
تصویر/آئی اے این ایس
امریکی ریاست انڈیانا میں شدید بارش کے بعد آئے سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی ہے۔ افسران کے مطابق ریاست میں 4 سال کے بچے سمیت 6 لوگوں کی موت ہو گئی ہے، جبکہ کئی علاقوں میں معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اسے گزشتہ 3 دہائیوں میں ریاست کے شدید ترین سیلابوں میں ایک بتایا جا رہا ہے۔ انڈیانا اسٹیٹ ایمرجنسی آپریشن سنٹر نے کہا کہ مرنے والوں میں 3 خواتین اور 2مرد بھی شامل ہیں۔ ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ڈیلاویئر کاؤنٹ میں 2 اور جیننگس، لیک، پورٹو اور لاپورٹ کاؤنٹی میں ایک کی موت کی خبر ہے۔
’اے بی سی نیوز‘ کی رپورٹ کے مطابق افسران نے شروع میں 5 اموات کی خبر دی تھی جس کے بعد ریاست کے ہوم لینڈ سیکورٹی ڈپارٹمنٹ نے ہفتے کے روز بعد میں چھٹی موت کی تصدیق کی۔ افسران نے کہا کہ طوفان 11 اگست کو انڈیانا سے ٹکرانا شروع ہوا تھا۔ مسلسل ہوئی موسلا دھار بارش کی وجہ سے ندیوں کی سطح آب تیزی سے بڑھ گئی اور کئی سڑکیں و رہائشی علاقے پانی میں ڈوب گئے۔ ہنگامی خدمات کو متاثرہ علاقوں میں راحت اور بچاؤ مہم چلانی پڑی۔ بڑی تعداد میں لوگوں کو محفوظ مقاما پر پہنچایا گیا ہے۔
انڈیانا کے گورنر نے مائک براؤن نے جمعہ (14 اگست) کو صدارتی ہنگامی حالت کا اعلان کیا۔ ہفتہ (15 اگست) کو انہوں نے ایک بیان جاری کر بتایا کہ وفاقی حکومت نے مدد کا وعدہ کیا ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’میں نے آج صدر ٹرمپ سے انڈیانا میں آئے شدید طوفان اور سیلاب کے بارے میں بات کی اور انہوں نے کہا کہ وہ صدارتی ہنگامی حالت کے اعلان کی ہماری درخواست منظور کرتے ہیں۔ میں صدر ٹرمپ کا شکرگزار ہوں کہ انہوں نے مدد کا وعدہ کیا جس کی ہمیں ضرورت ہے۔‘‘
افسران کے مطابق کچھ علاقوں میں 2 دنوں کے دوران 11 انچ سے زائد بارش درج کی گئی۔ اس سے وائٹ ریور سمیت کئی ندیوں کی سطح آب خطرناک حد تک پہنچ گئی۔ ڈیلاویئر کاؤنٹی میں ہی سینکڑوں لوگوں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے نکال کر محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا۔ انڈیاناپولیس میں وائٹ ندی ان آبی گزرگاہوں میں سے ایک تھی جو گزشتہ خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی تھی جس کے باعث خطرناک سیلاب آ گیا۔ انڈیاناپولس کے میئر جو ہاگ سیٹ نے کہا کہ یہ علاقہ 30 سالوں میں سب سے شدید سیلاب کا سامنا کر رہا ہے۔ نیشنل ویدر سروس نے بتایا ہے کہ کچھ علاقوں میں 2 دنوں کے اندر 280 ملی میٹر (11 انچ) سے زیادہ بارش ہوئی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ سیلاب کی وجہ سے بجلی کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ہزاروں گھروں اور کاروباری اداروں میں بجلی گل ہو گئی ہے، جبکہ کئی مقامات پر سڑکوں کا رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔ انتظامیہ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بلا ضرورت گھروں سے باہر نہ نکلیں اور سیلابی پانی میں گاڑیاں نہ چلائیں۔ امدادی ٹیمیں کشتیوں اور دیگر آلات کی مدد سے متاثرہ علاقوں میں پھنسے ہوئے لوگوں کو نکال رہی ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقلی سے متعلق ہدایات پر عمل کرنے اور ایمرجنسی الرٹس پر نظر رکھنے کو کہا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آنے والے وقت میں کچھ علاقوں میں مزید بارش کا امکان برقرار ہے۔ ایسی صورتحال میں افسران نے ندیوں اور پانی سے بھرے علاقوں سے دور رہنے کی وارننگ دی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔