دیگر ممالک

جنگ بندی کے درمیان امریکہ نے ایران پر کیا حملہ، آبنائے ہرمز کے قریب میزائل لانچر اور جہاز تباہ

سینٹ کام کے ترجمان ٹموتھی ہاکنس نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو ایرانی فوج سے خطرہ تھا، اس لیے جنوبی ایران میں کارروائی کی گئی۔ امریکی حملوں میں ان مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے میزائل داغی جا سکتی تھی

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی</p></div>

آبنائے ہرمز اور ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر اے آئی

 

امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی نافذ ہے، پھر بھی رہ رہ کر حملوں کی خبر سے کشیدگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ جنگ بندی سے متعلق جاری مذاکرہ کے درمیان پیر کے روز امریکی فوج نے جنوبی ایران میں آبنائے ہرمز کے قریب ایران کے میزائل لانچر ٹھکانوں اور جہازوں پر حملہ کر دیا۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی اپنی حفاظت میں کی گئی ہے۔

Published: undefined

سینٹ کام کے ترجمان ٹموتھی ہاکنس نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو ایرانی فوج سے خطرہ تھا، اس لیے جنوبی ایران میں کارروائی کی گئی۔ امریکی حملوں میں ان مقامات کو ہدف بنایا گیا جہاں سے میزائلیں داغی جا سکتی تھیں۔ اس کے علاوہ ان ایرانی جہازوں پر بھی حملہ ہوا جو سمندر میں مائنس بچھانے کی کوشش کر رہی تھیں۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوران صبر سے کام لے رہا ہے، لیکن اپنے فوجیوں کی حفاظت کے لیے ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔

Published: undefined

اس سے قبل بھی جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان کئی بار کشیدگی اور فوجی کارروائی ہو چکی ہے۔ مئی کے آغاز میں بھی امریکہ نے ایران کے فوجی ٹھکانوں پر حملہ کیا تھا۔ امریکہ کا الزام تھا کہ ایرانی فوج نے آبنائے ہرمز سے گزر رہے امریکی جنگی جہازوں پر بغیر کسی اکساوے کے میزائل، ڈرون اور چھوٹی کشتیوں سے حملے کیے تھے۔ اس کے بعد امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی فوج کو جوابی کارروائی کی اجازت دی تھی۔

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک اہم بیان بھی دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایران کے پاس موجود افزودہ شدہ یورینیم کو یا تو امریکہ کے حوالے کرنا ہوگا، یا پھر اسے تباہ کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یورینیم کو ایران میں ہی ختم کیا جا سکتا ہے یا پھر کسی دوسری جگہ محفوظ طریقے سے لے جا کر تباہ کرنا مناسب ہوگا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا ہے کہ اس پورے عمل کی نگرانی ایٹامک انرجی کمیشن یا کسی یکساں ادارہ کی موجودگی میں ہوگی۔ گزشتہ ہفتہ بھی ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کو امریکہ یہ یورینیم اپنے پاس رکھنے نہیں دے گا۔ امریکی افسر اب ’نو ڈَسٹ، نو ڈالرس‘ کا استعمال کر رہے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جب تک ایران تقریباً 1000 پاؤنڈ (تقریباً 453 کلو) افزودہ یورینیم نہیں ہٹاتا، تب تک اسے کسی معاشی راحت یا معاہدہ کا فائدہ نہیں ملے گا۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined