ستیہ نکیتن عمارت حادثہ: دکان بنانے کے لیے دیوار توڑنے سے عمارت منہدم ہوئی، ٹھیکیدار کا انکشاف
دہلی کے ستیہ نکیتن میں عمارت منہدم ہونے کے معاملے میں گرفتار ٹھیکیدار نے پولیس کو بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر دکان بنانے کے لیے دیوار توڑی گئی، جس کے بعد عمارت کا ڈھانچہ منہدم ہو گیا

نئی دہلی: دہلی پولیس نے بدھ کو بتایا کہ جنوبی دہلی کے ستیہ نکیتن علاقے میں اتوار کو عمارت منہدم ہونے کے معاملے میں گرفتار مزدور ٹھیکیدار سنوج کمار سے پوچھ گچھ کے دوران اہم انکشاف ہوا ہے۔ ٹھیکیدار نے پولیس کو بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر دکان بنانے کے لیے ایک دیوار توڑی گئی تھی، جس کے بعد پوری عمارت کا ڈھانچہ اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکا اور منہدم ہو گیا۔
پولیس کے مطابق، سنوج کمار کو منگل کے روز اتر پردیش کے کاس گنج سے گرفتار کیا گیا تھا۔ 35 سالہ سنوج، جو موتی باغ میں رہتا ہے، نے مبینہ طور پر بتایا کہ تقریباً 10 روز قبل مہیش گپتا نے عمارت میں مرمت کا کام کرنے کے لیے اسے ٹھیکے پر رکھا تھا۔
پولیس افسر کے مطابق، عمارت کے زیر زمین حصے کو ہموار کرنے کا کام جاری تھا۔ اس دوران زیر زمین حصے میں تقریباً تین ٹرک ملبہ ڈالا گیا تھا۔ اس کام کے لیے سنوج کو مہیش گپتا کی جانب سے روزانہ 2,800 روپے ادا کیے جا رہے تھے۔
پوچھ گچھ کے دوران سنوج نے بتایا کہ گراؤنڈ فلور پر دکان بنانے کے لیے جگہ درکار تھی اور ایک دیوار اس میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ حادثے کے روز اس دیوار کو ہٹا دیا گیا، جس کے فوراً بعد عمارت منہدم ہو گئی۔ پولیس ذرائع کے مطابق، اس معاملے میں ایک دیگر ملزم تیاگی فی الحال فرار ہے اور پولیس اس کی تلاش کر رہی ہے۔
پولیس نے اس معاملے میں عمارت میں طلبہ کے لیے پیئنگ گیسٹ (پی جی) چلانے والے 31 سالہ سدھانشو لونییش کو بھی گرفتار کیا ہے۔ وہ بھجن پورہ کا رہنے والا ہے اور اس معاملے میں گرفتار ہونے والا پانچواں ملزم ہے۔
پولیس کے مطابق، سدھانشو نے اپنے دوست شبھم تیاگی کے ساتھ مل کر اگست 2025 میں اس عمارت کی چار منزلیں پی جی چلانے کے لیے ماہانہ 1.05 لاکھ روپے کے کرائے پر لی تھیں۔ سدھانشو نے مبینہ طور پر بتایا کہ اس علاقے میں اس کے سات پی جی چل رہے ہیں اور عمارت کی خستہ حالی کے باعث اسے نسبتاً کم کرائے پر لیا گیا تھا۔
تفتیش کاروں کے مطابق، سدھانشو کو اس بات کا علم تھا کہ عمارت کی حالت پہلے ہی خراب تھی اور جاری تعمیراتی کام سے پورے ڈھانچے پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے باوجود اس نے تعمیراتی سرگرمیوں پر توجہ نہیں دی اور خود کو اس معاملے سے لاعلم ظاہر کرتا رہا۔ ستیہ نکیتن میں اتوار کی دوپہر مرمت کے دوران عمارت اچانک منہدم ہو گئی تھی۔ عمارت کو طلبہ کے لیے پی جی رہائش کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ ریسکیو آپریشن کے دوران ملبے سے 12 افراد کو نکالا گیا، جن میں سے سات کو ڈاکٹروں نے مردہ قرار دیا۔
اس سے قبل پولیس نے عمارت کی مالکن 75 سالہ ارملا گپتا، ان کے 81 سالہ ریٹائرڈ فضائیہ افسر شوہر ہری رام گپتا اور ان کے بیٹے مہیش گپتا کو گرفتار کیا تھا۔ پولیس کے مطابق مہیش، سدھانشو اور سنوج کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں دو روزہ پولیس حراست میں بھیج دیا گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
