پاکستان

’میرے والد کی آنکھوں کی روشنی جا رہی، فوراً علاج کرائیے‘، 1100 دنوں سے جیل میں بند عمران خان کے بیٹے کی اپیل

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کے بیٹے قاسم خان نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک جذباتی پوسٹ لکھ کر اپنے والد کی صحت کے حوالے سے تشویش ظاہر کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عمران خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

عمران خان، تصویر آئی اے این ایس

 

پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور سابق کرکٹ کپتان عمران خان کی صحت سے متعلق ان کے بیٹے قاسم خان نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ 1100 دنوں سے جیل میں قید عمران خان کی بینائی مسلسل کمزور ہو رہی ہے، لیکن خاندان کو نہ تو ان سے ملاقات کی اجازت دی جا رہی ہے اور نہ ہی ان کی طبی حالت کے بارے میں کوئی معلومات دی جا رہی ہیں۔ قاسم نے عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے پاکستان کی حکومت اور فوجی اسٹیبلشمنٹ پر شدید حملہ کیا۔

قاسم خان نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک جذباتی پوسٹ لکھ کر اپنے والد کی صحت کے حوالے سے اپنی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کو جیل میں قید ہوئے تقریباً 1100 دن ہو چکے ہیں اور مارچ کے بعد سے انہوں نے اپنے والد کی آواز تک نہیں سنی ہے۔ اس نے پوسٹ میں لکھا ہے کہ ’’کئی ماہ سے ہمیں ان سے بات کرنے یا ملاقات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ہمیں یہ تک معلوم نہیں کہ انہیں مناسب علاج مل رہا ہے یا نہیں۔ ان کی بینائی مسلسل کمزور ہو رہی ہے اور انہیں فوری طبی امداد کی ضرورت ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ 26 سالہ قاسم اور ان کے بڑے بھائی سلیمان خان برطانیہ میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے والد کے حوالے سے صرف سیاسی تشویش ہی نہیں ہے، بلکہ ایک بیٹے کی حیثیت سے وہ انہیں بے حد یاد بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ’’کاش میں ان سے کرکٹ، کتابوں اور فلموں جیسی عام باتیں کر سکتا۔ پاکستان کے عوام اپنے منتخب لیڈر کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، لیکن مجھے اپنے والد کی پہلے سے کہیں زیادہ یاد آتی ہے۔‘‘

قاسم نے پاکستان کے موجودہ نظام پر بھی حملہ کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ فوجی حمایت یافتہ حکومت جمہوری اداروں کو کمزور کر رہی ہے، سیاسی مخالفین کو کچل رہی ہے اور لوگوں سے اپنے لیڈران کو منتخب کرنے کا حق چھین رہی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر خاموش نہ رہے۔

واضح رہے کہ 73 سالہ عمران خان کو 5 اگست 2023 کو توشہ خانہ بدعنوانی کے معاملے میں قصوروار قرار دیے جانے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے بعد ان کے خلاف کئی دیگر معاملات میں بھی کارروائی کی گئی اور وہ مسلسل راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ فی الحال انہیں تنہائی کی قید (سولیٹری کنفائنمنٹ) میں رکھا گیا ہے۔ رواں سال فروری میں عمران خان کی قانونی ٹیم اور ان کی پارٹی ’پاکستان تحریک انصاف‘ (پی ٹی آئی) نے دعویٰ کیا تھا کہ علاج میں تاخیر کے باعث ان کی دائیں آنکھ کی بینائی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور اس میں تقریباً 15 فیصد نظر ہی باقی رہ گئی ہے۔ اس معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے پاکستان کی سپریم کورٹ نے میڈیکل بورڈ تشکیل دے کر ان کا معائنہ کرانے کا حکم دیا تھا۔

عمران کے خاندان اور پارٹی لیڈران مسلسل الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ انہیں آزاد ڈاکٹروں تک رسائی نہیں دی جا رہی اور جیل میں انہیں مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ تاہم پاکستان کی حکومت ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتی رہی ہے کہ عمران خان کو تمام ضروری طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ عمران خان کی حمایت میں رواں سال فروری میں 14 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے بھی پاکستان حکومت کو خط لکھ کر ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنے اور مناسب طبی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔