ایران آبنائے ہرمز میں پھنسے کمرشیل جہازوں کو سمندری، تکنیکی اور طبی امداد فراہم کرنے کو تیار

’آئی آر این اے‘ کے مطابق سمندری اتھارٹی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر جہاز ایندھن کی فراہمی، خوراک، طبی امداد، صحت کی سہولیات اور مجاز مرمتی سامان جیسے کئی خدمات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آبنائے ہرمز (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہوگی۔ وہ آبنائے ہرمز اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد ایران نے بھی کہا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کمرشیل جہازوں کو وہ سمندری، تکنیکی اور طبی خدمات دینے کو تیار ہے۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’آئی آر این اے‘ کے مطابق سمندری اتھارٹی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اعلامیہ جہازوں کے کمانڈروں کے لیے جاری کیا گیا ہے۔ اس کا مقصد سمندری تحفظ کو یقینی بنانا، جہازوں کی آپریشنل صلاحیتوں کو بہتر کرنا اور عملے کے تحفظ کو یقینی بنانا بتایا جا رہا ہے۔

اتھارٹی نے کہا کہ یہ پیغام ایرانی بندرگاہوں کے بحری مواصلاتی ذرائع کے ذریعہ باقاعدہ طور پر نشر کیا جا رہا ہے۔ یہ پیغام خطے میں چلنے والے تمام جہازوں، خاص طور پر ایران کی سمندری حدود اور لنگر انداز ہونے والے علاقوں کے قریب موجود جہازوں کے لیے ہے۔ ’آئی آر این اے‘ کے مطابق سمندری اتھارٹی نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر جہاز ایندھن کی فراہمی، خوراک، طبی امداد، صحت کی سہولیات اور مجاز مرمتی سامان جیسے کئی خدمات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔


پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن نے اپنی ریگولیٹری ذمہ داریوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہل آبنائے ہرمز میں محفوظ اور پائیدار بحری آمد و رفت کو یقینی بنانے کے لیے ایران کے عزم کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق اعلان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ پیغام خطہ کے میری ٹائم کمیونیکیشن نیٹورک اور وی ایچ ایف سسٹم کے ذریعہ مسلسل 3 دنوں تک روازنہ 3 مرتبہ نشر کیا جائے گا۔ ایڈوائزری میں جہازوں کے کپتانوں اور مالکان سے کہا گیا ہے کہ وہ خدمات حاصل کرنے اور آپریشنل ضروریات کی معلومات فراہم کرنے کے لیے نزدیکی ایرانی بندرگاہوں کے ویسل ٹریفک سروس (وی ٹی ایس) مراکز یا مقامی نمائندوں سے وی ایچ ایف چینل کے ذریعہ رابطہ کریں۔

واضح رہے کہ ایران کی جانب سے یہ اعلان ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ٹرمپ نے منگل کو کہا تھا کہ ’پروجیکٹ فریڈم‘ کو عارضی طور پر روکا جائے گا۔ امریکہ کے اس قدم کا مقصد خلیجی خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان آبنائے ہرمز میں پھنسے کمرشیل جہازوں کی آمد و رفت میں مدد کرنا اور ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کو برقرار رکھنا تھا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر کہا کہ یہ فیصلہ پاکستان اور دیگر ممالک کی درخواست پر لیا گیا ہے۔


ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف فوجی مہم میں امریکہ کو بڑی فوجی کامیابی ملی ہے اور ایرانی نمائندوں کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی سمت میں پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ یہ آپریشن اس لیے روکا گیا ہے تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دے کر اس پر دستخط کیے جا سکتے ہیں یا نہیں۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔