یوپی پولیس کانسٹیبل امتحان: کانگریس نے ویڈیو شیئر کر روڈویز کی بسوں میں نصف کرایے کے حکومتی دعوے کی قلعی کھول دی
کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’پہلے حکومت نے خبریں چلوائیں کہ امیدواروں کو بسوں کے کرایے میں 50 فیصد کی چھوٹ ملے گی۔ لیکن سچائی یہ ہے کہ امتحان دینے جا رہے نوجوانوں سے ٹکٹ کے پیسے وصولے جا رہے ہیں۔‘‘

یوپی پولیس کانسٹیبل کا تحریری امتحان آج سے شروع ہو گیا ہے۔ یہ امتحان 8، 9 اور 10 جون کو ریاست کے تمام 75 اضلاع میں منعقد کیا جا رہا ہے۔ دور دراز کے اضلاع سے امتحان دینے آ رہے طلبہ و طالبات کے متعلق یوپی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اتر پردیش ٹرانسپورٹ کارپوریشن (روڈ ویز) کی بسوں میں سفر کرنے پر انہیں نصف کرایہ ہی دینا پڑے گا۔ اس کے لیے انہیں صرف ’ایڈمٹ کارڈ‘ دکھانے ہوں گے۔ اس درمیان کانگریس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ویڈیو پوسٹ کر نصف کرایے کے یوپی حکومت کے دعوے کی قلعی کھول دی ہے۔
کانگریس نے ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’یوپی کی بی جے پی حکومت جھوٹی ہے۔ پہلے حکومت نے اپنے پی آر کے لیے خبریں چلوائیں کہ یوپی پولیس کانسٹیبل امتحان دینے والے تمام نوجوانوں کو بسوں کے کرایے میں 50 فیصد کی چھوٹ ملے گی۔‘‘ ساتھ ہی کانگریس نے لکھا کہ ’’لیکن سچائی یہ ہے کہ امتحان دینے جا رہے نوجوانوں سے ٹکٹ کے پیسے وصولے جا رہے ہیں۔ بی جے پی حکومت کا ہمیشہ سے یہی کردار رہا ہے۔ یہ صرف لوگوں کو پریشان کرنے اور انہیں لوٹنے کھسوٹنے میں لگی رہتی ہیں۔‘‘ کانگریس نے کہا کہ ’’ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام نوجوانوں کے لیے امتحانی مراکز تک آنے جانے کے لیے بہتر انتظامات کیے جائیں، ساتھ ہی انہیں کرایے میں فوری راحت بھی دی جائے۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ یوپی پولیس کانسٹیبل میں بھرتی کے عمل کے تحت مجموعی طور پر 32679 عہدوں کے لیے 2886797 امیدواروں نے فارم بھرے ہیں۔ امتحان کو کامیاب بنانے کے لیے ریاست بھر میں 1183 امتحانی مراکز بنائے گئے ہیں۔ سی سی ٹی وی کے ذریعہ امتحانی مراکز کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ امتحان دینے آئے ایک امیدوار نے کہا کہ ’’میں گزشتہ 3 سال سے تیاری کر رہا ہوں۔ امتحانی مرکز پر انتظامات بہتر ہیں اور سی سی ٹی وی کیمرے لگانا ایک اچھا قدم ہے۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
