دیگر ممالک

کیا مغربی ایشیا میں پھر بگڑیں گے حالات؟ بحیرۂ احمر میں حوثیوں نے سعودی عرب کے جہازوں کو بنایا ہدف

حوثی جنگجوؤں نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی سعودی عرب کے فوجی دستوں کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔ سعودی عرب کشیدگی میں اضافہ کر کے ہمارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>حوثی باغی (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘</p></div>

حوثی باغی (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘

 

یمن کے حوثی باغیوں نے بدھ (12 اگست) کو سعودی عرب کے جہازوں کو نشانہ بنایا، جس کی وجہ سے مغربی ایشیا میں صورت حال مزید خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ حوثیوں نے بدھ کو بحیرہ احمر میں ایک فوجی مال بردار جہاز پر حملہ کیا اور سعودی حمایت یافتہ ٹھکانوں پر بھی حملے کیے۔ حوثی کے فوجی ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ ’’باغی گروپ موچا اور مأرب کے علاقوں میں سعودی عرب کے فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس دوران ہتھیاروں کے ڈپو اور کمانڈ سنٹرز کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔ حملے ہدف پر مبنی تھے اور ان میں سعودی شہریوں سمیت درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔‘‘

حوثی جنگجوؤں نے کہا کہ وہ مستقبل میں بھی سعودی عرب کے فوجی دستوں کو نشانہ بنانا جاری رکھیں گے۔ سعودی عرب کشیدگی میں اضافہ کر کے ہمارے ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ اس سے قبل بھی حوثیوں نے آبنائے باب المندب میں ایک تجارتی جہاز پر میزائل حملہ کیا تھا، جس میں کم از کم 6 لوگ مارے گئے تھے۔ یمن کی حکومت نے اس حملے کا ذمہ دار حوثی باغیوں کو ٹھہرایا تھا۔ اسی دوران یمن کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ صدارتی قیادت کونسل کے صدر رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ حکومت حوثیوں کی کارروائیوں کا جواب دے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ اس گروپ سے لڑائی ختم کرنے، ہتھیار ڈالنے اور ملک کے سیاسی عمل میں شامل ہونے کی اپیل بھی کرتے ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ یمن کی جنگ دوبارہ بھڑکنے کے دہانے پر ہے۔ حوثیوں نے سعودی عرب کے خلاف سمندری ناکہ بندی کا اعلان کر دیا ہے۔ دوسری جانب سعودی عرب نے بھی گزشتہ دنوں یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔ واضح رہے کہ حوثی باغی ایران کے حمایت یافتہ ہیں اور ان کا سعودی عرب کے ساتھ تنازعہ ہے۔ تازہ ترین تنازعہ گزشتہ 13 جولائی کو تب بھڑکا جب کچھ حوثی لیڈران ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد ایران سے یمن لوٹ رہے تھے۔ لیکن یمن کی سعودی حمایت یافتہ حکومت نے انہیں راجدھانی صنعا کے ہوائی اڈے پر اترنے کی اجازت نہیں دی، جس سے فریقین کے درمیان دوبارہ کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔