دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ منظور، پرہلاد جوشی بنے نئے وزیر تعلیم

دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ہفتہ کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبا اور نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مظاہرین نے اسے اپنی طویل تحریک کی پہلی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے جشن منایا۔

<div class="paragraphs"><p>پرہلاد جوشی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i

وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد پرہلاد جوشی کو وزارتِ تعلیم کی اضافی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ صدر جمہوریہ دروپدی مرمو نے ہدایت دی ہے کہ کابینہ وزیر پرہلاد جوشی کو وزارت تعلیم کا چارج سونپا جائے۔ راشٹرپتی بھون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ فوری طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ پرہلاد جوشی پہلے ہی مرکزی حکومت میں امور صارفین، خوراک اور عوامی تقسیم کے محکمہ کی ذمہ داری سنبھال رہے ہیں۔ اب وہ وزارت تعلیم کے کام کاج اور پالیسی سے متعلق فیصلوں کی نگرانی بھی کریں گے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے پس منظر سے آنے والے پرہلاد جوشی کرناٹک کے دھارواڑ سے 5 بار کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ انہیں وزیر اعظم مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کا قریبی بھی مانا جاتا ہے۔


مرکزی وزیر پرہلاد جوشی نے 2 روز قبل، 23 جولائی کو لوک سبھا میں حزب اختلاف کے قائد راہل گاندھی پر نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا الزام لگایا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ نریندر مودی کی قیادت والی حکومت ملک کے ہر طالب علم کا مستقبل محفوظ بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ جب بھی سوالیہ پرچے لیک ہونے کے واقعات سامنے آئے، مرکزی حکومت نے فوری کارروائی کی اور ذمہ دار افراد کے خلاف سخت اقدامات کیے۔

واضح رہے کہ دہلی کے جنتر منتر پر نیٹ پیپر لیک معاملہ میں طلبا و نوجوان بڑی تعداد میں گزشتہ کئی ہفتوں سے مظاہرہ کر رہے تھے۔ وہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے، نیٹ تنازعہ کے بعد مبینہ طور پر خودکشی کرنے والے امیدواروں کے اہل خانہ کو ایک ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے اور 20 مارچ کو ’پارلیمنٹ چلو‘ مارچ میں شامل مظاہرین کے خلاف درج تمام ایف آئی آر واپس لیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تینوں ہی مطالبات حکومت نے مان لیے ہیں اور جنتر منتر پر جاری مظاہرہ ختم کیے جانے کا اعلان بھی ہو گیا ہے۔


آج مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفیٰ کے بعد ہفتہ کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کر رہے طلبا اور نوجوانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مظاہرین نے اسے اپنی طویل تحریک کی پہلی بڑی کامیابی قرار دیتے ہوئے جشن منایا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک وزیر کا استعفیٰ نہیں، بلکہ تعلیمی نظام میں جوابدہی طے کرنے کی سمت میں پہلا اہم قدم ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تحریک صرف استعفیٰ تک محدود نہیں ہے، بلکہ ملک کے تعلیمی نظام میں وسیع پیمانے پر اصلاحات اور نظام امتحان کو شفاف بنانے تک جاری رہے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔