریوں والے کسی اسکول میں پڑھ رہے‘ ہوں گے، جیسا کہ انہوں نے اپنے تعلیمی پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے خود کہا ہے۔


ارنب فائیو اسٹار ہوٹل کے جس سوئٹ میں آپ کا انٹرویو لے رہے تھے، اس کی شان و شوکت دکھا کر شاید ناظرین کو متاثر کرنا چاہ رہے تھے۔ میں نے دہلی کے 4 نامور وکیلوں کی زندگی کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ ان میں سے 2 بیس پچیس این جی اوز کو کروڑوں روپے کی باقاعدہ مالی مدد دیتے ہیں۔ دونوں کی بیشتر آمدنی بین الاقوامی ثالثی سے ہوتی ہے۔ ایک نے تو ثالثی قانون کے مطالعے کو فروغ دینے کے لیے ایک معروف لا یونیورسٹی میں اپنے والد کی یاد میں ایک چیئر بھی قائم کی ہے، جو خود ایک جانے مانے وکیل تھے۔

2018 میں جب کیرالہ میں تباہ کن سیلاب آیا، ان میں سے ایک وکیل نے 2 سرکاری اسکولوں کی تعمیر نو کے لیے میرے زیر قیادت ادارے کو 35 لاکھ روپے کی مدد دی تھی۔ ہم نے ڈیڑھ ماہ میں 27 لاکھ روپے خرچ کر کے یہ کام مکمل کیا۔ جب میں نے بچی ہوئی رقم واپس کرنے کی پیشکش کی، تو انہوں نے مجھ سے اسے بھی ضرورت مندوں پر ہی خرچ کرنے کو کہا۔ ہم نے اس رقم سے اپنے غریب طلبہ کو بھاری سبسڈی والی سردیوں کی اسکول یونیفارم فراہم کی۔


یہ حوالہ مجھے آپ کے اس بیان کی یاد دلاتا ہے جس میں آپ نے کہا ہے کہ آپ ’عطیہ‘ کے تصور کو سمجھ ہی نہیں پاتے۔ شاید اس لیے کیونکہ آپ نے دوسروں کو بے غرضی سے کچھ دینے کا روحانی اطمینان کبھی محسوس ہی نہیں کیا۔

میں نے 23 سال تک دہلی کے ایک چرچ کے 7 اراکین کے ذریعہ 1979 میں قائم کیے گئے ایک این جی او کو چلایا ہے۔ ان برسوں میں 4 لاکھ سے زیادہ غریب بچوں نے ہمارے پروگراموں کے ذریعہ اچھی تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں ہماری فنڈنگ کا 90 فیصد بیرون ملک سے آتا تھا۔ آج یہ کم ہو کر 5 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ کسی بھی عطیہ دہندہ نے کبھی نہیں کہا کہ پیسے کا استعمال کسی کا مذہب تبدیل کرانے کے لیے کیا جائے۔ میں دعوے کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ہماری کوششوں سے تعلیم یافتہ ایک بھی طالب علم عیسائی نہیں بنا۔ اگر وہ اچھے اور سچے شہری بن کر ملک کی خدمت کر رہے ہیں، تو میرے لیے یہی سب سے بڑا اطمینان ہے۔ آپ اس بات کو نہیں سمجھ پائیں گے، کیونکہ شاید آپ اسے سمجھنا ہی نہیں چاہتے۔


ارنب نے آپ کو ملک کا نمایاں عیسائی چہرہ بتایا۔ آپ نے فخر سے کہا کہ آپ کا عیسائی پس منظر نریندر مودی حکومت کی جانب سے آپ کو سالیسٹر جنرل مقرر کیے جانے کی راہ میں رکاوٹ نہیں بنا۔ کسی بھی شخص کا مذہب اس کے عوامی عہدے کی اہلیت کا پیمانہ ہونا بھی نہیں چاہیے۔ لیکن ذرا ملک کے سیاسی منظرنامے پر نظر ڈالیے کہ مرکز اور ریاستوں میں کتنے مسلم اور عیسائی وزیر یا گورنر ہیں؟ اگر یہ تعداد نہ ہونے کے برابر ہے، تو کیا اس کا مطلب یہ نکالا جائے کہ ملک میں اہل مسلم اور عیسائی ہیں ہی نہیں؟ اس لیے صرف آپ کی تقرری اس بات کا ثبوت نہیں ہو سکتی کہ نظام میں امتیاز یا تعصب موجود ہی نہیں۔

جب پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں میرے خلاف مقدمہ تھا، میری پیروی کرنے والے وکیل سابق چیف جسٹس جسٹس راجندر سچر تھے۔ ہم نے جس دوسرے سینئر وکیل سے مشورہ لیا تھا، وہ مرحوم فالی ایس نریمن تھے۔ ان میں کوئی عیسائی نہیں تھا۔ زندگی میں کئی ڈاکٹروں نے میرا علاج کیا ہے۔ جس ڈاکٹر کا میں سب سے زیادہ احترام کرتا ہوں، وہ تریویندرم میڈیکل کالج کے سابق پرنسپل مرحوم ڈاکٹر نارائن پائی تھے۔ وہیں جس ڈاکٹر کو میں سب سے تلخ تجربے کے ساتھ یاد کرتا ہوں، وہ کوٹایم میڈیکل کالج کے شعبۂ جراحی کے ایک پروفیسر تھے، جنہوں نے میرے والد کی ٹوٹی ہوئی ٹانگ کا آپریشن ایک ہزار روپے کی رشوت کے لیے 3 دن مؤخر کیا۔ اتفاق سے وہ بھی میری ہی طرح سیرین عیسائی تھے۔ قابلیت ہو یا بدعنوانی، اس کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔


ارنب چاہتے تھے کہ آپ نئے ایف سی آر اے قانون پر حکومت کو کلین چٹ دے دیں۔ میں داد دیتا ہوں کہ آپ نے یہ سچ تسلیم کیا کہ ہندوستان آنے والے تقریباً 23,000 کروڑ روپے کے کل غیر ملکی عطیے میں عیسائیوں کو صرف 10 فیصد ملتا ہے۔ باقی 90 فیصد کس کو ملتا ہے؟ ظاہر ہے، ہندو تنظیموں کو۔

مودی حکومت نے کچھ برسوں میں ہزاروں این جی اوز کے ایف سی آر اے لائسنس منسوخ کیے ہیں، جس سے لاکھوں لوگوں کا روزگار ختم ہو گیا۔ جن اداروں کے نام میں ’کرسچن‘، ’فیلوشپ‘ یا ’چرچ‘ جیسے الفاظ تھے، انہیں خاص طور پر سخت جانچ اور انتظامی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ قوانین اتنے سخت ہو گئے ہیں کہ سماجی کام کرنا دشوار ہے۔ مجھے مالی شفافیت یا جوابدہی سے کوئی پرہیز نہیں ہے۔ میرا اعتراض حکومت کے دوہرے رویے پر ہے۔ ’پی ایم کیئرز فنڈ‘ کو لیجیے۔ عوامی دستاویزات کے مطابق 25-2024 میں اس کے پاس 8,452 کروڑ روپے کا بیلنس تھا، جبکہ اس پورے مالی سال میں اس کا خرچ محض 87.85 لاکھ روپے کے آس پاس تھا۔


اگر کسی چھوٹے این جی او کے لیے ایک مقررہ مدت کے اندر غیر ملکی عطیے کو خرچ کرنا ضروری ہے اور ایسا نہ کرنے پر اس کی ایف سی آر اے رجسٹریشن منسوخ ہو سکتی ہے، تو کیا ہزاروں کروڑ روپے دبائے بیٹھی سرکاری تنظیموں پر شفافیت کا وہی پیمانہ نافذ نہیں ہونا چاہیے؟ ہندوستان میں کام کر رہی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے ہریانہ کے ایک پسماندہ علاقے میں اسکول کی عمارت بنانے میں ہمیں مالی مدد دینے کا وعدہ کیا تھا۔ بعد میں انتظامی دباؤ میں کمپنی نے وہ رقم پی ایم کیئرز فنڈ میں دے دی!

ملک میں کئی آفات آئیں۔ اگر کوئی ہنگامی فنڈ ہزاروں کروڑ روپے جمع کر لے لیکن فنڈ کا معمولی حصہ بھی ضرورت مندوں پر خرچ نہ کرے، تو اس پر سوال اٹھنا فطری ہے۔ آپ یا تو ان زمینی حقیقتوں سے ناواقف ہیں یا سب کچھ جانتے ہوئے انجان بن رہے ہیں۔ آپ نے انٹرویو میں اشارہ دیا کہ عیسائی ادارے پیسوں کا لالچ دے کر مذہب تبدیل کراتے ہیں۔ میرا آپ کو کھلا چیلنج ہے... پورے ملک میں ایک بھی ایسا شخص دکھائیے جس نے صرف پیسوں کے لیے اپنا مذہب تبدیل کیا ہو۔ ہندوستانی غریب ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں بکاؤ سمجھنے کی غلطی مت کیجیے۔


ارنب نے دعویٰ کیا کہ ان کی رپورٹر کو ایک اسٹنگ آپریشن کے دوران مذہب تبدیل کرنے اور مقامی شخص سے شادی کی پیشکش کی گئی۔ اس کے خلاف شکایت کیوں نہیں کی گئی؟ ارنب نے یہ بھی کہا کہ آپ نے ایک معاملے میں عدالت میں ان کی پیروی کی تھی۔ آج ملک کی مختلف جیلوں میں درجنوں غریب عیسائی بند ہیں جن پر مذہب تبدیل کرانے کے جھوٹے الزامات ہیں۔ اگر آپ واقعی عیسائی برادری کے تئیں ہمدردی دکھانا چاہتے ہیں، تو بغیر فیس لیے ان میں سے کسی ایک غریب اور بے قصور کا مقدمہ لڑ کر دکھائیے۔

آپ نے مذہبی آزادی پر پُرجوش تقریریں کیں۔ لیکن جس پارلیمانی حلقے کی نمائندگی کبھی آپ کے والد کرتے تھے، آج وہاں عیسائی اپنے گھروں میں بھی نجی دعائیہ اجتماع تک نہیں کر سکتے۔ زعفرانی گمچھا ڈالے شرپسندوں کا کوئی بھی چھوٹا گروہ چرچ میں گھس کر بے قصور عقیدت مندوں کو سر عام ہراساں کرتا ہے اور پولیس تماشائی بنی رہتی ہے۔ عیسائیوں اور مسلمانوں کے اس کھلے استحصال کے خلاف عوامی پلیٹ فارموں پر بولنے کی اخلاقی جرأت دکھائیے۔ ایسا کرتے ہی حکومت سے ملنے والے مقدمات کی فائلیں بند ہو جائیں گی اور ارنب گوسوامی ٹی وی پر کہنے لگیں گے کہ آپ نے ’اصل رنگ‘ دکھا دیا ہے۔


انیسویں صدی کے شروع میں جب عیسائی مشنری ولیم کیری بھارت آئے تھے، تو انہوں نے سب سے پہلے ایسا اسکول کھولا جس میں ہر ذات اور طبقے کے بچوں کا خیرمقدم تھا۔ مشنری سرگرمیوں کے بارے میں کسی کا بھی نظریہ ہو، یہ سچ ہے کہ تعلیم ہی غربت کا اٹل علاج ہے۔ آج کئی شمالی ریاستوں میں ہزاروں سرکاری پرائمری اسکول بند ہو چکے ہیں۔

آپ کے انٹرویو میں جس بات نے مجھے سب سے زیادہ مضطرب کیا، وہ یہی تھی۔ مجھے آپ کی بے پناہ دولت، آپ کے عالی شان ہوٹل سوئٹ، آپ کی مہنگی گھڑیوں، آپ کی بین الاقوامی وکالت یا آپ کے بااثر موکلوں سے کوئی حسد نہیں ہے۔ اپنی سخت محنت کی کمائی سے لطف اندوز ہونے کا آپ کو پورا حق ہے۔ لیکن عوامی زندگی میں بڑی کامیابی اپنے ساتھ اخلاقی ذمہ داری بھی لاتی ہے۔ جب آپ جیسا بااثر شخص عیسائی برادری، شہری تنظیموں، غیر ملکی امداد اور غربت کے بارے میں بولتا ہے، تو کروڑوں لوگ اسے سچ مان لیتے ہیں۔ آپ کے الفاظ معاشرے کے تنگ تعصبات کو چیلنج کر سکتے ہیں یا انہیں مزید زہریلا بنا سکتے ہیں۔


چاہیں تو اس خط کو اپنے سے 2 سال بڑے ایک بزرگ صحافی کی بے تکی بڑبڑاہٹ سمجھ کر مسترد کر سکتے ہیں۔ میں نے زندگی میں دولت، اقتدار، غربت، فیاضی اور منافقت کو قریب سے دیکھا ہے۔ میں نے اس سفر میں یہی سیکھا ہے... کسی شخص کا مذہب مجھے اس کے کردار کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا، اس کے اعمال اور طرز عمل ہی اس کی حقیقت بیان کرتے ہیں۔

مخلص
اے جے فلپ

(اس خط کا تفصیلی حقیقی ورژن ’انڈین کرینٹس‘ میں شائع ہو چکا ہے)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔