ٹائیگر شراف فائرنگ کیس: 11 ملزم مکوکا عدالت میں پیش، کرائم برانچ کی 10 روزہ ریمانڈ کی درخواست
ٹائیگر شراف پر فائرنگ کیس میں گرفتار ملزمان کو ممبئی کی مکوکا عدالت میں پیش کیا گیا۔ کرائم برانچ نے اسلحے، نیٹ ورک اور ڈیجیٹل شواہد کی تفتیش کے لیے ریمانڈ مانگا، جبکہ ملزمان کے وکلا نے اس کی مخالفت کی

ممبئی: اداکار ٹائیگر شراف سے منسلک فائرنگ کے معاملے میں گرفتار 11 ملزمان کو جمعرات کو ممبئی کی خصوصی مکوکا عدالت میں پیش کیا گیا۔ ممبئی کرائم برانچ نے تفتیش کے لیے عدالت سے ملزمان کا 10 روزہ پولیس ریمانڈ طلب کیا۔ پولیس نے دعویٰ کیا کہ تحقیقات کے دوران ڈیجیٹل شواہد اور ملزمان کے درمیان ہونے والی وائس چیٹ ملی ہے۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق ملزمان مبینہ طور پر ایک ٹیم کی صورت میں کام کر رہے تھے۔
کرائم برانچ نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف مہاراشٹر کنٹرول آف آرگنائزڈ کرائم ایکٹ، یعنی مکوکا، کی دفعات عائد کی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق، اس معاملے کا مبینہ سرغنہ انل پنڈت ہے، جو فی الحال مفرور ہے۔ تفتیشی ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ واردات اسی کے حکم پر انجام دی گئی۔
پولیس نے ریمانڈ کی درخواست میں کہا کہ ملزمان سے اسلحے کے ذرائع معلوم کرنے ہیں۔ برآمد شدہ ہتھیاروں میں سے ایک کے غیر ملکی ہونے کا بھی شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ کرائم برانچ یہ بھی جاننا چاہتی ہے کہ واردات کے لیے ملزمان کو مقامی سطح پر کس نے مدد فراہم کی اور اس مبینہ نیٹ ورک میں دیگر افراد کا کیا کردار تھا۔
پولیس کے مطابق، ملزمان ایک دوسرے سے رابطے کے لیے سگنل جیسے غیر ملکی میسجنگ ایپس استعمال کرتے تھے تاکہ اپنی شناخت چھپا سکیں۔ ایجنسی نے کہا کہ ان کے درمیان گفتگو سے متعلق ڈیجیٹل شواہد ملے ہیں۔ اسی بنیاد پر پولیس نے ملزمان سے پوچھ گچھ اور ان کے وائس سیمپل ریکارڈ کرنے کی اجازت بھی مانگی۔
کرائم برانچ نے عدالت میں دلیل دی کہ ملزمان کو آمنے سامنے بٹھا کر پوچھ گچھ ضروری ہے، تاکہ ان کے بیانات کا موازنہ کیا جا سکے اور واردات میں ممکنہ طور پر شامل دوسرے افراد کی شناخت ہو سکے۔ پولیس مالی لین دین اور مبینہ گینگ نیٹ ورک کے بارے میں بھی معلومات حاصل کرنا چاہتی ہے۔
ملزمان کے وکلا نے پولیس ریمانڈ کی مخالفت کی۔ ملزمان کے وکلا نے مؤقف اختیار کیا کہ پولیس پہلے ہی ہتھیار برآمد کر چکی ہے اور بڑی برآمدگی ہو چکی ہے۔ وکلا کے مطابق، ملزمان کے بینک کھاتوں سے متعلق لین دین کی تفصیلات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں، اس لیے انہیں مزید پولیس تحویل میں رکھنے کے بجائے عدالتی ریمانڈ پر بھیجا جائے۔
سماعت کے دوران نویں ملزم سمیر کی طبی حالت کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ دفاعی وکلا نے عدالت کو بتایا کہ سمیر کا صرف ایک گردہ کام کر رہا ہے اور اس سلسلے میں طبی رپورٹ پیش کیے جانے کا ذکر کیا۔
عدالت میں زبان کے حوالے سے بھی بات ہوئی۔ جج نے ملزمان سے کہا کہ انہیں تفتیش میں پولیس سے تعاون کرنا ہوگا، پھر پوچھا کہ کیا وہ مراٹھی جانتے ہیں۔ ملزمان نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر جج نے ہندی میں تبصرہ کیا کہ وہ مہاراشٹر میں موجود تھے، مگر انہیں مراٹھی نہیں آتی۔ پولیس نے اسلحے کے ذرائع، مبینہ گروہ، مالی لین دین اور ڈیجیٹل شواہد کی مزید تفتیش کے لیے 10 روزہ ریمانڈ پر زور دیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
