جموں و کشمیر حکومت کا بڑا فیصلہ، عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 62 سال کر دی
سپریم کورٹ نے حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت کر کے عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 61/62 سال کرنے کے بارے میں فیصلہ لیں۔

جموں و کشمیر حکومت نے عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 62 سال کر دی ہے۔ قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے محکمہ کی جانب سے جاری سرکاری حکم کے مطابق یہ فیصلہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے لیا گیا ہے۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے ’آل انڈیا ججز ایسوسی ایشن اور دیگر‘ بنام دیگر معاملے (ڈبلیو پی (سی) نمبر 1022/1989) اور اس سے متعلق معاملات پر غور کرتے ہوئے 22 جولائی 2026 اور 5 اگست 2026 کے احکامات کے ذریعہ ریاستی حکومتوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کو ہدایت دی تھی کہ وہ متعلقہ ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت کر کے عدالتی افسران کے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 61/62 سال کرنے کے بارے میں فیصلہ لیں۔
عدالت نے یہ بھی ہدایت دی تھی کہ جہاں بھی اس اضافے پر اتفاق ہو، اسے 31 مارچ 2026 سے نافذ کیا جائے گا۔ اس میں وہ عدالتی افسران بھی شامل ہوں گے، جو اس تاریخ کو یا اس کے بعد ریٹائر ہوئے ہیں، بشرطیکہ اس پر اتفاق ہو اور نافذ ہونے والی شرائط پوری کی جائیں۔ حکم میں کہا گیا کہ ’’ہدایات پر عمل کرتے ہوئے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت کر کے اس معاملے پر غور کیا گیا۔‘‘ رجسٹرار جنرل نے 30 جولائی اور 12 اگست کے خطوط کے ذریعے بتایا کہ فل کورٹ نے 10 اگست کو ہوئی میٹنگ میں ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کرنے کی سفارش کرنے کا فیصلہ کیا، بشرطیکہ افسران 60 سال کی عمر کے بعد بھی کام جاری رکھنے کے لیے فٹ اور اہل پائے جائیں۔
حکم کے مطابق محکمہ خزانہ نے 9 ستمبر کے یو او (غیر رسمی نوٹ) کے ذریعے اپنی رضامندی دی اور وزراء کی کونسل نے 22 ستمبر 2026 کے فیصلے نمبر 146/12/2026 کے ذریعے اس تجویز کو منظوری دے دی۔ سرکاری حکم میں کہا گیا کہ ’’اس لیے اب 31 مارچ 2026 سے ریٹائرمنٹ کی عمر 60 سے بڑھا کر 62 سال کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ منظوری جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ کی جانب سے فٹنس، اہلیت، موزونیت، کارکردگی اور آگے بھی کام جاری رکھنے کی افادیت کے جائزے سے مشروط ہوگی، جبکہ متعلقہ قوانین میں ضروری تبدیلیاں ہائی کورٹ کے ساتھ مشاورت کر کے کی جائیں گی۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
