دیگر ممالک

معاہدے پر اتفاق نہ ہونے کے بعد امریکہ نے کناڈا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا

امریکہ کی جانب سے 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی امریکہ پر اتنا ہی ٹیرف عائد کرنے کا عہد کیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>

تصویر اے آئی

 

امریکہ اور کناڈا کے درمیان تجارتی معاہدے پر اتفاق نہیں ہو سکا ہے۔ دونوں ممالک کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے، جس کے باعث آج سے امریکہ نے 20 ارب ڈالر سے زائد مالیت کی کناڈا کی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ امریکہ کی جانب سے ٹیرف عائد کیے جانے کے جواب میں کناڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے بھی امریکہ پر اتنا ہی ٹیرف عائد کرنے کا عہد کیا ہے۔ وزیر اعظم کارنی نے کہا کہ حالیہ ہفتوں میں ہم نے امریکہ کے ساتھ کناڈا کے لیے دنیا کا بہترین معاہدہ کرنے کی سمت میں تیزی سے پیش رفت کی تھی، لیکن یہ کناڈا کے عوام کی توقعات کے مطابق اہداف پورے نہیں کر سکا۔ کارنی نے مزید کہا کہ کناڈا بھی امریکہ کے نئے ٹیرف کا ڈالر کے بدلے ڈالر کے حساب سے جواب دے گا۔

دوسری جانب خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے جمعہ کو کہا تھا کہ کناڈا نے اس ہفتے کے آغاز میں طے شدہ شرائط کو آخری شکل دینے سے انکار کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اسٹیل اور ایلومینیم جیسے شعبوں پر پر ٹیرف کم کرنے کی امریکی تجاویز کے باوجود کناڈا نے اسے مسترد کر دیا۔ کناڈ کے وزیر اعظم کارنی نے جواب دیا کہ امریکہ کی طرف سے تجویز کردہ شرائط میں آخری وقت میں کی گئی تبدیلیاں غیر منصفانہ، نقصان دہ تھیں اور کسی بھی معاہدے کی ساکھ پر سوال کھڑے کرتی تھیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت آنے والے دنوں میں کینیڈین تاجروں اور کاروباروں کے لیے اضافی امداد کا اعلان کرے گی۔

واضح رہے کہ کناڈا امریکہ کی جانب سے آٹوموبائل، اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد ٹیرف سے راحت کا مطالبہ کر رہا ہے، جس نے اس کی معیشت پر دباؤ ڈالا ہے، ملازمتوں کے نقصان میں اضافہ کیا ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کے کبھی مضبوط تجارتی تعلقات میں کشیدگی پیدا کی ہے۔ کارنی نے بار بار کناڈا کے عوام کو خبردار کیا ہے کہ کسی بھی انفرادی تجارتی معاہدے کے نتائج کا پروہ کیے بغیر، امریکہ کے ساتھ تعلقات میں ایک مستقل تبدیلی آ چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک کو اپنے تجارتی تعلقات میں تنوع پیدا کرنا چاہیے اور امریکہ پر اپنا انحصار کم کرنا چاہیے، جو اس وقت کناڈا کی مجموعی برآمدات کا تقریباً 70 فیصد ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ سال دونوں ممالک کے درمیان 880 ارب ڈالر مالیت کی اشیاء اور خدمات کی تجارت ہوئی تھی۔ لیکن اب اس ٹیرف تنازعہ کے باعث درآمدات اور برآمدات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔ اگرچہ اس معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 3 دن کی اضافی مہلت دی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود یہ معاہدہ مکمل نہیں ہو سکا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔