ایران نے ہندوستان آ رہے جہاز پر آبنائے ہرمز میں کیا حملہ، 2 ہندوستانیوں کی موت، ہندوستانی وزارت خارجہ کا سخت رد عمل
وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’آبنائے ہرمز میں کارگو جہاز ’میوری ناری‘ پر حملہ کی خبر ملی۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے بعد ہونے والے فوجی حملوں میں کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کی ہندوستان مذمت کرتا ہے۔‘‘
تھائی لینڈ کے کارگو جہاز ’میوری ناری‘ پر بدھ کے روز آبنائے ہرمز میں حملہ کیا گیا ہے، جو کہ ہندوستانی ریاست گجرات آ رہا تھا۔ اس حملہ میں 2 ہندوستانی شہریوں کی موت ہو گئی ہے، جبکہ ایک ہندوستانی لاپتہ ہے۔ اس معاملہ میں حکومت ہند اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ ہندوستان نے 11 مارچ کو آبنائے ہرمز سے گزر کر گجرات آ رہے کارگو جہاز پر ہوئے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ کارگو جہازوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
ہندوستانی وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے تصدیق کی ہے کہ مشرق وسطیٰ میں ایک تجارتی جہاز پر ہوئے حملے میں 2 ہندوستانی شہری ہلاک ہو گئے ہیں، جبکہ ایک شخص لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔ ہندوستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’ہمیں 11 مارچ کو آبنائے ہرمز میں تھائی لینڈ کے کارگو جہاز ’میوری ناری‘ پر ہوئے حملہ کی خبر ملی ہے۔ یہ جہاز گجرات کے کاندلا جا رہا تھا۔ مغربی ایشیا میں جاری جنگ کے بعد ہونے والے فوجی حملوں میں کارگو جہاز کو نشانہ بنانے کی ہندوستان مذمت کرتا ہے۔‘‘ وزارت نے یہ بھی کہا کہ ’’اس جنگ کے ابتدائی حملوں میں ہندوستانی شہریوں سمیت کئی لوگوں کی جانیں جا چکی ہیں۔ ہندوستان اس بات کو دہراتا ہے کہ کارگو جہازوں اور بے قصور شہریوں کی جان کو خطرے میں ڈالنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔‘‘
ایرانی ریوولیوشنری گارڈ (آئی آر جی سی) نے اس واقعہ کے تعلق سے کہا کہ اس نے لائبیرین پرچم والے کنٹینر جہاز ’ایکسپریس روم‘ اور تھائی کارگو جہاز ’میوری ناری‘ پر حملہ اس لیے کیا کیونکہ انہوں نے وارننگ کو نظر انداز کرتے ہوئے آبنائے ہرمز میں داخلہ کیا تھا۔ آئی آر جی سی کے بحریہ کمانڈر علی رضا تنگسیری نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی جہاز کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے ایران سے اجازت لینا ہوگی۔ علاوہ ازیں ایرانی فوج کے آپریشنل کمانڈ نے سرکاری ٹی وی پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ، اسرائیل یا ان کے اتحادیوں سے متعلق کسی بھی جہاز کو ہدف سمجھا جائے گا۔ آبنائے ہرمز سے ایک لیٹر تیل بھی گزرنے نہ دینے کی وارننگ دی گئی ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے موجودہ حالات پر اپنی تشویش ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے حوالے سے بھی ہندوستان کو تشویش ہے کیونکہ وہاں ہمارے تقریباً 9000 شہری پھنسے ہوئے ہیں۔ کچھ لوگوں نے پہلے ہماری ایڈوائزری پر عمل کرتے ہوئے وطن واپسی کر لی، لیکن کئی اب بھی وہیں ہیں اور ان سے سفارت خانہ رابطہ کر رہا ہے۔