
پنڈت برج نارائن چکبست / اے آئی سے بہتر کی گئی تصویر
اردو شاعری کی تاریخ میں بعض نام ایسے ہیں جو محض ادبی عظمت ہی نہیں بلکہ فکری جرأت، قومی وقار اور مزاحمتی شعور کی علامت بن جاتے ہیں۔ پنڈت برج نارائن چکبست انہی ناموں میں سے ایک ہیں۔ ان کی شاعری زبان کی قید، خیال کی بیڑی اور جبر کی دیواروں سے ٹکرا کر بھی اپنی روشنی برقرار رکھتی ہے۔
زباں کو بند کریں یا مجھے اسیر کریں
مرے خیال کو بیڑی پنہا نہیں سکتے
یہ اشعار محض شاعرانہ اظہار نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کی صدا ہیں جب برطانوی استعمار پورے ہندوستان پر مسلط تھا اور ہر آزاد آواز کو دبانے کی کوشش کی جا رہی تھی۔ چکبست نے نہ صرف اس جبر کو پہچانا بلکہ پوری قوت سے اس کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان بھی کیا۔
Published: undefined
چکبست کی شاعری کا کمال یہ ہے کہ وہ شکایت کو احتجاج میں، احتجاج کو شعور میں اور شعور کو قومی عزم میں بدل دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں:
جو تو کہے تو شکایت کا ذکر کم کر دیں
مگر یقین ترے وعدوں پہ لا نہیں سکتے
یہاں شاعر فردِ واحد نہیں بلکہ ایک پوری قوم کی ترجمانی کرتا ہے، جو جھوٹے وعدوں اور کھوکھلے اعلانات سے تنگ آ چکی ہے۔
پنڈت برج نارائن چکبست 19 جنوری 1882 کو اتر پردیش کے شہر فیض آباد (اب ایودھیا) کے کشمیری محلے میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق کشمیری پنڈت خاندان سے تھا، جس کی جڑیں پندرھویں صدی میں شمالی ہندوستان میں آ بسنے والے کشمیری النسل آباء و اجداد سے ملتی ہیں۔ یہی کشمیری پس منظر ان کی شاعری میں اس تہذیبی خوشبو کو شامل کرتا ہے جسے کثرت میں وحدت اور اختلاف میں ہم آہنگی کہا جا سکتا ہے۔
Published: undefined
ان کے والد پنڈت اودت نارائن خود بھی شاعر تھے اور انگریزی عہد میں فیض آباد کے ڈپٹی کلکٹر کے عہدے پر فائز رہے۔ لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ چکبست ابھی پانچ برس کے بھی نہیں ہوئے تھے کہ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ اس حادثے نے ان کی زندگی کا رخ بدل دیا۔ وہ اپنی والدہ کے ساتھ لکھنؤ منتقل ہوئے، جہاں ایک بار پھر کشمیری محلے نے انہیں پناہ دی۔
تعلیم کے میدان میں چکبست نے غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے کیننگ کالج (جو الہ آباد یونیورسٹی سے منسلک تھا) سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ وکالت کے پیشے میں وہ جلد ہی لکھنؤ کے کامیاب وکلا میں شمار ہونے لگے۔ ایک اہم ادبی مقدمے میں انہوں نے مشہور شاعر دیا شنکر کول ’نسیم‘ کا دفاع کیا، جن پر ’گل بکاولی‘ کی تصنیف سے متعلق الزام عائد کیا گیا تھا۔
Published: undefined
لیکن چکبست کو محض وکالت کی کامیابی نے قانع نہ کیا۔ ان کے اندر کا شاعر اور قوم کا درد انہیں آزادی کی جدوجہد کی طرف کھینچ لے گیا۔ وہ عملی طور پر بھی تحریکِ آزادی سے وابستہ ہوئے اور فکری طور پر بھی اردو ادب کو ایک نیا رخ دیا۔
سماجی اصلاح کی تحریکوں میں ان کی دل چسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جب کشمیری برہمن برادری میں پہلی بار آگرہ میں بیوہ کی شادی ہوئی تو چکبست نے اس کی تحسین میں ’برقِ اصلاح‘ لکھی۔ اس نظم میں وہ مذہبی تنگ نظری کے مقابل انصاف کی آزادی کو فوقیت دیتے ہیں:
غم نہیں دل کو یہاں دین کی بربادی کا
بت سلامت رہے انصاف کی آزادی کا
Published: undefined
چکبست کے نزدیک انصاف کی آزادی، ملک کی آزادی کے بغیر نامکمل تھی۔ اسی احساس نے انہیں یہ کہنے پر مجبور کیا:
طلب فضول ہے کانٹوں کی پھول کے بدلے
نہ لیں بہشت، ملے ہوم رول کے بدلے
ان کی فکری تشکیل میں میرزا غالب، میر انیس اور آتش کا گہرا اثر تھا، مگر علامہ اقبال سے ان کی دوستی ایک خاص معنویت رکھتی ہے۔ دونوں کا تعلق کشمیر کی مٹی سے تھا اور دونوں قانون اور شاعری کے درمیان اپنی زندگیاں بانٹنے پر مجبور رہے۔ چکبست اور اقبال کی دوستی اس قدر گہری تھی کہ اقبال بمبئی میں اپنی محبوبہ عطیہ فیضی سے ملاقات کے لیے بھی چکبست کے بغیر نہ جاتے۔
چکبست کی شاعری میں فلسفہ بھی ہے اور زندگی کا عملی شعور بھی۔ ان کا یہ شعر آج بھی زبان زدِ عام ہے:
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہی اجزا کا پریشاں ہونا
Published: undefined
تاہم ان کی اصل شناخت فلسفیانہ موشگافی سے زیادہ قومی شعور اور تہذیبی ذمہ داری سے جڑی ہے۔ وہ تہذیب کے درختوں کے طویل سائے چھوڑ گئے ہیں، جن میں آج بھی پناہ لی جا سکتی ہے۔
قوم پرستی کے جذبے کے ساتھ ساتھ وہ جہالت اور غرور کو ہندوستان کی بربادی کا اصل سبب قرار دیتے ہیں:
غرور اور جہل نے ہندوستان کو لوٹ لیا
بجز نفاق کے اب خاک بھی وطن میں نہیں
چکبست نے روایتی اردو شاعری کے سانچوں کو توڑ کر جذباتی اور مقصدی شاعری کو فروغ دیا۔ مہاتما گاندھی جب ٹرانسوال میں ہندوستانیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے تھے تو چکبست نے ’فریادِ قوم‘ لکھی، جو ایک مختصر کتابچے کی صورت میں شائع ہوئی اور گاندھی کے نام معنون تھی۔
Published: undefined
اسی طرح پنڈت بشن نارائن در کی یاد میں لکھی گئی نظم ’نذرانۂ روح‘ اور لکھنؤ میں کشمیری نوجوانوں کے اجتماع میں پڑھی گئی نظم ’دردِ دل‘ نے سامعین کی آنکھیں نم کر دیں۔ 1911 میں جب پنڈت مدن موہن مالویہ نے کاشی ہندو یونیورسٹی کے لیے چندہ جمع کرنے کی مہم شروع کی تو چکبست کی نظم ’قومی مسدس‘ نے فضا باندھ دی۔
خواتین سے خطاب کرتے ہوئے ان کا یہ مصرعہ آج بھی ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے:
ہم تمہیں بھول گئے اس کی سزا پاتے ہیں
تم ذرا اپنے تئیں بھول نہ جانا ہرگز
چکبست بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے، اگرچہ انہوں نے پچاس کے قریب غزلیں بھی کہیں اور مثنوی و نثر میں بھی طبع آزمائی کی۔ ’خاکِ ہند‘، ’گلزارِ نسیم‘، ’رامائن کا ایک سین‘، ’نالۂ درد‘، ’نالۂ یاس‘ اور ’کملہ‘ ان کی نمایاں تصانیف میں شامل ہیں۔
Published: undefined
2023 میں پرانے پارلیمنٹ ہاؤس کے خصوصی اجلاس میں راجیہ سبھا کے رکن منوج جھا نے چکبست کی نظم ’خاکِ ہند‘ کے اشعار کا حوالہ دیا اور بتایا کہ 11 دسمبر 1946 کو آئین ساز اسمبلی میں سروجنی نائیڈو نے اپنی تقریر انہی اشعار سے شروع کی تھی، اگرچہ اشعار کی اصل ترتیب کچھ مختلف تھی۔
چکبست کی زندگی مختصر مگر اثرات بے حد وسیع تھے۔ 12 فروری 1926 کو رائے بریلی ریلوے اسٹیشن کے قریب وہ اچانک گر پڑے اور چند گھنٹوں بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اس وقت ان کی عمر محض 44 برس تھی۔
1983 میں ان کی پیدائش کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر ان کا کلیات ’کلیاتِ چکبست‘ کے نام سے شائع ہوا۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان کی جائے پیدائش فیض آباد میں آج بھی ان کی یادوں اور وراثت کے تحفظ پر وہ توجہ نہیں دی جا رہی جس کے وہ مستحق ہیں۔ ایک لائبریری کے سوا، جو میر انیس کے ساتھ ان کے نام سے منسوب ہے، کوئی مؤثر ادارہ ان کے فکری ورثے کو سنبھالنے کے لیے موجود نہیں۔
اس کے باوجود، چکبست کی شاعری آج بھی زندہ ہے، کیونکہ جبر کے ہر عہد میں ان کے اشعار نئی معنویت کے ساتھ سامنے آتے ہیں اور یاد دلاتے ہیں کہ خیال کو بیڑی نہیں پہنائی جا سکتی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined