نیٹ یو جی پیپر لیک معاملہ: عدالت نے محفوظ رکھا فیصلہ، 18 نومبر کو صادر ہوگا حکم
نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں راؤز ایونیو کورٹ نے 14 ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ عدالت اب 18 نومبر کو اس پر فیصلہ سنائے گی۔

نیٹ یو جی امتحان میں پیپر لیک کا معاملہ ایک بار پھر سرخیوں میں ہے۔ اب اس معاملے میں دہلی کے راؤز ایونیو کورٹ میں ایک اہم سماعت ہوئی ہے۔ عدالت نے 14 ملزمان کے خلاف الزام طے کرنے کے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ فی الحال عدالت نے یہ فیصلہ نہیں سنایا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے باضابطہ طور پر الزام طے کیے جائیں یا نہیں۔ اس معاملے میں اب 18 نومبر کو فیصلہ سنایا جائے گا۔
واضح رہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات سنٹرل بیور آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کر رہی ہے۔ یہ تحقیقات مئی 2026 میں شروع ہوئی تھی۔ تحقیقاتی ایجنسی نے پہلے 13 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ اس کے بعد شیش راؤ بجرنگ سوریہ ونشی کو 14 ویں ملزم کے طور پر شامل کرتے ہوئے ضمنی چارج شیٹ داخل کی گئی۔ اب عدالت کو یہ طے کرنا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ آگے بڑھانے کے لیے کافی بنیاد موجود ہے یا نہیں۔ عدالت کا اگلا حکم اس معاملے میں مزید قانونی کارروائی کے لیے اہم ہوگا۔
نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں راؤز ایونیو کورٹ نے 14 ملزمان کے خلاف الزامات طے کرنے سے متعلق اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ عدالت اب 18 نومبر کو اس پر فیصلہ سنائے گی۔ سی بی آئی کی تحقیقات کے بعد ایجنسی نے جولائی میں 13 ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل کی تھی۔ عدالت نے اگست 2026 میں اس چارج شیٹ کا نوٹس لیا تھا۔ اس کے بعد 14 ویں ملزم شیش راؤ بجرنگ سوریہ ونشی کے خلاف ضمنی چارج شیٹ داخل کی گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں : نیٹ یو جی پیپر لیک معاملے میں سی بی آئی نے چارج شیٹ داخل کی
قابل ذکر ہے کہ سی بی آئی نیٹ یو جی امتحان کا سوالیہ پرچہ مبینہ طور پر لیک ہونے کے معاملے کی تحقیقات کر رہی ہے۔ تفتیشی ایجنسی نے الزام عائد کیا ہے کہ امتحان سے قبل کچھ امیدواروں کو مبینہ طور پر لیک ہوئے سوالات فراہم کیے گئے تھے۔ عدالت کی جانب سے فیصلہ محفوظ رکھنے کا مطلب ہے کہ فی الحال فیصلہ نہیں سنایا گیا ہے۔ عدالت پہلے یہ دیکھے گی کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے کافی ثبوت موجود ہیں یا نہیں۔ اگر عدالت الزامات طے کرتی ہے تو ان کے خلاف مقدمے کی سماعت آگے بڑھے گی۔
