حوثی کی ’انٹری‘ سے جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا خطرہ، اسرائیل پر یمن سے داغے گئے میزائل

لبنان اور عراق میں موجود ایران کے شیعہ اتحادی پہلے ہی اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب حوثی کی مداخلت کے بعد ’باب المندب‘ کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ایران-اسرائیل جنگ، تصویر اے آئی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران اور امریکہ-اسرائیل جنگ کا دائرہ وسیع ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اسرائیلی فوج نے 28 مارچ کی صبح بتایا کہ اس نے یمن سے داغے گئے میزائل کی شناخت کر لی ہے۔ واضح رہے کہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے جب یمن کی جانب سے کوئی میزائل داغا گیا ہے۔ یمن کے حوثی نے غزہ جنگ کے دوران حماس اور فلسطینیوں کی حمایت میں بحیرہ احمر میں اسرائیلی اور امریکی سمندری جہازوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی تھی۔

اسرائیل میں یہ میزائل اس وقت داغے گئے، جب ایک روز قبل ہی ایران کے حمایت یافتہ حوثی نے کہا تھا کہ اگر ایران اور مزاحمتی بلاک کے خلاف کارروائی جاری رہتی ہے تو وہ بھی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔ حالانکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کی یہ دخل اندازی کس طور پر ہوگی۔ رپورٹس کے مطابق حوثی نے اسرائیل کی جوہری تنصیب ’ڈیمونا‘ پر بیلسٹک میزائل داغا ہے۔


حوثی کے اس جنگ میں شامل ہونے پر پورے خطے میں ایک بڑے تنازعہ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ خدشہ اس لیے بھی زیادہ ہے کہ حوثی میں یمن کی سرحدوں سے کافی دور واقع ٹھکانوں پر حملہ کرنے اور بحیرہ عرب و بحیرہ احمر کے آس پاس کے سمندری راستوں کو بند کرنے کی صلاحیت ہے۔ 7 اکتوبر 2023 کو اسرائیل پر ہوئے حملے کے بعد غزہ میں حماس کی حمایت میں انہوں نے ایسا پہلے بھی کیا تھا۔

لبنان اور عراق میں موجود ایران کے شیعہ اتحادی پہلے ہی اس جنگ میں شامل ہو چکے ہیں۔ اب حوثی کی مداخلت کے بعد ’باب المندب‘ کے بند ہونے کا خدشہ ہے۔ ’باب المندب‘ دنیا کے سب سے اہم سمندری ’چوک پوائنٹس‘ میں سے ایک ہے، جو یمن (جزیرہ نما عرب) اور جبوتی/ایریٹریا (ہارن آف افریقہ) کے درمیان واقع ہے۔ یہ بحیرہ احمر کو خلیج عدن اور بحر ہند سے جوڑتا ہے۔ یہ نہر سویز تک پہنچنے کا واحد سمندری راستہ ہے اور دنیا کا تقریباً 15-10 فیصد سمندری تجارت اسی روٹ سے ہوتا ہے۔ قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز پر ایران نے پہلے ہی پابندی عائد کر رکھی ہے، اگر حوثی اسے بھی بند کر دیتے ہیں تو دنیا میں ایک بڑا معاشی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔