لاہول اسپیتی میں فلکیات و فلکی طبیعیات مرکز قائم کرنے کی تیاری، سائنسی تحقیق کو ملے گا فروغ

ہماچل پردیش حکومت لاہول اسپیتی اور پنگی میں فلکیات و فلکی طبیعیات مراکز قائم کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ وزیر اعلیٰ سکھو نے سائنس میوزیم اور جدید موسمیاتی نگرانی کے نظام کے لیے بھی تعاون مانگا

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>
i

ہماچل پردیش کے وزیر اعلیٰ سکھویندر سنگھ سکھو نے بدھ کے روز مرکزی سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر مملکت جتیندر سنگھ سے ملاقات کی۔ اس دوران ریاست میں سائنسی تحقیق، طلبہ میں سائنسی رجحان اور دور دراز و قبائلی علاقوں میں سائنس و ٹیکنالوجی پر مبنی منصوبوں کو فروغ دینے سے متعلق متعدد تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں وزیر اعلیٰ سکھو نے لاہول اسپیتی اور پنگی جیسے بلند پہاڑی قبائلی علاقوں میں فلکیات اور فلکی طبیعیات کے مراکز قائم کرنے کی ریاستی حکومت کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ ان مراکز کو لداخ کے ہینلے میں جاری کامیاب فلکیاتی منصوبوں کی طرز پر ترقی دی جا سکتی ہے۔

سکھو نے کہا کہ لاہول اسپیتی اور دیگر بلند پہاڑی علاقوں کے جغرافیائی اور قدرتی حالات فلکیاتی تحقیق اور آسمانی اجرام کے مشاہدے کے لیے انتہائی موزوں ہیں۔ ایسے مراکز قائم ہونے سے خطے میں فلکیاتی تحقیق کو فروغ ملنے کے ساتھ ساتھ مقامی نوجوانوں اور طلبہ میں سائنس کے تئیں دلچسپی بھی بڑھے گی۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ فلکیات مراکز کے قیام سے قبائلی علاقوں میں سائنس پر مبنی اور پائیدار سیاحت کو بھی فروغ دیا جا سکتا ہے۔ اس سے خطے کی منفرد جغرافیائی خصوصیات کو سائنسی تعلیم اور تحقیق کے مواقع میں تبدیل کرنے میں مدد ملے گی۔


ملاقات کے دوران ریاست میں طلبہ کے اندر سائنس اور ٹیکنالوجی کے تئیں دلچسپی بڑھانے کے لیے خواہش مند بلاکس کے اسکولوں میں سائنس میوزیم قائم کرنے کی تجویز پر بھی بات ہوئی۔ سکھو نے اس سلسلے میں مرکزی حکومت سے تعاون طلب کیا۔ انہوں نے کہا کہ سائنس میوزیم طلبہ میں سائنسی تجسس پیدا کرنے، عملی تجربات کے ذریعے سیکھنے کے مواقع فراہم کرنے اور سائنس، ٹیکنالوجی اور اختراع کے شعبوں میں دلچسپی بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے مقامی موسمیاتی نگرانی کے نظام کو جدید بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے ہر گرام پنچایت میں خودکار بارش ناپنے والے آلات (آٹومیٹک رین گیج) اور بلاک سطح پر خودکار موسمیاتی مراکز (آٹومیٹک ویدر اسٹیشن) قائم کرنے کے منصوبے میں تیزی لانے کی اپیل کی۔

سکھو نے کہا کہ اس نظام کے ذریعے پنچایت اور بلاک کی سطح پر موسم سے متعلق درست اور حقیقی وقت کی معلومات دستیاب ہو سکیں گی۔ اس سے موسمیاتی نگرانی زیادہ سائنسی اور مؤثر بنے گی، جبکہ کسانوں کو اپنے علاقے کے مطابق موسم کی درست معلومات حاصل ہوں گی، جس سے وہ بہتر منصوبہ بندی اور بروقت فیصلے کر سکیں گے۔

ملاقات میں لیونڈر کی سائنسی بنیادوں پر کاشت کو فروغ دینے کے لیے بھی تعاون طلب کیا گیا۔ سکھو نے سائنسی و صنعتی تحقیق کی کونسل (سی ایس آئی آر) کے ذریعے لیونڈر کی کاشت سے متعلق مظاہراتی مراکز کے دائرہ کار کو بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے کسانوں کو موزوں کاشت کی تکنیکوں سے آگاہ کرنے اور اسے متبادل منافع بخش فصل کے طور پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔