
پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف، تصویر آئی اے این ایس
پاکستان کی معیشت مشکل حالات سے گزر رہی ہے۔ عالمی حالات بھی کچھ ایسے بن گئے ہیں کہ پاکستان کی پریشانیاں بڑھتی ہی جا رہی ہیں۔ ظاہر ہے ایسے میں یو اے ای کے ذریعہ پاکستان سے قرض ادائیگی کا مطالبہ کرنا شہباز حکومت کی دشواریاں بڑھانے والا تھا۔ پھر بھی پاکستان نے یو اے ای سے لیے گئے قرض کی آخری قسط بھی ادا کر دی ہے، لیکن اس کے لیے پاکستان کو سعودی عرب کے سامنے ہاتھ پھیلانا پڑا۔ یعنی ایک ملک سے لیے گئے قرض کو ادا کرنے کے لیے دوسرے ملک سے قرض لینا پڑا۔
Published: undefined
یو اے ای کو قرض ادا کیے جانے کی جانکاری پاکستان اسٹیٹ بینک نے دی ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ اس نے مقرر کردہ ڈیڈلائن سے پہلے ہی یو اے ای کا مکمل قرض ادا کر دیا ہے۔ یو اے ای نے پاکستان کو اس ماہ کے آخر تک 3.45 بلین ڈالر کی رقم ادا کرنے کا وقت دیا تھا۔ یہ پیسے پاکستان نے 2019 کے دوران یو اے ای سے قرض کی شکل میں لیے تھے۔ پاکستان اسٹیٹ بینک کی طرف سے جاری بیان کے مطابق 2.45 بلین ڈالر کی رقم پہلے ہی یو اے ای کو دی جا چکی تھی، اور اب ایک بلین ڈالر کی آخری قسط بھی دے دی گئی ہے۔ یہ پیسے 2 دن قبل ہی پاکستان کو سعودی عرب نے دیے تھے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ یو اے ای نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران پاکستان سے اپنا پیسہ واپس مانگا تھا۔ ابتدا میں پاکستان نے اسے ادا کرنے کے لیے یو اے ای سے مہلت مانگی، لیکن جب یو اے ای راضی نہیں ہوا تو پاکستان نے سعودی عرب اور قطر سے رابطہ کیا۔ دراصل یو اے ای موجودہ سیاسی ماحول میں پاکستان سے ناراض ہے۔ یو اے ای کا کہنا ہے کہ پاکستان کو ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی معاملہ میں نہیں کودنا چاہیے تھا، کیونکہ اس سے یو اے ای کے مفادات کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یو اے ای کسی بھی حال میں پاکستان کو بخشنا نہیں چاہتا۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ بھی ہے کہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب اور ترکیے کے ساتھ اتحاد بنا رہا ہے۔ یہ مشرق وسطیٰ کی سیاست میں یو اے ای کے خلاف ہے۔ فوراً قرض کا پیسہ مانگنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ سعودی نے ہی یو اے ای کے قرض کو ادا کرنے کے لیے پاکستان کو پیسے دیے ہیں۔ یعنی پاکستان اور یو اے ای کے درمیان رشتے آنے والے دنوں میں مزید خراب ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined