سی بی ایس ای تنازعہ: این ایس یو آئی کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ کا مرکز اور بورڈ سے جواب طلب

سی بی ایس ای کے آن اسکرین تشخیصی نظام میں خامیوں کے خلاف عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔ معاملے کی اگلی سماعت 12 جون کو ہوگی

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

نئی دہلی: مرکزی ثانوی تعلیمی بورڈ (سی بی ایس ای) کے آن اسکرین تشخیصی نظام یعنی او ایس ایم میں گڑبڑیوں اور تکنیکی خامیوں کے معاملے میں دہلی ہائی کورٹ نے مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے کی اگلی سماعت 12 جون 2026 کو مقرر کی ہے۔

یہ کارروائی کانگریس کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) کی جانب سے دائر مفاد عامہ کی عرضی پر سماعت کے دوران کی گئی۔ عرضی میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بارہویں جماعت کے امتحانات کے لیے استعمال ہونے والے آن اسکرین تشخیصی نظام میں متعدد تکنیکی مسائل سامنے آئے ہیں، جن کی وجہ سے بڑی تعداد میں طلبہ متاثر ہوئے ہیں۔

عرضی گزاروں کے مطابق کئی طلبہ کی جوابی کاپیوں کے ریکارڈ میں بے ضابطگیاں پائی گئی ہیں۔ بعض جوابی کاپیوں کے غائب ہونے، بعض کی اسکین شدہ تصاویر کے دھندلے ہونے اور کچھ کاپیوں کے غلط انداز میں جانچے جانے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان مسائل کے باعث طلبہ اور ان کے اہل خانہ میں تشویش پیدا ہوئی ہے اور نتائج کے عمل پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

این ایس یو آئی نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ آن اسکرین تشخیصی نظام میں پیش آنے والی تمام خامیوں کی آزاد اور غیر جانبدار ایجنسی کے ذریعے مکمل جانچ کرائی جائے۔ عرضی میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچنے کے لیے واضح رہنما اصول، مضبوط حفاظتی انتظامات اور مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جانا چاہیے۔


عرضی گزاروں کا مؤقف ہے کہ تشخیصی نظام میں بار بار سامنے آنے والی مشکلات طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو متاثر کر سکتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعدد طلبہ اور سرپرستوں نے نمبروں میں غیر معمولی فرق، جوابی کاپیوں کے ریکارڈ سے متعلق مسائل اور غلط تشخیص کی شکایات درج کرائی ہیں۔ این ایس یو آئی نے الزام لگایا ہے کہ ان شکایات پر خاطر خواہ توجہ نہیں دی جا رہی۔

عرضی میں عدالت سے یہ درخواست بھی کی گئی ہے کہ جن طلبہ کی جوابی کاپیاں ان خرابیوں سے متاثر ہوئی ہیں، انہیں مناسب تلافی کے طور پر اضافی نمبر دیے جائیں۔

ساتھ ہی سی بی ایس ای کو ایک مؤثر شکایت ازالہ نظام قائم کرنے کی ہدایت دینے کی اپیل بھی کی گئی ہے تاکہ طلبہ کے مسائل کا بروقت اور شفاف حل ممکن بنایا جا سکے۔

این ایس یو آئی کا کہنا ہے کہ تعلیم کے شعبے میں ڈیجیٹل نظاموں کا استعمال ناگزیر ہوتا جا رہا ہے لیکن ان کی قابل اعتماد کارکردگی، مضبوط حفاظتی ڈھانچے اور مؤثر متبادل انتظامات بھی اتنے ہی ضروری ہیں۔ اب عدالت مرکزی حکومت اور سی بی ایس ای کے جواب کا انتظار کرے گی، جس کے بعد آئندہ سماعت میں معاملے پر مزید غور کیا جائے گا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔