
ہندوستانی مہاجر طبقہ ڈبلن میں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے، تصویر سوشل میڈیا
یہ بات بڑی حد تک سبھی جانتے ہیں کہ نریندر مودی کے مسلسل غیر ملکی دورے سفارت کاری سے کہیں زیادہ، بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کے درمیان بڑے اجتماعات کے ذریعے اپنے حامیوں کو یہ یقین دلانے کے لیے ہوتے ہیں کہ وہ ایک بہت بڑے قد کے رہنما ہیں، جنہیں پوری دنیا پسند کرتی ہے۔ برسوں تک پہلے سے طے شدہ ان تشہیری پروگراموں کے ذریعے ان کے حامیوں اور ان کے قریبی میڈیا کو وہی تماشا دکھایا جاتا رہا، جو وہ چاہتے تھے۔ وہ ایسے رہنما کے حق میں نعرے لگاتے تھے، جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ وہ انہیں دوسروں کے سامنے اپنی بڑائی بیان کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
سفارت خانوں کے زیر اہتمام پروگراموں میں بھیڑ کا ’مودی، مودی‘ کے نعرے لگانا اور بیرونِ ملک مقیم خوش حال ہندوستانیوں کی جانب سے حمایت کے اس مظاہرے کو میڈیا کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کے اندر بھی ان کی شبیہ مزید مضبوط ہوئی۔ ممکن ہے کہ ہر کوئی ان سے اتنا متاثر نہ رہا ہو، لیکن ان کے ناقدین اپنے حامیوں کے مقابلے میں اتنے بے باک نظر نہیں آئے۔ لیکن اب صورت حال بدلتی دکھائی دے رہی ہے؛ یورپ، شمالی امریکہ اور آسٹریلیا کی سڑکوں پر ’جنتر منتر ہر جگہ ہے‘ کے بینر تلے احتجاجی مظاہرے ہو رہے ہیں۔ مظاہرین اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور ہم وطنوں کے مطالبات ہی دہرا رہے ہیں، یعنی جواب دہی، منصفانہ انتخابات اور اختلاف رائے کے اظہار کی آزادی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
لندن، نیویارک، ٹورنٹو، سڈنی، برلن، ڈبلن، اسٹاک ہوم، کوپن ہیگن، دی ہیگ اور دیگر شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں طلبہ، پیشہ ور افراد اور کارکنان ہندوستان میں مبینہ طور پر بڑے پیمانے پر ہونے والی انتخابی بے ضابطگیوں اور مظاہرین پر کیے جانے والے ظالمانہ جبر کے خلاف متحد نظر آئے۔ بیرون ملک ہونے والے ان احتجاجی مظاہروں کی اہمیت ان میں شریک لوگوں کی تعداد سے کہیں زیادہ ہے۔ 50 افراد کا بھی ایک ساتھ جمع ہونا خاموشی توڑنے، انتقامی کارروائی کے خوف کو کم کرنے، باہمی تعلقات قائم کرنے اور مستقبل میں احتجاجی مظاہروں کی راہ آسان بنانے کا سبب بن سکتا ہے۔
تاہم یہ کہنا بھی قبل از وقت ہوگا کہ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں نے مودی سے امیدیں چھوڑ دی ہیں۔ بیرونِ ملک رہنے والے ہندوستانی مذہب، ذات، طبقے، نسل اور سیاسی تجربات کی بنیاد پر تقسیم ہیں۔ کارنیگی کے ’2024 انڈین امریکن ایٹیٹیوڈس سروے‘ سے پتہ چلتا ہے کہ 47 فیصد لوگ اب بھی مودی کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ مایوسی بڑھ رہی ہے، لیکن ہر جگہ اس کی صورت ایک جیسی نہیں ہے۔ ویسے بھی، امریکہ میں کیا گیا کوئی سروے دنیا بھر میں مقیم ہندوستانی برادریوں کی رائے کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔ یہ احتجاجی مظاہرے ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی برادری کے اندر شدید مخالفت کے لیے جگہ موجود ہے اور لوگ اب اس کا استعمال کرنے لگے ہیں۔
یہ معلومات اس سیاسی تصور کو بھی چیلنج کرتی ہیں، جسے مودی گزشتہ بارہ برسوں سے فروغ دیتے رہے ہیں کہ بیرونِ ملک ہندوستانیوں کا مقام دنیا میں ’ان کے‘ یعنی مودی کے قد و قامت پر منحصر ہے۔ ایسے میں ان کی تعریف کرنا ان کی قوم پرستی کا ثبوت بن جاتا ہے، جب کہ تنقید کرنا مادرِ وطن کی توہین قرار پاتا ہے۔ اگرچہ یہ لوگ ان ممالک کے تکثیری نظام سے فائدہ اٹھاتے ہیں، جہاں وہ آباد ہیں، یا وہاں امتیازی سلوک کے خلاف تحفظ کا مطالبہ کرتے ہیں جہاں وہ رہتے ہیں، اس کے باوجود بیرونِ ملک مقیم بہت سے ہندوستانی ہندوستان میں ’اکثریت پسندی‘ کے حامی ہیں۔ مودی کے ہندوستان میں اقلیتوں کو نشانہ بنایا جائے تو انہیں اس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی۔ لیکن اب بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کا ایک ایسا گروہ سامنے آیا ہے، جو ہندوستان میں تمام شہریوں کے لیے مساوی شہریت کا پرزور مطالبہ کرتے ہوئے اس منافقت کو چیلنج کر رہا ہے۔
بیرون ملک مقیم ہندوستانیوں کی جانب سے احتجاج اس اکتوبر میں شروع نہیں ہوا ہے۔ 2021 میں کسانوں کی تحریک کی حمایت میں سکھ تنظیموں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ ذات پات کے خلاف کام کرنے والے گروہوں، مسلم تنظیموں، سیکولر اداروں اور طلبہ کے نیٹ ورکس نے برسوں سے ہندو انتہا پسندی کو چیلنج کیا ہے۔ ان کی کوششوں کو تسلیم کیا جانا چاہیے۔ موجودہ احتجاجی مظاہروں کا اثر ان طلبہ پر بھی پڑ رہا ہے، جو وطن واپس آنے پر بھرتی کے امتحانات کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ ایسے بہت سے لوگ، جو خود کو ’سیاست سے دور‘ سمجھتے تھے یا اب تک سیاسی مباحث سے گریز کرتے رہے تھے، اب اپنے ملک میں پیش آنے والے واقعات پر کھل کر بولنے لگے ہیں۔ وہ پُرامن مظاہرین پر پولیس کے وحشیانہ تشدد سے ناراض ہیں۔ ممکن ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ کبھی مودی کے مداح رہے ہوں، لیکن اب انہیں اپنی اس نادانی کا احساس ہو رہا ہے۔ تاہم، سوچ میں آنے والی یہ تبدیلی اب بھی ایک جاری عمل ہے۔
خوف آج بھی ایک رکاوٹ ہے اور بیرونِ ملک مقیم لوگوں کے معاملے میں یہ قدرے مختلف شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مظاہرین کی تعداد میں آسانی سے اضافہ نہیں ہوتا۔ ہزاروں کلومیٹر دور رہنے والے لوگ اب بھی اپنے خاندان، قریبی یا دور کے رشتہ داروں اور دوستوں کے بارے میں، وطن واپس جانے میں پیش آنے والی مشکلات کے بارے میں اور ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں فکر مند ہو سکتے ہیں۔
او سی آئی کارڈ رکھنے والے اداکار عمران خان کے خلاف حال ہی میں کی گئی کارروائی نے ان خدشات کو سچ ثابت کر دیا۔ ممبئی میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں مبینہ طور پر شرکت کے بعد انہیں ہندوستان چھوڑنے کا حکم تھما دیا گیا اور ان کے او سی آئی درجے پر بھی سوال اٹھائے گئے۔ انہوں نے اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا ہے اور معاملہ جس بھی رخ پر جائے، انہیں جس طرح پریشان کیا گیا ہے، اس میں دوسروں کے لیے ایک پیغام پوشیدہ ہے: ’اپنے ہی ملک کے بارے میں اختلافِ رائے کا اظہار آپ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔‘
اس کا دوسرا پہلو بھی سچ ہے... عوامی احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے سے لوگوں کو پتہ چلتا ہے کہ جن خدشات کا وہ شکار ہیں، دوسرے لوگ بھی اسی طرح سوچتے ہیں۔ ممکن ہے کسی طالب علم کی ملاقات کسی وکیل سے ہو جائے، کسی پیشہ ور شخص کو کوئی منتظم مل جائے، یا اب تک تنہا کام کرنے والے کسی شخص کو برادری اور مشترکہ مقاصد کی اہمیت کا احساس ہو جائے! مل کر ہندوستانی آئین کا مطالعہ کرنے سے انہیں ایک ایسا مشترکہ مقصد مل جاتا ہے، جو کسی آمر کے خلاف ان کے انفرادی غصے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔ یہ نئے تعلقات اور روابط موجودہ احتجاجی مظاہروں کے ختم ہونے کے بعد بھی برقرار رہ سکتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے لوگوں کو متحد کرنے کی کوششیں مسلسل جاری رکھنی ہوں گی، چاہے سوشل میڈیا سے ان مظاہروں کی تصاویر غائب ہی کیوں نہ ہو جائیں۔
احتجاجی مظاہرے مثالوں سے بھی پھیلتے ہیں۔ فرانس، اٹلی اور البانیہ میں مظاہروں کی فوری وجوہات الگ الگ ہیں، اس لیے انہیں ایک بڑی بین الاقوامی بغاوت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ اس کے باوجود جب نوجوان ایسے اداروں کو چیلنج کرتے ہیں جو ان کی بات نہیں سنتے، تو ان کی تصاویر دوسروں کو بھی قدم اٹھانے کی ترغیب دے سکتی ہیں۔ یہ تصاویر ظاہر کرتی ہیں کہ مایوسی کو صرف اپنے تک محدود رکھنے کی ضرورت نہیں ہے، اور یہ بھی کہ ایسی حکومت کی مخالفت کرنا جو لوگوں کی بات نہیں سنتی، کوئی ملک مخالف عمل نہیں ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی برادری نے شاید ایک اہم سبق سیکھا ہے: پُرامن طریقے سے منظم ہونے اور احتجاجی مظاہرے کرنے میں بڑی طاقت ہوتی ہے۔ تشدد سے خود مظاہرین کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے، حامی دور ہو سکتے ہیں اور حکومتوں کو ان مطالبات کو نظر انداز کرنے کا بہانہ مل سکتا ہے، جن کے لیے لوگ سڑکوں پر اترے تھے۔
بیرونِ ملک ہونے والی تنقید کے تئیں مودی حکومت کی حساسیت، بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کے احتجاجی مظاہروں کو سیاسی اہمیت عطا کرتی ہے۔ کسانوں کی تحریک کو ملنے والی بین الاقوامی حمایت پر جس طرح ردعمل ظاہر کیا گیا، وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عالمی رائے کے معاملے میں کتنی حساس یا بے چین ہے۔ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کے احتجاجی مظاہروں کا سب سے زیادہ اثر مغربی جامعات، طلبہ تنظیموں، شہری سماج اور میڈیا میں دکھائی دے گا۔ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانی ہندوستان کے الیکشن کمیشن کی انتخابی بے ضابطگیوں کو سامنے لانے میں مدد کر سکتے ہیں، اپنے تجربات مشترک کر سکتے ہیں اور اس دعوے کو چیلنج کر سکتے ہیں کہ مودی پر تنقید کرنے کا مطلب ہندوستان کی مخالفت کرنا ہے۔ وہ بین الاقوامی صحافیوں کو سفارت خانوں کی بریفنگ سے ہٹ کر دوسری آوازوں سے بھی متعارف کرا سکتے ہیں۔ وہ دوسروں کو یہ سمجھنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں کہ ہندوستان کے مستقبل کے لیے انتخابی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور اظہارِ رائے کی آزادی کیوں اہمیت رکھتے ہیں۔
مغربی حکومتوں کا معاملہ بالکل الگ ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں سے حکومتوں کے طرزِ عمل یا ان کی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آنے والی، کیونکہ یہ پالیسیاں اسلحے کی فروخت، تجارت، اقتصادی مفادات اور چین سے وابستہ مبینہ خطرات جیسے خود غرضانہ مفادات سے متاثر ہوتی ہیں۔ مغربی حکومتیں خواہ جمہوریت کی حمایت کا ظاہری مظاہرہ کریں یا ہندوستان کے اداروں کے کمزور ہونے پر تشویش ظاہر کریں، لیکن وہ ان باتوں کو مودی کے ہندوستان کے ساتھ اپنی تجارت کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیں گی۔
عوامی دباؤ کے نتیجے میں پارلیمنٹ میں سوالات تو اٹھ سکتے ہیں، لیکن حکومتیں ترجیح ہمیشہ اپنے تزویراتی مفادات ہی کو دیں گی۔ بیرونِ ملک مقیم ہندوستانیوں کا کام یہ ہے کہ وہ ہندوستان پر توجہ مرکوز رکھیں، جمہوری جدوجہد کی حمایت کریں اور اس دعوے کو پوری قوت سے غلط ثابت کریں کہ ’مودی حکومت ہی ہندوستان ہے‘۔
(اشوک سوین سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں امن اور تنازعات کے مطالعے (پیس اینڈ کانفلکٹ ریسرچ) کے پروفیسر ہیں۔)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔