’جنگ 3-2 ہفتہ بھی چلی تو تباہی یقینی ہے‘، ایران-اسرائیل جنگ سے پیدا حالات پر قطر کا اظہارِ تشویش

قطر کے وزیر توانائی سعد الکعبی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ سے توانائی سپلائی بند ہوا تو یہ بحران دنیا کی معیشتوں کو ہلا سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایران پر اسرائیل کا حملہ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت بڑھتی ہی جا رہی ہے۔ اسرائیل کا ساتھ دیتے ہوئے امریکہ مستقل ایران پر حملہ کر رہا ہے، جس نے حالات کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔ 7 دنوں سے جاری اس جنگ میں روزانہ بے قصوروں کی جانیں جا رہی ہیں۔ اس درمیان جنگ کے منفی اثرات اب پوری دنیا پر پڑتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ خاص طور سے کئی ممالک کی معیشت اس جنگ کے سبب اثرات انداز ہو رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جنگ نے خام تیل کی فراہمی کو رخنہ انداز کر دیا ہے۔

جنگ کے ساتویں دن خام تیل سے متعلق ایک بڑی تنبیہ سامنے آئی ہے۔ قطر کے وزیر برائے توانائی سعد الکعبی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ سے توانائی سپلائی بند ہوا تو یہ بحران دنیا کی معیشتوں کو ہلا سکتا ہے۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’اگر جنگ کے سبب تیل برآمدگی متاثر ہوتی ہے تو خام تیل کی قیمتیں آئندہ 2 سے 3 ہفتوں میں 150 ڈالر فی بیرل سے اوپر جا سکتی ہے۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اب اگر جنگ فوراً ختم ہو جاتی ہے، تو بھی پروڈکشن اور فراہمی کو معمول پر لانے میں کئی ہفتوں سے مہینوں تک کا وقت لگ سکتا ہے۔


دراصل جنگ کی وجہ سے قطر کو اپنے بڑے ایل این جی پلاٹ ’راس لافان انڈسٹریل سٹی‘ میں ایل این جی کے پروڈکشن کو عارضی طور سے روکنا پڑا ہے۔ اس سے عالمی گیس فراہمی کو لے کر بھی فکر بڑھ گئی ہے۔ اینالیٹکس فرم کیپل کے اعداد و شمار کے مطابق قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) مل کر پاکستان کے ایل این جی درآمدگی کا 99 فیصد، بنگلہ دیش کا 72 فیصد اور ہندوستان کا 53 فیصد فراہمی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔ اس درمیان جمعہ کی دوپہر 4 بجے برینٹ کروڈ میں قیمت بڑھ کر 86 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔

تشویش ناک یہ ہے کہ جنگ کے ساتویں دن حالات مزید سنگین ہوتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ دبئی میں موبائل الرٹ جاری کیا گیا ہے، جس میں ممکنہ میزائل حملہ کی تنبیہ دی گئی ہے۔ دوسری طرف اسرائیل ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے بتایا کہ ایران کی طرف سے کئی میزائلیں داغی گئی ہیں، حالانکہ اس سے کسی ہلاکت کی خبر نہیں ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔