دیگر ممالک

یوکرین جنگ کی مخالفت کرنے والی واحد سیاسی پارٹی ’یابلوکو‘ انتخاب سے باہر، روسی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

روسی سپریم کورٹ نے کریملن کی حامی پارٹی کی اپیل کے بعد ’یابلوکو‘ کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔ گزشتہ ماہ الیکشن کمیشن نے شروع میں ’یابلوکو‘ کو 10 دیگر پارٹیوں کے ساتھ بیلٹ میں شامل ہونے کی اجازت دی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>روس کی سیاسی پارٹی ’یابلوکو‘ تصویر سوشل میڈیا</p></div>

روس کی سیاسی پارٹی ’یابلوکو‘ تصویر سوشل میڈیا

 

روس کے سپریم کورٹ نے پیر (10 اگست) کو حکم دیا کہ یوکرین میں کریملن کی فوجی کارروائی کی مخالفت کرنے والی واحد سیاسی پارٹی کو آئندہ ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخاب کے لیے ہٹا دیا جائے۔ سپریم کورٹ نے کریملن کی حامی پارٹی کی اپیل کے بعد ’یابلوکو‘ جس کا روسی زبان میں مطلب ہے ’سیب‘، کی رجسٹریشن منسوخ کر دی ہے۔ گزشتہ ماہ سنٹرل الیکشن کمیشن نے شروع میں ’یابلوکو‘ کو 10 دیگر پارٹیوں کے ساتھ بیلٹ میں شامل ہونے کی اجازت دی تھی۔

کبھی پارلیمنٹ میں اہم لبرل آواز رہی اور اکثر حکومت کی تنقید کرنے والی ’یابلوکو‘ پارٹی بعد میں اسٹیٹ ڈوما میں اپنی نشستوں کا بلاک کھو بیٹھی، کیونکہ کریملن نے روسی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کر لی تھی۔ حالیہ سالوں میں ’یابلوکو‘ واحد ایسی رجسٹرڈ اپوزیشن پارٹی تھی جس نے یوکرین میں فوج بھیجنے کی مخالفت کی تھی۔ اس کے انتخابی نعروں میں شامل تھا ’جنگ بندی کے معاہدے، سفارت کاری اور امن کے لیے! ہمارا مقصد ایٹمی جنگ کو روکنا ہے! خوف اور سیاسی جبر سے آزاد روس کے لیے!‘

واضح رہے کہ 1990 کی دہائی میں ’یالبوکو‘ کے شریک بانی اور اس کی سیاسی کمیٹی کے چیئرمین، تجربہ کار لبرل سیاست داں گریگوری یاولنسکی نے سپریم کورٹ کے فیصلے کی مذمت کی اور کہا کہ پارٹی اس کے خلاف اپیل کرے گی۔ انہوں نے ایک آن لائن بیان میں کہا کہ ’یالبوکو‘ کو انتخاب سے باہر کرنے کا مطلب ہے ان لوگوں کے ساتھ بات چیت کرنے سے انکار کرنا جو سوال پوچھتے ہیں اور جن سے افسران تذبذب میں پڑ جاتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ افسران امن، آزادی اور خوف کے بغیر زندگی کے عوامی مطالبے پر توجہ دیں گے اور اپنی پالیسی بدلیں گے۔

ملک کے باہر رہ رہے روس کے کئی اپوزیشن لیڈران نے ووٹرس سے ’یابلوکو‘ کی حمایت کرنے کی اپیل کی تھی۔ ان میں کریملن کے نقاد الیکسی نولین کی اہلیہ یولیا نولنایا اور لیڈر الیا یاشین اور ولادیمیر کارا مرزا شامل تھے۔ نولنایا نے 6 اگست کو ’ٹیلی گرام‘ پر ایک بیان میں کہا کہ ’’میرا ماننا ہے کہ یابلوکو پارٹی کی حمایت کرنا اخلاقی اور سیاسی طور پر درست ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں پارٹی کے جنگ مخالف موقف کا ذکر کیا۔

پیر کو عدالت میں موجود ’یابلوکو‘ کے چیئرمین نکولائی ریباکوف نے پارٹی کو نولنایا اور بیرون ملک رہ رہے کریملن کے دیگر مخالفین کی اس حمایت سے الگ کرنے کی کوشش کی، جسے انہوں نے ’بغیر وجہ کی حمایت‘ قرار دیا۔ ایسا لگتا ہے کہ انہوں یہ کوشش اس لیے کی تاکہ پارٹی کو بیلٹ سے نہ ہٹایا جائے۔ اسی دوران سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ’یابلوکو‘ کی حمایت میں کئی ویڈیوز چھائی رہیں۔ کئی ویڈیوز میں سیاسی نعرے نہیں تھے، بلکہ ان میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سیب پکڑے ہوئے نظر آئے۔ جب ان سے 20-18 ستمبر کے انتخاب کے لیے ان کی ووٹنگ پسند کے بارے میں پوچھا گیا یا پھر وہ سیب کا ذکر کرنے والے روسی گانوں پر ناچتے ہوئے نظر آئے۔

نکولائی ریباکوف نے عدالت کو بتایا کہ پارٹی ان ویڈیوز کے لیے پیسے نہیں دے رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ انہیں پوسٹ کر رہے تھے وہ ’یابلوکو‘ کی حمایت اس لیے کر رہے تھے کیونکہ وہ صرف روس میں رہنا چاہتے ہیں اور مارے نہیں جانا چاہتے۔ ’نیسٹ سنٹر‘ کے سینئر ریسرچ فیلو نکولائی پیتروف نے کہا کہ افسران نے شاید شروع میں ’یابلوکو‘ کو بیلٹ پر رہنے دیا تاکہ روسیوں کو اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا موقع ملے اور ساتھ ہی یہ بھی دکھایا جا سکے کہ پارٹی کو یوکرین پر اپنے موقف کے لیے بہت کم حمایت ملتی ہے۔ واضح رہے کہ ’نیسٹ سنٹر‘ کی بنیاد روس کے جلاوطن ٹائکون اور اپوزیشن لیڈر میخائل خودورکوفسکی نے کی تھی۔

نکولائی پیتروف نے مزید کہا کہ اب کریملن کے سامنے ایک بہت مشکل کام ہے، کم از کم نقصان کے ساتھ اس صورتحال سے باہر نکلنا، کیونکہ پارٹی کو بیلٹ سے ہٹانے کا مطلب اصل میں یہ دکھانا ہوگا کہ وہ ’یابلوکو‘ کے نظریات سے ڈرتے ہیں۔ تجربہ کار لبرل سیاست داں گریگوری یاولنسکی نے کہا کہ ’’عدالت کا فیصلہ ہمارے پلیٹ فارم کی اہمیت کو واضح طور پر بتاتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ امن اور آزادی کے لیے عوام کی آج کی مانگ افسران کے اندازے سے کہیں زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔