سیاسی

یہ بہت اہم ہے کہ کسی وزیر اعظم کو تاریخ کس طرح یاد رکھتا ہے... آکار پٹیل

نریندر مودی بھلے ہی جواہر لال نہرو اور کئی دیگر لوگوں کا ریکارڈ توڑ دیں، لیکن تاریخ پھر بھی یہی پوچھے گا کہ انھوں نے آخر کیا بنایا ہے؟

<div class="paragraphs"><p>پی ایم مودی، فائل تصویر</p></div>

پی ایم مودی، فائل تصویر

 

متروں، رام مادھو نے حال ہی میں ایک مضمون میں لکھا ہے کہ وزیرِ اعظم مودی ایک اہم سنگِ میل تک پہنچ گئے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ اس سال 10 جون کو مودی وزیر اعظم کے طور پر بلاتعطل 4399 دن مکمل کر رہے ہیں، اور اس طرح وہ جواہر لال نہرو کے 4398 دن تک بلا تعطل وزیر اعظم رہنے کے ریکارڈ کو پیچھے چھوڑ دیں گے۔

Published: undefined

’بلا تعطل‘ جیسا عجیب لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کیونکہ اندرا گاندھی تقریباً 6000 دن تک وزیر اعظم کے عہدے پر رہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وقت کے ساتھ مودی اس عدد کو بھی پار کر لیں گے۔ یہاں زیادہ دلچسپ بات مادھو کا یہ دعویٰ ہے کہ ’’بلاشبہ، مودی کو ہندوستان کے سب سے بااثر اور کامیاب وزیر اعظم کے طور پر یاد کیا جائے گا۔‘‘ اس کے حق میں وہ دلیل دیتے ہیں کہ مودی ’’وزیر اعظم کے طور پر اپنی تیسری مدت کار کے وسط میں ہیں۔ اس کے باوجود ہندوستانی سیاست کے منظرنامے پر ان کا غلبہ بہت زیادہ اور ناقابل تردید بنا ہوا ہے۔ یہ طے ہے کہ وہ مزید کئی ریکارڈ توڑیں گے، کیونکہ وہ آنے والے کئی برسوں تک ملک کی قیادت کرتے رہیں گے۔‘‘

Published: undefined

ہاں، طویل عرصے تک قائم رہنا ضروری ہے اور بعض لوگوں کے لیے کریز پر زیادہ دیر تک ٹکے رہنا بھی اہم ہوتا ہے۔ لیکن ناظرین کے نقطۂ نظر سے جو چیز معنی رکھتی ہے، وہ یہ ہے کہ اسکور بورڈ پر کیا نظر آ رہا ہے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ طویل عرصے تک قائم رہنے کے برعکس، اعداد و شمار اتنے واضح نہیں ہیں۔ مادھو کا کہنا ہے کہ مودی کی کامیابیوں میں یہ بات شامل ہے کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان کی جی ڈی پی دو گنی ہو گئی۔ لیکن آزادی کے بعد سے ہر دہائی میں یہ دو گنی ہوتی رہی ہے۔ یقیناً 1960 کے بعد سے تو ایسا ہوا ہی ہے (جب سے ہمارے پاس ورلڈ بینک کا ڈاٹا موجود ہے)۔ اور کیا؟ مادھو کہتے ہیں کہ ’’خارجہ پالیسی میں مودی نے ایک شاندار تاریخ رقم کی ہے۔‘‘ کیسے؟ یہ ہمیں معلوم نہیں۔ آج دنیا میں جو کچھ ہو رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ ماننا مشکل ہے کہ ہندوستان کی کوئی اہمیت نہیں ہے، اور یہ الزام بھی درست ہو سکتا ہے کہ ہندوستان اکثر خوشامد کا رویہ اختیار کرتا ہے، خاص طور پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے معاملے میں۔ تاہم، آج ہمیں اس پر بات کرنے کی ضرورت نہیں۔

Published: undefined

سوال یہ ہے کہ مودی کے جانے کے 6 دہائیاں بعد انہیں کس طرح یاد کیا جائے گا۔ 2086 کے ہندوستان میں لوگ مودی کے بارے میں کیا لکھیں گے اور کیا کہیں گے؟ کیا یہ بالکل ویسا ہوگا جیسے آج نہرو کے انتقال کے 62 برس بعد، ہم ان کے بارے میں بات کرتے اور لکھتے ہیں؟ مجھے اس بات کی فکر ہے کہ ممکن ہے ہم (یعنی وہ لوگ جو تب تک زندہ ہوں گے اور جو اس کے بعد پیدا ہوں گے) مودی کا ذکر ہی نہ کریں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ موجودہ چیزیں، لوگ اور واقعات وقت کے ساتھ بہت تیزی سے ماند پڑ جاتے ہیں۔ گاوسکر نے سچن تندولکر کو جگہ دی، انہوں نے وراٹ کوہلی کو جگہ دی، انہوں نے ویبھو کو جگہ دی۔ حال میں ہمیشہ کوئی نئی اور چمکدار چیز موجود ہوتی ہے اور موجودہ نسل کا اپنے دور کے ستاروں کے ساتھ تعلق ہمیشہ ماضی کی چیزوں کے مقابلے میں زیادہ تازہ اور گہرا ہوتا ہے۔

Published: undefined

لیکن اگر یہ بات درست ہے تو نہرو کیوں فراموش نہیں ہوئے، اور مادھو اور ہم میں سے جو لوگ اس وزیر اعظم کے مداح ہیں، وہ پرانے جواہر لال کو ان کے رخصت ہو جانے کے اتنے عرصے بعد بھی بار بار کیوں سامنے لاتے ہیں؟ یہیں سے ہم دوسری وجہ کی طرف آتے ہیں جس کے باعث نہرو آج بھی اپنی فکر اور اثر کے ذریعے ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہ ان کی چھوڑی ہوئی میراث کی وجہ سے ہے۔ پہلی میراث ہر قسم کے ادارے ہیں (مثلاً تعلیم، سائنس، ثقافت اور طب سے متعلق ادارے) جن کا انہوں نے تصور پیش کیا اور جنہیں قائم کیا۔ دنیا میں، اور خاص طور پر ہمارے خطے میں، ایسی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ نہرو کی قائم کردہ بے شمار چیزوں کا موازنہ مودی کی سوچی اور مکمل کی گئی چیزوں سے کیجیے۔ مودی کے کام میں ایسی کوئی چیز تلاش کرنا مشکل ہے۔ شاید بیچارا ’نیتی آیوگ‘ (کیا وہ اب بھی موجود ہے؟) ہی وہ ایک ادارہ ہو سکتا ہے جو مودی مستقبل کے ہندوستان کو دے جائیں، لیکن اس کے علاوہ اور کیا؟ کہنا مشکل ہے۔ نہرو کی چھوڑی ہوئی دوسری چیز، ان کے قائم کردہ اداروں کی طرح، آج بھی ہمارے ارد گرد موجود ہے اور ان سے جڑی ہوئی ہے، جسے ’ہندوستان کا تصور‘ (آئیڈیا آف انڈیا) کہا جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا متنوع معاشرہ جو جدیدیت کی طرف بڑھ رہا ہو۔

Published: undefined

یہاں ہم یہ تسلیم کر سکتے ہیں کہ مودی تبدیلی لائے ہیں اور ماضی سے اس طرح الگ ہوئے ہیں جس کا اثر شاید ان اداروں سے کہیں زیادہ دیرپا ہو جو انہوں نے بنائے یا نہیں بنائے۔ مادھو اپنی بات اس نتیجے کے ساتھ ختم کرتے ہیں کہ ’’صرف اعداد و شمار ہی مودی کو دوسروں سے ممتاز نہیں کرتے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لیڈر کے طور پر انہوں نے جس طرز حکمرانی، نظریاتی بصیرت اور مؤثر ترقیاتی ایجنڈے کو پیش کیا ہے، وہی انہیں ہندوستانی سیاست کا درخشاں ستارہ بناتا ہے۔‘‘ لیکن ہم اپنے اردگرد کے ہندوستان کو دیکھتے ہیں، جسے مادھو ایک درخشاں ستارہ قرار دیتے ہیں، وہ ایسے قوانین اور پالیسیوں سے گھرا ہوا نظر آتا ہے جو لوگوں کو خارج کرنے اور ہراساں کرنے والی ہیں۔ بلڈوزر، لنچنگ، خاص طور پر سخت جانچ پڑتال وغیرہ وغیرہ۔ یقیناً ان میں سے بیشتر چیزیں نئی نہیں ہیں، لیکن ان کی شدت نئی ہے اور یہ مودی کی ہندوستان کو دی گئی میراث ہے۔

Published: undefined

یہ یقینی نہیں کہ جس چیز کا ہم نے تجربہ کیا ہے، وہ 2086 تک برقرار رہے گی یا نہیں۔ ہونا تو یہی چاہیے کہ ایسا نہ ہو، لیکن میرے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ تب تک میں اسے دیکھنے کے لیے زندہ نہیں ہوں گا۔ میرا اندازہ (جو گزشتہ چند برسوں میں مودی کی چھوڑی ہوئی میراث کے شواہد پر مبنی ہے) یہ ہے کہ اگر یہ سلسلہ ایک دہائی یا اس سے زیادہ عرصے تک بھی جاری رہا (6 دہائیاں تو بہت دور کی بات ہے) تو مودی کو یقیناً یاد رکھا جائے گا، لیکن ان وجوہات کی بنیاد پر نہیں جن کی بنیاد پر مادھو انہیں یاد کروانا چاہیں گے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined