سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ بنگلہ دیش کا انتخاب رَد کرانے کا مطالبہ لے کر اقوام متحدہ پہنچیں!

شیخ حسینہ کا الزام ہے کہ طارق حکومت اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق شق 19، پرامن اجلاس کے حق سے متعلق شق 21، تنظیم کی آزادی سے متعلق شق 22 اور سیاسی حقوق سے متعلق شق 25 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>شیخ حسینہ / آئی اے این ایس</p></div>
i

سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ جلد بنگلہ دیش جانے کا ارادہ ظاہر کر چکی ہیں، لیکن اس سے قبل انھوں نے ایک بڑی پیش قدمی کی ہے۔ شیخ حسینہ نے عوامی لیگ پر پابندی عائد کیے جانے کے خلاف اقوام متحدہ میں عرضی داخل کی ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیش کی عدالتوں میں انصاف مل پانا مشکل ہے، اس لیے یہاں پر اس کی سماعت ہو۔ ساتھ ہی انھوں نے بنگلہ دیش کا انتخاب رَد کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ 2024 میں شیخ حسینہ کے تختہ پلٹ کے بعد عوامی لیگ پر پابندی عائد کر دی گئی۔ 2026 کے انتخاب میں بھرپور کوششوں کے باوجود عوامی لیگ کو انتخاب میں اترنے کی اجازت نہیں ملی۔ یہی وجہ ہے کہ سابق وزیر اعظم نے انتخاب کو ہی رد کرنے کی گزارش اقوام متحدہ میں کر دی ہے۔ بنگلہ دیش کے اخبار ’مانو جیون‘ کے مطابق حسینہ کی عرضی سے طارق رحمن حکومت کی مشکلیں بڑھ سکتی ہیں، کیونکہ حسینہ نے عرضی میں طارق حکومت کو غیر قانونی بتایا ہے۔


شیخ حسینہ کی طرف سے داخل عرضی میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کی حکومت اظہارِ رائے کی آزادی سے متعلق شق 19، پرامن اجلاس کے حق سے متعلق شق 21، تنظیم کی آزادی سے متعلق شق 22 اور سیاسی حقوق سے متعلق شق 25 کی خلاف ورزی کر رہی ہے۔ حسینہ کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی بنگلہ دیش کی سب سے پرانی پارٹی ہے، لیکن اسے انتخاب ہی نہیں لڑنے دیا جا رہا ہے۔ یہ سیاسی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ان کا الزام ہے کہ طارق رحمن کی حکومت اس لیے بنگلہ دیش میں آ پائی، کیونکہ وہاں پر عوامی لیگ کے امیدوار میدان میں نہیں تھے۔ اگر عوامی لیگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت ملتی تو طارق رحمن وزیر اعظم نہیں بن پاتے۔

شیخ حسینہ کی طرف سے اقوام متحدہ میں ایڈووکیٹ اسٹیون پاویلس کے سی (کنگس کاؤنسل) نے عرضی داخل کی ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طارق رحمن کی حکومت آنے کے بعد کوئی بھی وکیل عوامی لیگ کے کارکنان کا کیس نہیں لڑنا چاہتے ہیں۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھی وکیل معاملے میں آگے آتا ہے، ان پر حملہ ہوتا ہے۔ حسینہ کا کہنا ہے کہ اس وقت بنگلہ دیش میں انھیں انصاف نہیں مل سکتا ہے، اس لیے انھوں نے اقوام متحدہ کا سہارا لیا ہے۔ حسینہ نے بنگلہ دیش میں عوامی لیگ کو انتخاب لڑنے کی اجازت دلانے اور بنگلہ دیش میں از سر نو انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔