مشکل میں ممتا! ترنمول کا باغی گروپ خفیہ میٹنگ کے بعد مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر پہنچا، سویندو ادھیکاری بھی موجود

ترنمول کانگریس کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے دہلی میں خفیہ میٹنگ کی تھی۔ ان میں پرسون بنرجی، شتابدی رائے اور جگدیش بسونیا سمیت کئی لیڈران شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ممتا بنرجی اور سویندو ادھیکاری، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی بنگال کی سابق وزیر اعلیٰ اور ترنمول سپریمو ممتا بنرجی کے لیے پھر ایک بری خبر سامنے آئی ہے۔ جب ممتا بنرجی انڈیا بلاک کی میٹنگ میں شریک تھیں، اسی وقت ان کے اراکین پارلیمنٹ کا ایک گروپ خفیہ میٹنگ کرنے کے بعد مرکزی وزیر بھوپیندر یادو کے گھر پہنچ چکا تھا۔ اس میٹنگ میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے والے سکھیندو شیکھر رائے بھی موجود تھے۔ بھوپیندر یادو کے گھر ہوئی یہ میٹنگ بنگال کے وزیر اعلیٰ سویندو ادھیکاری کی موجودگی میں ہوئی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ترنمول کانگریس کے 20 باغی اراکین پارلیمنٹ نے دہلی میں خفیہ میٹنگ کی۔ ان میں پرسون بنرجی، شتابدی رائے اور جگدیش بسونیا سمیت کئی لیڈران شامل ہیں۔ ترنمول اراکین پارلیمنٹ کا منصوبہ ہے کہ وہ یا تو اسپیکر کے دہلی لوٹنے پر اجتماعی طور پر اپنا استعفیٰ نامہ سونپیں گے، یا 20 اراکین پارلیمنٹ کے دستخط کے ساتھ اسپیکر سے ملاقات کریں گے۔ اب دیکھنا ہے کہ بھوپیندر یادو کے گھر پر میٹنگ کے بعد آگے کی حکمت عملی کیا ہوتی ہے۔


اس میٹنگ میں راجیہ سبھا سے استعفیٰ دینے والے سکھیندو شیکھر رائے بھی موجود ہیں۔ استعفیٰ کے بعد انھوں نے ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ اقتدار کا نشہ ترنمول کے سر پر اس قدر چڑھ گیا تھا کہ انھیں لگتا تھا دنیا میں کوئی انھیں چھو بھی نہیں سکتا۔ رائے نے الزام عائد کیا کہ گزشتہ 15 سالوں میں اقتدار میں رہے وزراء، پنچایت لیڈران، کونسلرز، میئرز وغیرہ پہنچ سے باہر ہو گئے۔ انھوں نے کہا کہ بنگال کی تاریخ میں پہلی بار مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت اقتدار میں آئی، ووٹنگ ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔ پارٹی نے اس سلسلے میں کوئی تجزیہ نہیں کیا۔ ہمارے پارٹی کارکنان، جنھوں نے اپنے خون پسینے سے تنظیم کو مضبوط کیا، بایاں محاذ کے خلاف جنگ لڑی، انھیں درکنار کر دیا گیا اور بچولیے، چور، ڈاکو اور زانی سامنے آ گئے، کروڑوں کی لوٹ کی گئی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔