
طاہر فراز کا سانحہ ارتحال
اردو غزل کے معتبر اور عوامی لہجے کے شاعر، دبستانِ رامپور کی پہچان اور مشاعروں میں شائستگی و وقار کی علامت طاہر فراز کا آج انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کی خبر سامنے آتے ہی ادبی دنیا، شعر دوست حلقوں اور ان کے چاہنے والوں میں گہرے رنج و غم کی لہر دوڑ گئی۔ طاہر فراز اس وقت ممبئی میں ایک گھریلو تقریب میں شرکت کے لیے گئے ہوئے تھے، جہاں اتوار کی صبح دل کا دورہ پڑنے سے انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔
ان کے انتقال کی خبر آج صبح اولین ساعتوں میں عام ہوئی، جس کے بعد اردو ادب کے ساتھ ساتھ سماجی اور ثقافتی حلقے بھی سوگوار نظر آئے۔ سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سیلاب آ گیا، جس میں اہلِ قلم، صحافی، شعرا اور عام قارئین سبھی نے اپنے غم اور عقیدت کا اظہار کیا۔
Published: undefined
طاہر فراز کی اہمیت محض اس بات میں نہیں تھی کہ وہ مشاعروں کے مقبول شاعر تھے، بلکہ اس میں تھی کہ ان کی گُفتگو براہِ راست عوام سے تھی۔ ان کا لہجہ نہایت سادہ، رواں اور قابلِ فہم تھا، اس حد تک کہ ایک عام ذہنی سطح کا شخص بھی ان کی شاعری سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ یہی وصف ان کی غزل کو طبقاتی حد بندیوں سے آزاد کرتا ہے اور شاعری کو ایک ہمہ گیر صورت عطا کرتا ہے۔
وہ کم لفظوں میں گہری بات کہنے کا ہنر جانتے تھے:
جب کبھی بولنا وقت پر بولنا
مدتوں سوچنا، مختصر بولنا
یہ شعر محض نصیحت نہیں بلکہ ان کے پورے شعری مزاج کی نمائندگی کرتا ہے۔
Published: undefined
طاہر فراز کا لہجہ اور لے غیر معمولی طور پر خوش آہنگ تھی۔ ان کی غزل ایک شفاف اور سرسبز چشمے کی مانند محسوس ہوتی تھی، جس میں بناوٹ یا تصنع کا شائبہ نہیں ملتا۔ ان کے کلام کی یہی فطری موسیقیت اور نامیاتی آہنگ انہیں مشاعروں کے عام شاعروں سے ممتاز کرتا تھا۔ جب وہ ترنم میں اپنا کلام سناتے تو محفل پر ایک وقار بھری خاموشی چھا جاتی۔
ان کی شاعری میں درد، تڑپ اور ایک گہری اندرونی ٹیس صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ یہ درد کسی مصنوعی جذباتیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ زندگی کے تجربات اور مشاہدات سے جنم لینے والا سچ تھا:
اس بلندی پہ بہت تنہا ہوں
کاش میں سب کے برابر ہوتا
یہ تنہائی ایک فرد کی نہیں بلکہ حساس انسان کی تنہائی ہے، جو ہجوم میں رہتے ہوئے بھی خود کو الگ محسوس کرتا ہے۔
Published: undefined
طاہر فراز 29 جون 1953 کو بدایوں میں پیدا ہوئے، جو اردو شاعری کے لیے ایک زرخیز خطہ مانا جاتا ہے۔ ان کی ابتدائی تعلیم بدایوں ہی میں ہوئی۔ بچپن سے ہی ان کا رجحان شاعری کی طرف نمایاں تھا۔ سات آٹھ برس کی عمر میں وہ اپنے والد کے ساتھ ادبی نشستوں میں شریک ہونے لگے، جہاں عروض اور بحور کی عملی سمجھ پیدا ہوئی۔
انٹرمیڈیٹ کے بعد وہ رامپور آ گئے اور یہیں مستقل قیام اختیار کیا۔ رامپور میں انہیں ڈاکٹر شوق اثری رامپوری جیسے صاحبِ نظر استاد کی رہنمائی حاصل ہوئی، جن کے زیرِ سایہ انہوں نے غزل کے فنی تقاضوں کو سیکھا۔ ستر کی دہائی کے اواخر تک وہ شاعری کی دنیا میں ایک مستحکم اور معتبر نام بن چکے تھے۔
Published: undefined
انہوں نے روہیل کھنڈ یونیورسٹی، بریلی سے اردو میں ایم اے کی تعلیم مکمل کی۔ ان کا شعری مجموعہ ’کشکول‘ شائع ہوا، جسے ادبی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی ملی۔ ان کی غزلوں میں سفر، ٹھوکر، راستہ اور مسافر جیسے استعارے بار بار آتے ہیں، مگر ہر بار نئے مفہوم کے ساتھ:
حادثے راہ کے زیور ہیں مسافر کے لیے
ایک ٹھوکر جو لگی ہے تو ارادہ نہ بدل
یہ اشعار محض شاعری نہیں بلکہ زندگی کو برتنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔
Published: undefined
اہلِ قلم کا ماننا ہے کہ طاہر فراز کی شاعری میں جو بات دل سے نکلتی تھی، وہ سیدھی دل تک پہنچتی تھی۔ یہی وہ وصف ہے جسے فارسی مقولے ’از دل خیزد، بر دل ریزد‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور جو بہت کم شاعروں کو نصیب ہوتا ہے۔
آج طاہر فراز ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کی غزل، ان کا لہجہ اور ان کی تہذیبی شاعری اردو ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ دبستانِ رامپور ایک معتبر آواز سے محروم ہو گیا ہے، جس کا خلا دیر تک محسوس کیا جاتا رہے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز