6 سوالات جن کا جواب وزیر اعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ میں دینے سے گریز کیا
پی ایم مودی کی لوک سبھا میں عدم موجودگی پر کئی بار سوال اٹھائے گئے ہیں۔ وہ فروری کے پہلے ہفتہ کے بعد سے لوک سبھا میں شریک نہیں ہوئے، جب اسپیکر اوم برلا نے بتایا تھا کہ ان پر حملہ ہو سکتا تھا۔

کناڈا کے وزیر اعظم مائک کارنی نے کناڈا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی نے انھیں بتایا کہ انھوں نے گزشتہ 25 برسوں میں ایک دن کی بھی چھٹی نہیں لی۔ کارنی نے مزید کہا کہ مودی ہر ہفتہ کے آخر میں انتخابی مہم کے لیے نکلتے ہیں۔ انھوں نے ایک کناڈیائی سیاستداں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ بھی انتخابی مہم چلاتے ہیں اور 100 یا اس سے زیادہ لوگوں کی بھیڑ سے خطاب کرتے ہیں، لیکن مودی کی ریلیوں میں تقریباً 2.5 لاکھ افراد شریک ہوتے ہیں۔ یہ بات بھی اکثر بی جے پی کے لیڈران دہراتے ہیں کہ پی ایم مودی روزانہ 18 گھنٹے کام کرتے ہیں، اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے بارے میں مشہور ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ کارکنوں کی ایک میٹنگ میں شرکت کے دوران پی ایم مودی نے مسلسل 3 دنوں تک تازہ دم ہونے کی بھی زحمت نہیں کی۔
تاہم، یہ لوگ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں کیوں نہیں آ رہے۔ بدھ کے روز وزیر داخلہ امت شاہ نے حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی کی ایوان میں مبینہ کم حاضری پر طویل گفتگو کی، لیکن انھوں نے وزیر اعظم کی عدم موجودگی کا ذکر نہیں کیا۔ وزیر اعظم کی پارلیمنٹ میں بیان دینے سے جھجک حیران کن بھی ہے اور یہ ایسا رویہ ظاہر کرتی ہے جسے وہ بذات خود ماننے سے گریز کریں گے۔
ہندوستان کی توانائی سیکورٹی پر ایک بیان اور امریکی بحریہ کی جانب سے ہندوستان کے دورے کے بعد واپسی کے دوران بحر ہند میں ایک ایرانی جہاز کو ڈبونے پر کم از کم افسوس کے اظہار کے علاوہ، اس ہفتہ ملک وزیر اعظم سے کم از کم 6 دیگر سوالوں کے جواب بھی چاہتی تھی۔ آئیے ذرا ان سوالات کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
1. ہند-امریکہ تجارتی معاہدے کی موجودہ صورتحال کیا ہے؟
وزیر اعظم کو ملک کو بتانا چاہیے کہ کن حالات اور کن شرائط پر ہندوستان نے عبوری تجارتی معاہدے کے لیے ایک ’فریم ورک ایگریمنٹ‘ قبول کیا۔ اس کی شرائط کیا ہیں اور ہندوستان نے اگلے 5 برسوں میں امریکہ سے 500 ارب ڈالر کی اشیا درآمد کرنے پر کیوں اتفاق کیا۔ امریکہ کے دعوے کے مطابق ہندوستان نے امریکہ سے زیادہ تر درآمدات پر صفر ٹیرف عائد کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے، ایسا کیوں؟ جب امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یکطرفہ ٹیرف نظام کو غیر قانونی قرار دے دیا ہے تو اس معاہدے کی موجودہ حیثیت کیا ہے؟ کیا ہندوستان نے اپنے کسانوں کے مفادات کا سودا کر لیا ہے؟ وزیر اعظم کو ملک کو یقین دہانی کرانی چاہیے تھی، لیکن ان کی طرف سے کوئی آواز نہیں آئی۔
2. گزشتہ ماہ تل ابیب کے دورے کی کیا وجہ تھی؟
گزشتہ ماہ تل ابیب کا پی ایم مودی کا 2 روزہ دورہ، جو اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف یکطرفہ اور غیر قانونی جنگ شروع کرنے سے 2 دن پہلے ہوا، شدید تنقید کا نشانہ بنا ہے۔ غزہ اور فلسطین پر اسرائیل کے نسل کش حملوں اور بنجامن نیتن یاہو کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کی جانب سے جنگی مجرم قرار دیے جانے کے بعد ہندوستانی وزیر اعظم کا اسرائیل جانا باعث شرمندگی سمجھا گیا۔ اسرائیلی میڈیا کی یہ رپورٹ کہ اسرائیلی پارلیمنٹ نے صرف ان کے لیے ایک تمغہ تیار کیا، دنیا بھر میں طنز کا سبب بنی۔ وزیر اعظم کو وضاحت کرنی چاہیے کہ 2017 کے بعد ان کا دوسرا دورہ کیوں ضروری تھا اور کیا وہ ایران پر اسرائیلی حملہ کے بعد خود کو دھوکہ کھایا ہوا محسوس کرتے ہیں؟
3. اسرائیلی دورہ کے دوران کیے گئے 16 معاہدوں کی تفصیل کیا ہے؟
وزیر اعظم کو ان تقریباً 16 معاہدوں کی تفصیل بھی بتانی چاہیے جن پر 2 روزہ دورے کے دوران ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان دستخط کیے گئے۔ اس کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ جاتی ہے کیونکہ کابینہ کی ایک اطلاع کے مطابق وزیر اعظم کے بیرون ملک دوروں کے دوران کیے گئے معاہدوں کو اب کابینہ کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوگی۔ یہ ایک غیر معمولی شرط ہے کیونکہ ہماری پارلیمانی جمہوریت میں بین الاقوامی معاہدوں کی اجتماعی ذمہ داری کابینہ پر ہوتی ہے۔ آخر ایسا کیا تھا کہ وزیر اعظم کو کابینہ کو نظر انداز کرنا پڑا؟ کیا ہندوستانی پارلیمنٹ کو اس کے بارے میں جاننے کا حق نہیں؟
4. چینی سرمایہ کاری اور ایف ڈی آئی کے لیے قواعد میں نرمی کیوں؟
مرکزی حکومت نے 2020 میں سرحدی تنازعات اور لداخ میں فوجی تصادموں کے بعد چینی ایپس بشمول ’ٹک ٹاک‘ پر پابندی عائد کر دی تھی اور چین کی سرمایہ کاری اور براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری پر پابندیاں لگا دی تھیں۔ اب ایسا کیا بدل گیا کہ حکومت نے اپنا مؤقف بدل کر ان پابندیوں میں نرمی کر دی؟ پارلیمنٹ کو ضرور بتایا جانا چاہیے کہ اس فیصلے کی وجہ کیا ہے اور کیا یہ فیصلہ کسی دباؤ کے تحت کیا جا رہا ہے؟
5. کیا روسی تیل خریدنے کے لیے ہندوستان کو امریکہ کی اجازت درکار ہے؟
امریکی وزیر برائے کامرس، وزیر خزانہ اور وائٹ ہاؤس کے ترجمان سب نے بار بار کہا ہے کہ ہندوستان کو روسی تیل خریدنے کی ’اجازت‘ دی گئی ہے اور مارچ کے اختتام تک ایک ماہ کے لیے یہ اجازت ملی ہے، کیونکہ تیل کے جہاز سمندر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ اگرچہ غیر رسمی طور پر وزارت خارجہ کے حکام نے ہندوستانی میڈیا کو بتایا ہے کہ ہندوستان اپنی اسٹریٹجک خود مختاری برقرار رکھتا ہے اور تیل کمپنیاں خود فیصلہ کرتی ہیں کہ کہاں سے اور کس قیمت پر تیل کی خریداری ہو، تو پھر ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے استعمال کی جا رہی زبان پر واضح ناراضگی کا اظہار کیوں نہیں کیا گیا؟
6. آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر وزیر اعظم نے تعزیت کیوں نہیں کی؟
وزیر اعظم نریندر مودی نے ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل پر نہ تعزیت کی اور نہ ہی اس کی مذمت کی۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ یہ ملک کے لیے شرمندگی کی بات تھی کہ قتل کے 6 دن بعد ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نئی دہلی میں ایرانی سفارت خانہ پہنچے اور وہاں رکھے گئے تعزیتی رجسٹر پر دستخط کیا۔ وزیر اعظم، جو مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کی جانب سے صدر دروپدی مرمو کا استقبال نہ کرنے کو قبائلیوں اور صدر کی توہین قرار دیتے ہیں، ان کا خود پروٹوکول اور عام شائستگی پر عمل نہ کرنا وضاحت کا متقاضی ہے۔
ملک ان سبھی سوالوں کے جواب کا انتظار کر رہا ہے، اور وزیر اعظم نے 11 مارچ 2026 کو تقریباً پورا دن کیرالم اور تمل ناڈو میں انتخابی مہم میں گزار دیا۔ انہوں نے دونوں انتخابی ریاستوں کے دورے کے بارے میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کئی بیانات بھی جاری کیے۔ منگل کی شام بھی انھوں نے ان دوروں کے بارے میں متعدد پوسٹس کیں، لیکن ظاہر ہے کہ انھیں لوک سبھا میں آ کر سوالوں کے جواب دینے کا وقت نہیں ملا۔ ان سوشل میڈیا پوسٹس میں سے 2 بطور ریکارڈ یہاں پیش کی جا رہی ہیں:
’’کل 11 مارچ کو دوپہر تقریباً 2:15 بجے میں ارناکولم میں ہونے والی این ڈی اے ریلی سے خطاب کروں گا۔ این ڈی اے کی اچھی حکمرانی کا ایجنڈا ایل ڈی ایف اور یو ڈی ایف کی لوٹ مار اور بدانتظامی کے مقابلے میں نمایاں ہے۔ این ڈی اے ترقی پر مبنی سیاست پر توجہ دے گی اور کیرالم کے نوجوانوں کی خواہشات کو پورا کرے گی۔‘‘
’’کل 11 مارچ کو شام تقریباً 6:30 بجے میں تمل ناڈو کے این ڈی اے لیڈران کے ساتھ تروچیراپلی میں ہونے والی این ڈی اے ریلی میں شرکت کروں گا۔ ڈی ایم کے ریاست بھر میں این ڈی اے کی بڑھتی مقبولیت سے پریشان ہے۔ تمل ناڈو کے لوگوں نے ڈی ایم کے کی بدانتظامی اور ادھورے وعدوں کو دیکھ لیا ہے۔ اسی لیے وہ امید اور ترقی کے این ڈی اے کے ایجنڈے سے جڑ رہے ہیں۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔